ٹین ایجرز بچیون کے ایموشنل کرائسز – محمد اسعد الدین




ہماری ٹین ایجر بچیاں ، بیٹیاں کس ایموشنل کرائسز سے گزررہی ہیں ؟ ذہنی الجھنوں کی وجہ سے ان کے رویوں ،عادات میں کیا تبدیلی آرہی ہے ؟ کیا کسی نے اس کے بارے میں سوچا،کیا کسی نے غور کیا کہ بچیوں کے مسائل اگر اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو اس کا انجام کیا ہوگا ؟
خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے بچوں پر اثرات کے حوالے سے ”فارایور“کی کراچی میں ٹین ایجر بچوں ، بچیوں کے رویوں ،عادتوں اور روٹین کے حوالے سے کی گئی ریسرچ کی ”فیکٹس ،فائنڈنگس“جب سامنے آئیں تو اندازہ ہوا کہ بارہ ،تیرہ سال کی ان بچیوں کے ماں باپ خاص طور پر ماﺅں کو اندازہ ہی نہیں کہ کیسی صورتحال ہے جو ان کے لیے مصیبت بننے والی ہے ،مائیں اسے پڑھ لیں ،سمجھ لیں ،کچھ بندوبست کرلیں ورنہ جو بویا ہے وہ کاٹنے کے لیے تیار ہوجائیں ۔۔۔۔۔
فیلڈ اسٹڈیز ، منتخب سروے اور مشاہدے سے بچیوں کے بارے میں جو چیزیں سامنے آئیں ۔۔۔
1۔وقت سے پہلے بلوغت
2۔ہارمونز میں تیزی سے تبدیلی کی وجہ سے مزاج میں مسلسل اتار چڑھاﺅ۔
3۔اپنے گھر والوں خاص طور پر ماں پر مکمل بھروسہ کرنے کے بجائے ہم عمر کزنز ،اسکول کی دوستوں کو اپنا رازدار بنانا ،نہایت ذاتی باتیں ان سے شیئر کرنا ۔
4۔موبائل کا خاصا استعمال ۔
5۔ڈیجیٹل میڈیا ،ٹی وی ڈراموں سے متاثر ہو کر فیشن کے معاملے میں حساس ہونا ۔
6۔روایتی سوسائٹی ہونے کی وجہ سے بظاہر بے خبر لیکن گھر میں نیٹ ،موبائل کے آزادانہ استعمال اور قریبی دوستوں کی وجہ سے porn sites وزٹ کا معمول ۔
7۔وقت سے پہلے بلوغت کی وجہ سے opposite genderکی طرف اٹریکٹ ہونا ۔
8۔کسی لڑکے کے اچھے لگنے /پسند آنے پر گرل فرینڈ بننے کی شعوری اور لاشعوری کوشش۔
9۔اسکول فنکشنز اور کوچنگ سینٹرز میں ایکسٹرا کلاسز کے نام پر ڈیٹس کے لیے جانا ۔
10۔وقت سے پہلے اور پیرنٹس کی مرضی کے خلاف اپنے لائف پارٹنر کی تلاش ۔
11۔ سب سے زیادہ خطرناک معاملہ لڑکوں کی طرف سے ٹریپ کیے جانے کے بعد کبھی ارادے کے بغیر اور کبھی ارادے کے ساتھ جنسی تجربے سے گزرنا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں