بچوں کا ذہن اور گھر کا ماحول – محمد اسعد الدین




ڈئیر پیرنٹس یہ دس سال پرانی بات ہے!! جب teen age بچوں کی عادتوں ، رویوں ، ذہنی اور جذباتی الجھنوں کے حوالے سے کئی واقعات علم میں آئے . والدین رابطے کرنے لگے ، ہم نے خاصاغور کرنے اور ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد اپریل 2010ء میں کراچی کی 3 معاشی کٹیگریز کے 14علاقوں کو منتخب کرکے ریسرچ کا آغاز کیا۔ ٹین ایجرز کے حوالے سے ریسرچ انتہائی مشکل اور اس کے اتنے ”ڈایمینشنز“تھے کہ پہلا مرحلہ مکمل ہونے میں دس سال لگ گئے،اس دوران چند اہم باتیں نوٹس کی گئیں۔۔۔۔
*ہمارے ٹین ایجر بچے (لڑکے ، لڑکیاں دونوں) بھر پور انر جیٹک ہیں۔
*بچوں میں (معمولی فرق کے ساتھ) چھوٹے بڑے کئی ایشوز پائے گئے،لیکن چار خوفناک مسائل کا مشاہدہ کیا گیا۔
*بچے تیزی سے نشے کی عادت میں مبتلا ہورہے ہیں۔
*کرمنل ٹیکنیکس سیکھ رہے ہیں اور موقع ملنے پر اعتماد سے کاروائی کرتے ہیں۔
*سوچ و خیالات میں ”باغیانہ جذبات“کا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
*جلد adultہونے کی وجہ سے جنسی جذبات کی شدت ہے،تسکین کے لیے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
ریسرچ کی اہم بات کیا ہے؟؟ تمام کیس اسٹڈیز کی مائیکرو اسکرینگ کے بعد اہم ترین اور تمام کیسز میں جو مشترک باتیں سامنے آئیں وہ یہ ہیں۔۔۔۔۔
* تمام بچوں کے یا تو پیرنٹس کے آپس میں باقاعدہ لڑائی جھگڑے یا سرد جنگ رہتی تھی۔
*پیرنٹس کابچوں کے ساتھ کمیونکیشن اور ایموشنل گیپ تھا۔
*پیرنٹس کا بچوں کے ساتھ extreme level کا رویہ تھا،نہایت سخت یا نہایت لاڈ پیار والا۔
فائینڈنگس بہت ساری ہیں،فی الحال پیرنٹس ”آپس کے معاملات“اور ”گھر کے ماحول“کا جائزہ لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں