پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود – قدسیہ ملک




الحمدللہ …….! آیا صوفیہ میں 86 سال بعد دوبار اذان بلند ہوئی اور اسےمیوزیم سےمسجد میں بدل دیا گیا ہے ۔ 1930ء خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 1930ء کی دہائی میں آیا صوفیہ کو جمہوری ترکی میں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ۔ چوتھی صدی عیسوی کے دوران یہاں تعمیر ہونے والے گرجے کے کوئی آثار اب موجود نہیں.

پہلےگرجے کی تباہی کے بعد قسطنطین اول کے بیٹے قسطنطیس ثانی نے اسے گرجا گھرکی صورت میں تعمیرکیا . تاہم 532ء میں یہ گرجا بھی فسادات و ہنگاموں کی نذر ہوا۔ آیا صوفیہ متعدد بار زلزلوں کا شکار ہوا ۔ 558ء میں اس کا گنبد گرگیا اور 563ء میں اس کی جگہ دوبارہ لگایا جانے والا گنبد بھی تباہ ہوگیا ۔ 989ء کے زلزلے میں بھی اسے نقصان پہنچا۔1453 ء میں قسطنطنیہ کی عثمانی سلطنت میں شمولیت کے بعد آیاصوفیہ کو ایک مسجد بنادیا گیا ۔ سلطان محمد فاتح نےاسےمسجد بنایا تھا، پھر خلافت عثمانیہ کےخاتمہ کےبعد کمال اتاترک نادان نے اسے مسجد سےمیوزیم میں تبدیل کردیا تھا ۔ دہشت گرد ریاست اسرائیل کےوزیر اعظم نیتن یاہو کے بیٹے جس نے حال ہی کہا ہے کہ مجھے آیا صوفیا کے ساتھ مینار پسند نہیں- ہم جلدقسطنطینہ کو فتح کریں گے- کونسل آف اسٹیٹ نے صوفیہ کو مسجد سے ایک میوزیم میں تبدیل کرنے سے متعلق 24 نومبر 1934 ء کے کابینہ  کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

کونسل آف اسٹیٹ کے مطابق آیا صوفیہ فاتح سلطان  مہمت  خان ٹرسٹ کی ملکیت ہے  جسے مسجد کے طور پر عوام کی خدمت کے لیے پیش کیا گیا تھا ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آیا صوفیہ ٹرسٹ کی دستاویز میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ آیا صوفیہ کو مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ آیا صوفیا کے دروازے مقامی و غیر ملکی، مسلم و غیر مسلم کے لیے کھلے رہیں گے۔ صدر ایردوان نے اسٹیٹ کونسل کے فیصلے کے ساتھ میوزیم کی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ سے مسجد کے طور پر استعمال کے معاملے پر قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنی نوع انسان کا ورثہ آیا صوفیا اپنی نئی حیثیت کے ساتھ ہر کسی سے بغلگیر ہونے، کہیں زیادہ مخلصانہ ماحول کے ساتھ اپنے وجود کو برقرار رکھے گا۔ ہر کسی کو ترکی کے عدالتی و کاروائی عناصر کی جانب سے لیے گئے فیصلے کا احترام کرنے کی دعوت دینے والے ایردوان کا کہنا تھا کہ اپنے نظریے اور سوچ  سے ہٹ کر کوئی بھی مؤقف اور بیان ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

ترک صدر نے کہا کہ’’ آیا صوفیا کا جنم نو مسجد ِ اقصی کی آزادی کا مژدہ دیتا ہے”۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد جیسے ہی رجب طیب ایردوان نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد دیوانہ وارآیا صوفیہ کے باہر اکٹھی ہوگئی۔ اس موقع پر انتہائی پرجوش انداز میں نعرے بازی بھی کی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول میں آیا صوفیہ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں موجود مرد و خواتین نے نماز کی ادائیگی بھی کی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد ترک شہریوں نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ پہلی نمازکی ادائیگی کے بعد فخرمحسوس کررہے ہیں۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ یہ کام بہت پہلے ہو جاناچاہیے تھا۔ ترک خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ نماز ادا کرنے والے ایک ترک شہری نے اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ کے سامنے نماز کی ادائیگی ایک حیرت انگیز احساس ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے استنبول دوبارہ فتح ہوا ہے۔ آیا صوفیہ میں 24 جولائی کو پہلی نماز ادا کی جائے گی۔

خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اب آیاصوفیہ ایک میوزیم نہیں بلکہ مسجد کہلائے گی۔ترکی کے اس فیصلے سے بہت سے زندہ وجاوید حقائق و انکشافات جنم لیتے ہیں۔ دور حاضر میں اسلامی نظام کا نفاذ قطعی مشکل ہے ناممکن نہیں ہے۔ موجودہ جمہوری نظام میں ہی اسلامی قوانین آئین کا حصہ بناکر اسی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا جاسکتا ہے۔ جیسے ترکی میں طیب اردوان نے بتدریج ایک سیکولر اور لبرل ملک کو واپس اسلامی ملک میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔ ملکی معیشت کو قرضوں کے چنگل سے آزاد کر کے مضبوط بنا دیا۔ پاکستان میں بھی معاملات زندگی سے دین اسلام کی تعلیمات کو ختم کرنے کی یہی وہ سوچ ہے جو سیکولرازم کے ذریعے اسلام کو ریاست سےالگ کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک طرف عقائد اور عبادات کی مکمل آزادی کا خوش نما نعرہ لگایا جائے اور دوسری طرف ریاست سے سرمایہ دارنہ یا اشتراکی نظریئے کی پیروی کرواکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو یورپی طرز پر مادر پدر آزاد معاشرہ بنایا جاسکے۔ سیکولرازم اور اسلام کا ایک ساتھ چلناناممکن ہے۔ یا مکمل سیکیولرازم ہوگا یاپھر مکمل اسلامی ملک۔ کیونکہ اسلام معاملاتِ زندگی میں الٰہی اصول و قوانین پیش کرتا ہے جبکہ لبرل ازم کا تصور ہی یہ ہے کہ معاملاتِ زندگی میں پیش کیے گئے الٰہی ضابطوں کو رد کیا جائے۔ پاکستان میں لبرل ازم کو فروغ دینے والوں کی بھی خاصی تعداد موجود ہے، جو سیکولر طبقہ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جو کبھی اسلام آباد میں مندر کے حق میں آواز اٹھاتےہیں تو کبھی شراب خانوں کے ناجائز استعمال کے حق میں۔کبھی سیکس ورکروں کے حق میں آواز اٹھائی جائی ہے تو کبھی سیکس ایجوکیشن کے لیے۔ ان سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے۔اور وہ ہاتھ ہے ڈالر کا۔ عاقبت نااندیش حکمران چند ٹکوں کی امداد اور دنیاوی زندگی کی زیب و زینت کی خاطر مغربی آقاؤں کو خوش کرکے ڈالروں کے عوض ہزار بار ملکی سالمیت، ملکی بقا و ملکی سلامتی کے خلاف فیصلے کرتے ہوئے اپنےہی ہاتھوں اپنےضمیر کا سودا کرچکے ہیں۔ ایک حاکم کی سزا کئی دہائیوں تک عوام بھگتتے ہیں۔ کمال اتاترک کے فیصلہ کے مضمرات ہمارے سامنے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زندہ قوموں کے طرز پر زندگی گزارتے ہوئے اپنے اصولوں کے خلاف سودے بازی پر اب کی بار پاکستانی عوام، بوڑھابچہ نوجوان بھی عورت مرد کی تخصیص سے بالاتر ہوکر اٹھ کھڑی ہو۔ اور دنیا کو بتادے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔

ہاں ہم انہیں کا حال ہیں جنھوں نے ماضی میں نہتے اور 313 کے مقابلے میں اسلحہ سے لیس تین گناہ بڑی فوج کو شکست دی۔ ہاں ہم وہی ہیں کہ جنھوں نے اندلس کے ساحل پر اپنی کشتیاں جلادیں اور فتح یاب ہوئے۔ ذرا غور کرو ہم اسی سترہ سالہ نوجوان کے جانشین ہی تو ہیں جو اپنی مسلمان بہن کی پکار پر عرب سے ایشیا راجہ داہر کی ظالم فوج سے لڑنے آیا اور سب کو اپنا گرویدہ بناکر ایشیاء میں باب الاسلام کی بنیاد رکھی۔ ہاں ہم انہیں شیروں کے سپوت ہیں جنھوں نے سینکڑوں سال ہندوستان پر بلارنگ و نسل عالمگیریت کی مثالیں قائم کرتے ہوئے حکمرانی کی۔

ہم ہیں محمود غزنوی کے جانشین…..
ہم ہے طارق بن زیاد کے نام لیوا……
ہم ہیں فاتح خیبر کے چشم و چراغ……
ہم ہیں سلطان محمد فاتح کی آنکھوں کانور……
ہم ہیں صلیبیوں کو شکست دینے والے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دل کی دھڑکن…….

اب وقت ہے اٹھ کھڑے ہونے کا۔ زندہ رہناہے تو پھر چھین کے اپنا حق لینا پڑے گا۔ جس طرح ترکی اقدام اٹھارہا ہے۔ زندہ قومیں اپنے حقوق پر اپنے دین پر اپنی تہذیب پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کرتیں۔

اے صلاح الدین ایوبی کے بیٹے رجب طیب اردگان! سلام ہے تم پر،تمہارا ہر قدم مسجد اقصیٰ، کشمیر، بوسنیا، برما، شام و عراق میں مسلمانوں کی حقیقی آزادی کی نوید سناتا ہے۔ ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں کہ جب امت مسلمہ کا وجود سورج کے وجود کی طرح دوبارہ طلوع ہوگا۔ ترکی میں بیٹھا مسلمان کشمیر کی بیٹی کی پکار پر لبیک کہے گا۔ افغانستان میں بیٹامجاہد شام میں نعرہ تکبیر بلند کرے گا۔ ان شاء اللہ

آسماں ہوگاسحرکےنور سے آئینہ پوش
اورظلمت رات کی سیماب پاہوجائےگی
اس  قدر  ہوگی  ترنم  آفریں  بادِ  بہار
نکہتِ خوابیدہ غنچےکی نواہوجائےگی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھرجبیں‘خاکِ حرم سےآشناہوجائےگی
شب گریزاں ہوگی آخرجلوۂخورشیدسے
یہ چمن  معمور  ہوگا نغمۂ توحید سے

اپنا تبصرہ بھیجیں