والدین اپنی عینک فوراً تبدیل کرلیں – محمد اسعد الدین




!!!پیرنٹس اپنی عینک فوراً تبدیل کرلیں ، اس سے پہلے کہ ایکسیڈنٹ ہو جائے اور نقصان آپ کے بچوں کا ہو
عینک بدل لیں ؟ ایکسیڈنٹ ؟ نقصان؟ کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مطلب یہ کہ چھوٹے اور ٹین ایجرز بچوں کے امی ابو کو اس وقت بہت پریشانی ہوتی ہے . جب وہ بچے کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں ، لیکن کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ کیسے سمجھائیں ۔۔۔۔ کبھی ایک طریقہ استعمال کرتے ہیں کبھی دوسرا فارمولہ ، جب دیکھا کہ کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تو کوئی اور ترکیب اپلائی کرتے ہیں، اس چکر میں پیرنٹس بچے سے ناراض اور بچہ پریشان رہتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟اور پیرنٹس اس مسئلے کو کیسے حل کریں؟؟

پہلی بات : پیرنٹس ایک بات تو سمجھ لیں،بلکہ اچھی طرح حفظ کرلیں کہ وہ اپنے بچے کو کچھ سکھانا، سمجھانا چاہ رہے ہیں تو ان کے دور سے بچے کے موجودہ وقت تک 30۔25سال گزر گئے۔

دوسری بات: گزرے ہوئے وقت میں کلچر، ٹرینڈ، لائف اسٹائل بہت بدل گیا خاص طور پر ٹیکنالوجی۔
تیسری اور اہم بات جب بہت سی چیزیں تبدیل ہوئیں تو لوگوں کے BEHAVIOR ، پسند ،نا پسند کے اسٹینڈرڈز بھی بدل گئے ، جس کی وجہ سے بچوں کو کچھ سکھانے، سمجھانے کی، اسٹریٹجی اور اسٹائل بھی پرانے والے نہیں رہے۔

چوتھی بات : پیرنٹس ہر وقت ”ہمارے ٹائم میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا“جتنا جلد دماغ سے یہ بات نکال دیں،اتنا اچھا ہے۔

پانچویں بات : پیرنٹس بچے کو جو بتانا، سکھانا چاہ رہے ہیں، اس کے لیے پہلے اپنے آپ کو صرف ”اپ ڈیٹ“نہیں ”اپ گریڈ“بھی کرلیں، یعنی آج کے دور میں استعمال ہونے والے ”جدید ٹولز“اور انہیں استعمال کرنے کی ٹیکنیک بھی سیکھ لیں۔

آخری بات : فار ایور کی ریسرچ بتاتی ہے کہ:اگر پیرنٹس بچوں کی تربیت کے حوالے سے صورتحال کو دیکھنے، سمجھنے کے لیے اپنی عینک تبدیل نہیں کریں گے اور پرانے لینس سے ہی کام چلانے کی کوشش کریں گے تو امکان نہیں % 100یقین ہے بچے آگے ہوں گے، امی ابو پیچھے پیچھے اورایکسیڈنٹ ہو کر رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں