مسئلہ صرف اسلام اور مسجد ہے- عالم خان




یہ آرمینیا کی ” جامع مسجد اجدام“ ہے ……… اس پر کوئی نام نہاد مذہبی رواداری والا مولوی ، قانون دان ، دانشور اور الموردی کالم نگار لکھے گا نہ ہی ویٹیکن کے پوپ کا دل دکھے گا . جیسا کہ آیا صوفیا پر شب وروز لکھتے ہیں اور چیختے ہیں ۔ کیوں کہ ان کا مسئلہ صرف اسلام اور مسجد ہے ۔
یہ دنیا کی واحد نیوٹرل مخلوق ہے کہ آج تک ان کے منہ سے ان مساجد کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا ہے . جو اسرائیل میں نائٹ کلبوں اور قحبہ خانوں میں تبدیل کر دئیے گئے قرطبہ اور غرناطہ میں اصطبل اور آرمینا میں خنزیروں ، بکریوں اور گائے کی باڑوں میں تبدیل کر دئیے گئے ہیں جو عبادت خانے بھی نہیں ۔ یہ خاموش تھے …….. ان کو فقہی احکام ، مذہبی رواداری اور عالمی تناظر میں برداشت کا بھاشن تب یاد آیا …….. جب ترکی نے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آیا صوفیا میوزیم کو مسجد بنانے کا فیصلہ کیا . جس پر ترکی کے عوام اور خواص خوش ہیں اور ٢٤ جولائی کو ٨٦ سال بعد جمعہ پڑھنے کے لیے بے تاب ہیں۔
اگر تکلیف ہے تو صرف ان لوگوں کو ہے جو پاکستان اور یورپ میں بیٹھ کر پروپیگنڈا کر رہے ہیں . کبھی ملکیت کے کاغذات پر سوال اٹھاتے ہیں تو کبھی اس کو الیکشن اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اردوان کا ڈرامہ قرار دے رہے ہیں ۔ حالاں کہ یہاں نہ الیکشن ہے نا کوئی ابتر صورتحال ہے جس سے اردوغان لوگوں کی توجہ ہٹا رہا ہے . بلکہ یہ عوام کا مطالبہ تھا ان کے آباء و اجداد کی تاریخ کا ایک اہم باب تھا جو ٨٦ سال بعد دوبارہ رقم ہوا ۔ ان کی یہ وہ تھیوریاں ہیں جس کا خود ترکی کے عوام کو علم نہیں اور نہ کبھی ان موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں لیکن ان خیر خواہوں کو بہت فکر لاحق ہے جو مسلسل بے چین اور اضطراب میں ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ واحد مخلوق ہے …….. جو ٥٦٧ سال بعد چرچ سے مسجد بنانے کا مقدمہ لڑ رہی ہے ۔ حالاں کہ باقی دنیا میوزیم کو مسجد بنانے پر بحث کر رہی ہے . جب کہ ترکی کی حکومت اور عوام ان سب سے بے پرواہ ہوکر ٢٤ جولائی کو آیا صوفیا میں نماز جمعہ پڑھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں