بچوں کی تربیت – محمد اسعد الدین




بچوں کی تربیت ، ان کے رویوں ، عادات اور بہت سے ایشوز میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بات اب یہاں تک آگئی کہ ماں باپ کو پیرنٹنگ سکھانے کے لیے بہت سے ادارے بن گئے……. کئی ایکسپرٹس ، ٹرینرز بچوں کو اچھا اور سچا بنانے کے لیے مختلف فارمولوں کے ساتھ میدان میں آگئے، اس کے علاوہ ورکشاپس ، سیمینار ز، لیکچرز اور پتا نہیں کون کون سے پروگرام ہونے لگے .
لیکن ……! کیا وجہ ہے کہ ساری بھاگ دوڑ، کوششوں کا جو رزلٹ نظر آنا چاہیے وہ کیوں نہیں آرہا ؟؟ بچوں کے رویے سوسائٹی کے لیے چیلنج کیوں بنتے جارہے ہیں ؟؟ ہمارے بچے باغی کیوں ہورہے ہیں ؟؟ یہ مجرمانہ سرگرمیاں کہاں سے سیکھ رہے ہیں؟؟ فارایور نے ریسرچ کے دوران ان سارے ایشوز اور ان کی وجوہات جاننے کے لیے کئی پیرنٹس سے بات کی . سروے کروائے ، مختلف زاویوں سے فیکٹس اور فائینڈنگس جمع کیں ، بچوں کے مسائل کے حوالے سے سوسائٹی میں موجود کانسپٹس کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو اندازہ ہوا کہ 90 فیصد سے زائد پیرنٹس کو علم ہی نہیں کہ بچوں میں بگاڑ کی وجہ،بچے کی ابتدائی تربیت گاہ ، ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ یعنی ”خاندان“ کی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ ہے .
اس حوالے سے دو چار نہیں …… درجنوں بلکہ سینکڑوں اسٹڈیز موجود ہیں کہ بچے کی ”بیسک لرننگ“ ماں کی گود اور ٹریننگ گھر کے ماحول میں ہوتی ہے . لیکن جب گھر، خاندان ہی سوکھے پتوں کی طرح بکھرنے لگے تو کیسی تربیت ، کہاں کی تربیت ؟ اب ذرا حوصلہ کریں اور آنکھیں کھول کردیکھ لیں کہ ہماری سوسائٹی میں بچوں کے ابتدائی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ یعنی خاندان کے ٹوٹنے بکھرنے کی اسپیڈ کیا ہے۔
کراچی کی فیملی کورٹس اور دیگر مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق روشنیوں کے شہر میں 2005سے 2008ء تک 64800 طلاقیں ہوئیں ، 2009ء سے 2012ء تک 72500 رشتے انجام کو پہنچے . 2013ء میں 5173 خاندان ٹوٹ گئے . 2018ء میں ساڑھے نو ہزار کے قریب شوہر بیوی …… ایک دوسرے سے جان چھڑانے کے لیے عدالت پہنچے. اب گزشتہ سوا سال میں کراچی کے چار اضلاع کی فیملی کورٹس میں 14943 جوڑے طلاق ، خلع اور بچہ حوالگی کے سلسلے میں ایک دوسرے کے دشمن بن کر ججز کے سامنے کھڑے ہوئے۔
ایک اوراسٹڈی کے مطابق گزشتہ دس برس میں چائلڈ کسٹڈی کیسز میں 110فیصد اضافہ ہوا، یہ اعداد وشمار کی صرف ایک جھلک ہے . ابھی بہت سا ڈیٹا موجود ہے جو باری باری شیئر کیا جاتا رہے گا ۔ جب گھر کے بڑوں کا ، بچوں کے پیرنٹس کا آپس میں یہ معاملہ ہوتو بچوں کا کیا بنے گا ؟؟ اس سوال پر غور کیجئے …… ممکن ہو تو اپنی رائے بتایئے . باقی فائینڈنگس کے لیےہمارا تک انتظار کیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں