ساتویں کلاس،عمر کا نازک موڑ – محمداسعدالدین




اگر آپ پیرنٹ ہیں اور آپ کا بیٹا یا بیٹی ساتویں کلاس میں پڑھتے ہیں ……. تو سمجھ لیجئے کہ آپ کے دل کے ٹکڑے خطرے کی باڈر لائن پر ہیں ……..! ذرا رکئے ، یہ بات کسی شام کے اخبار یا تھرڈ کلا س چینل کی زوں زوں کرتی ، بلڈ پریشر ہائی کرنے والی بریکنگ نیوز مت سمجھ لیجئے بلکہ یہ ایسا تکلیف دہ سچ ہے جس سے پیرنٹس کی اکثریت بے خبر اور بے فکر ہے .
پہلے ہمارا بھی یہی خیال تھا کہ پیرنٹس کو اپنے بچوں کے ایشوز کا پتا نہ ہو ، یہ ہو نہیں سکتا ۔۔۔۔۔ ماں باپ کو اپنی اولاد کی ہر مشکل ہر ضرورت کا پتا ہوتا ہے ۔ لیکن اصل حقیقت اس وقت ظاہر ہوئی جب “خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے بچوں پر اثرات ” کے حوالے سے ریسرچ کرنے والے ادارے “فارایور ” کی اپنی نوعیت کی بالکل مختلف اورمشکل ریسرچ کے دوران کرائے گئے . سروے کی تفصیلات سامنے آئیں ۔ یہ سروے کراچی کے ساتھ مختلف علاقوں میں رہائشی ساتویں کلاس کے اسٹوڈنٹس کے بارے میں کروایا گیا …….. جس میں لڑکے لڑکیاں جبکہ کچھ اسٹوڈنٹس آٹھویں کلاس کے بھی شامل تھے. سروے کی فائینڈنگس سے پیرنٹس بہت کچھ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری سوسائٹی ، ہمارے گھروں کے بچے ، بچیاں کس طرح خطرے کی باڈر لائن پر ہیں . اب ذرا دل تھام کے یہ تصویر دیکھ لیں ۔
فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال سے لڑکے ، لڑکیوں میں ہارمون کی تیزی سے تبدیلی اور وقت سے پہلے adolescence(بلوغت )…..
سوشل میڈیا کے استعمال کی نشہ کی حد تک عادت …..
پورن ویب سائٹس وزٹ کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ …..
لڑکے ، لڑکیوں کی ایک دوسرے سے بے تکلف دوستی (بوائے فرینڈ ، گرل فرینڈ ٹرینڈ ) عام ہونا ……
جنسی جذبات کی تسکین کے رجحان میں شدت ……
ذاتی معاملات میں ماں باپ سے زیادہ دوستوں پر بھروسہ کرنا ، انہیں رازدار بنا کر نہایت ذاتی باتیں شیئر کرنا …….
ماں باپ سے ذہنی اور جذباتی لحاظ سے مسلسل دوری …….
آپ نے سروے کے حقائق اوربچوں کے رویوں کے بارے میں پڑھ لیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ سر پر منڈلاتے اس خطرے کا حل کیا ہے …..؟ یہ انشاللہ جلد پڑھیے….

اپنا تبصرہ بھیجیں