سنت ابراہیمی!دینی اور دنیاوی فوائد – عائشہ صدیقہ




“ان جانوروں کو ہم نے تمھارے لیے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو نہ انکے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں اور نہ خون ، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے. ” (سورہ الحج – 37)
قربانی مسلمانوں کیلئے ایک ایسا مزہبی فریضہ ہے جسکی قرآن و سنت میں بہت تاکید کی گئی ہے . مقاصد بھی بتادیئے گئے کہ اس عمل سے سنت ابراہیمی کی پیروی کے ساتھ ساتھ اللہ کی خاطر اپنی محبوب اور پسندیدہ شے کو قربان کرنے کے جزبے کو بیدار اور توانا بنانا ہے!!!
وہ شے کچھ بھی ہوسکتی ہے ……. ہمارا مال ، وقت ، نفس ، جسم و جاں کی صلاحیتیں اور بہت کچھ سنہ 2 ہجری میں اللہ کی طرف سے آنے والے اس حکم کے پیچھے دو پیغمبر باپ بیٹے (حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی اپنی لازوال محبت کو اللہ کی خاطر قربان کردینے کی ایک تحیر آمیز داستان بھی موجود ہے. جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک خواب میں اپنے پیارے بیٹے کو قربان کرنے کے بارے میں سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام اس عمل کیلئے تیار اور راضی با رضا ہوگئے. کہ انبیاء کرام کے خواب سچے ہوا کرتے ہیں . یہ تو اس فریضے کا مزہبی پس منظر ہے ، اگر ہم اس حکم کو دنیاوی نظر سے دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اللہ رب العالمین کے ہر حکم میں انسانوں کیلئے سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے.
پاکستانی کاروباری منڈی میں سب سے بڑا کاروبار …… عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہوتا ہے . (یہ صرف پاکستان کی بات ہورہی ہے ، پوری مسلم دنیا کا معاملہ ہم خود سوچ سکتے ہیں.) جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 3 سے 4 کھرب روپے کے مویشیوں کا کاروبار ہوتا ہے، 20 سے 30 ارب قصاب حضرات مزدوری کے طور پر کماتے ہیں اور یہ صرف پروفیشنل قصاب ہی نہیں ہوتے، عام مزدور اور اس کام میں ماہر حضرات بھی شامل ہیں جو اس کام سے اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں . صرف یہی نہیں کسانوں اور دیہاتیوں اور کسانوں کا چارہ فروخت ہوتا ہے. انکو سال بھر جانوروں کو پالنے پوسنے کی مناسب قیمت بھی ملتی ہے…. لاکھوں سے اربوں روپے تک جانوروں کو گاڑیوں میں لانے لیجانے والے کما لیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر جانوروں کی کھالیں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں، جن سے انسانی ضروریات کی بے شمار قیمتی اشیاء بنائی جاتی ہیں، یقیناً اس سے مزدوروں اور کاریگروں کو بھی کام ملتا ہے.
الحمداللہ …..! جماعت اسلامی نے قربانی سے حاصل شدہ کھالوں سے فائدہ اٹھانے کا کام سب سے پہلے شروع کیا . جماعت کے پر خلوص اور مخلص کارکنان عیدالاضحیٰ کے تینوں دنوں میں صبح سے شام تک کھالیں جمع کرنے میں مصروف عمل ہوتے ہیں . جس وقت دوسرے لوگ عید کو ملنے ملانے اور کھا نے پینے میں انجوائے کررہے ہوتے ہیں . وہ اپنے نفس اور وقت کی قربانی دیکر اس اہم سرگرمی میں مصروف ہوتے ہیں . کھالوں کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کو جماعت اسلامی سال بھر اپنے فلاحی و رفاہ عامہ کے منصوبوں پر خرچ کرتی ہے ……. جماعت اسلامی کی اس سرگرمی کو دیکھ کر دوسری جماعتوں اور تنظیموں نے بھی فلاح و بہبود کا زریعہ بنایا. قربانی کے اس حکم ربی پر عمل کرنے سے کاروباری دنیا میں پیسے اور مال کا ایک گردشی چکر نظر آتا ہے، جسکا حساب لگانے سے عقل و زہن دنگ رہ جاتے ہیں، جسکے زریعے یہ مزہبی فریضہ قربانی کے گوشت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ غریب طبقے کے روزگار اور آمدنی کا زریعہ بھی بن جاتا ہے .
آج کل کرونا وائرس سے پیدا خراب معاشی صورتحال میں ہمارے کچھ دانشور حضرات ایسی باتیں بھی کررہے ہیں کہ قربانی کرنے کی بجائے 4 گھروں میں راشن ڈالوادیا جائے تو زیادہ اچھا ہے وغیرہ وغیرہ …… انکے یہ خیالات قرآن و سنت کے احکامات سے بیزاری اور لاعلمی پر مبنی ہیں، اگر وہ اس حکم کی اہمیت کو سمجھتے اور اس سے حاصل شدہ فوائد کو مدنظر رکھتے تو ہرگز ایسا نہ کہتے .
صرف ایک حکم الٰہی کی حکمت اور مشیت پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانوں کیلئے اس میں کتنی بھلائیاں پوشیدہ ہیں، اسی طرح دیگر احکامات ربانی بھی انسانوں کیلئے فائدہ مند اور انکی فطرت سے قریب تر ہیں.. اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے زریعے حکم خداوندی کی بجاآوری کا موقع فراہم فرمائے اور قرآن و سنت کا درست فہم عطا فرمائے. آمین .

اپنا تبصرہ بھیجیں