بزرگ اور سوشل ڈسٹینسنگ – صدف عنبریں




نادیہ رات سے ہی بہت پریشان تھی ……. جب سے اس نے اپنے ابو کی طبیعت کا سنا تھا ، وہ دو دن سے نہ سو پارہے تھے اور نہ ہی کھانا کھایا حارہا تھا . ایک شہر میں رہتے ہوئے اسے اپنے ابو سے ملے تین مہینے گزر چکے تھے . وجہ وہ ان دیکھی وبا ہی تھی جس کی دہشت اس وقت پوری دنیا میں تھی .
اس کے شہر کراچی پہ بھی اسی خوف کا راج تھا کہ جیسے گھر سے نکلتے ہی موت آپکو آ دبوچے گی . یا کم از کم آپ کے ساتھ لگ کر آپکے گھر آجائے گی اور گھر کےضعیفوں کو ضرور ساتھ لیکر ہی جائے گی ……. صورتحال اس سے بہت مختلف بھی نہیں تھی مگر اس وقت نادیہ بہت تذبذب کا شکار تھی . ماں کے بعد یہی تین بھائی اور ابو ہی تھے جنہوں نے اس کو اپنا بہترین وقت دیا ، لیکن وہ ابو کے بے حد اصرار پر بھی نہ ہی افطار پہ ان کے گھر گئی اور نہ ہی عید پر اپنی شکل دیکھائی . ہاں روز وڈیو کال کا وعدہ ضرور کرلیا تھا. وہ بھی بچوں کی آن لائن کلاسز کے بعد محض وعدہ ہی رہ گیا . جب موبائل یا لیپ ٹاپ اسے خالی ملتا اسے بیٹری لو کی وجہ سے چارج پہ ہی لگانا پڑتا۔
گھر میں اسکے ساس سسر نے بھی اسے الگ ہریشان کر رکھا تھا . جب بھی وہ بچوں کو پڑھانے بیٹھتی وہیں ، اسکی ساس بھی آ بیٹھتیں ، اور بچوں یا اس سے بہانے بہانے سے کوئی نہ کوئی بات کرتی رہتیں . پہلے اکثر محلے والی سہیلیوں سے گفتگو میں مصروف رہتیں یا قریب رہنے والے رشتہ داروں کے ہاں چکر لگالیا کرتیں . مگر اب وہ بس نادیہ اور اس کے بچوں سے ہی بات چیت کرکے وقت گزارنے کی کوشش کرتیں ، نادیہ سب سمھجتی تھی مگر وقت تو اس کے پاس بھی نہیں تھا . گھر کے کام ، پھر ماسیوں کی چھٹی ، بچوں کی آن لائن کلاسز ، سسر صاحب کا حال بھی مختلف نہیں تھا یا تو سارا دن نیوز کی دہشت ناک آواز ہورے گھر میں گونجا کرتی یا پھر بچوں کے ساتھ پرانے میچ دیکھتے رہتے، گھر میں رہ رہ کہ چڑ چڑے ہوگئے تھے . اس لیےکہ ان کی ساری روٹین ہی خراب ہوگئی تھی ، نہ ہی شام کی واک نہ صبح دوستوں کے ساتھ شطرنج اور نہ ہی مسجد میں جاکر درس قران لینا ، سو غصہ آجکل ناک پہ دھرا رہتا . جسکا شکار بھی اکثر نادیہ ہی ہو جاتی.
سچ میں وہ گھن چکر بن گئی تھی ۔ اور اب ابو کی طرف سے فکر نے تو اس کو اور بھی ڈسٹرب کردیا تھا . ساس تو اس کی بے توجہی دیکھتے ہوئے اٹھ گئیں تھیں کہ سسر صاحب فون ہاتھ میں لیے پریشان اس کے پاس آگئے ……! کیا ہوا ابو؟ اس نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر پوچھا ۔ بیٹا سعد کے بیٹے کا فون تھا . اس کو نفسیاتی ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرلیا ہے۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کا نام لیا ۔ تو ابو ان کے پاس کون ہے؟ عذرا چچی تو خود گھٹنے سے مجبور ہیں؟ ہاں بیٹا وہیں ہیں اور کون ہوگا …..! بیٹا تو دیار غیر میں بیٹھا ہے . .اسی لیے تو مجھے فون کررہا تھا تم زرا فہد کو فون کردو، اللہ خیر کرے نفسیاتی ڈاکٹر ایڈمٹ تو نہیں کرتے زیادہ ہی نہ بگڑ گیا ہو۔ وہ تاسف سے کہتے وہیں بیٹھ گے۔ نادیہ شوہر کو فون ملاتے سوچ رہی تھی کے وہ آج بھی اپنے ابو سے ملنے نہیں جاپائے گی، اللہ جانے چھوٹے ابو کو کیا ہوگیا ؟
وہ لوگ تو بیٹے کی ہدایت پرفروری سے ہی کسی سے نہیں مل رہے تھے دونوں ستر کی پیٹی کے میاں بیوی اکیلے چار مہینے کیا باتیں کرلیں گے سو پرسو ں ہی چچی جان فون پہ کہہ رہی تھیں کی اب معاملہ صرف یاداشت کا نہیں لگتا چھو ٹے ابو اب ٹی وی دیکھتے ہوئے زور زور سے خود سے ہی باتیں بھی کرتے رہتے ہیں . وفاقی اور صوبائی گورنمنٹ کی کشمکش نے جہاں عوام کو حقائق سے لاعلم رکھا وہاں فزیکل ڈسٹینسنگ کو سوشل ڈسٹینسنگ قرار دے کر احساس اور مروت جیسے جذبوں کو خود غرضی اور مادیت پرستی میں بدل ڈالا تھا۔ بزرگوں کو تنہا کرکے شہر میں ہزاروں ضعیفوں کو ذہنی امراض کا شکار بھی کردیا تھا اور ایک رپورٹ کے مطابق فاطمہ ماں فاونڈیشن کراچی(اولڈہاوس فار ویمن)کے ماوں کو اولڈ ہاوس میں جمع کرانے والوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے ،وجہ یہی وبا ہے۔ جہاں حکومت یا رفاعی تنظیمیں لاک ڈاون کے غریبوں پر اثرات پر امداد کے لیےسر گرم نظر آئں ہیں ۔
ہمیں بھی انفرادی طور سے بزرگوں اور تنہا رہنے والے رشتہ داروں پہ خاص کر اس لاک ڈاون کے بد اثرات سے بچانے کے لیے کوشیشیں کرنیں چاہیں، چاہے وہ فون پروقت دے کر ہو یا وقت و توجہ دے کر ہو یا ان کے لیے کوئی ان کی من پسند ایکٹیوٹی دے کر ہو ورنہ گھر گھر میں کرونا ہو یا نہ ہو نفسیاتی مریض ضرورہونگے۔ نادیہ کو سوچتے سوچتے جھر جھری سی آگئی،وہ اپنی ساس کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی کہ ان کو بتادے کہ وہ ابو سے مل کر آتے ہوئے چچی جان کو یہیں لے آئے گی۔ جب تک فہد چھوٹے ابو کے پاس یاسپٹل پہنچ جائیں گے۔ بزرگ بدلتے حالات سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں ، بڑھاپے کے ساتھ تنہائی ان کی سب سے بڑی بیماری ہے، اس وبا نے جہاں دوسروں کی طرح ان کو صحت کے حوالے سے خوفزدہ کردیا ہے بلکہ ان کی واحد تفریح نیوز چینلز نے تو جیسے بوڑھوں سے جینے کا حق ہی چھین لیا ہےا.
گر وہ ساٹھ سے اوپر کے ہیں تو ان کے گھر سے نکلنے یا کسی سے ملنے میں قباحت ہے،مسجد بھی نہیں جا سکتے ایسے میں اگر خاندان کے افراد فون یا کسی اور ذرائع سے بھی تعلقات منقطع کیے رہیں گے تو وہ افراد کہاں جائیں جن کے گھر میں زیادہ لوگ ہی نہیں ۔ اللہ ہمارے بزرگوں کا سایہ ہم پہ سلامت رکھے،نادیہ کا روم روم دعا گو تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں