عورت اور حقیقت پسندانہ رویہ – جویریہ سعید




چلیے آج دوسرے پہلو کی بات کرتے ہیں کیونکہ زندگی میں متوازن اور حقیقت پسندانہ رویہ بہت ضروری ہے ۔ یعنی اس پر کہ عورت بھی انسان ہی ہے اور انسانی کمزوریوں کے باعث زیادتی کی مرتکب بھی ہوتی ہے اور مرد بھی باوفا ہوتے ہیں ۔ بہت سے شریف مرد حضرات کے لیے بھی ایسے معاملات کا کسی سے تذکرہ مشکل ہوتا ہے۔ اور معاشرتی سیٹ اپ اور جذباتی رویے اور تعلقات ایسے ہوتے ہیں کہ بوجھل تعلق کو گھسیٹتے تو رہتے ہیں لیکن صورتحال کو بہتر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
میرے پاس مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والا درمیانی عمر کا ایک جوڑا آتا ہے۔ خاتون پچاس کے پیٹے میں ہیں مگر ایک ہی چھوٹا سا بیٹا ہے۔ شدید سایکوسس کے عالم میں آئیں ۔ اس حالت میں ان کا اپنا اضطراب اور اذیت تو سوا تھی ہی ، ان کے شوہر کی حالت بھی بہت خراب تھی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے کسی پیارے کو نفسیاتی مرض میں مبتلا دیکھنا، خصوصا اس وقت جب آپ کو یہ علم بھی نہ ہو کہ اس کو ہو کیا رہا ہے۔ وہ خاتون شدید خوفزدہ، شک میں مبتلا ، اور بے قرار تھیں۔ نیند غائب تھی۔ اور شوہر کبھی سمجھانے کی کوشش اور کبھی سنبھالنے کی کوشش میں خود حال سے بے حال۔ بال بکھرے ہوئے ، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہیں۔ خیر الحمدللہ۔۔ دوا کے ساتھ ان کی حالت تیزی سے سنبھلنے لگی۔ کچھ ہفتوں کے بعد میں نے ان کو بالکل بدلی ہوئی کیفیت میں دیکھا۔ بال رنگے ہوئے، میک اپ کیا ہوا۔ اس قدر پرسکون کہ سکون خود میرے اندر تک اتر گیا۔
صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔ کھلے پڑ رہے تھے۔ شکریہ کیے جاتے۔ کچھ عرصہ بعد کچھ دوا اور کچھ دبے ہوئے دوسرے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جنون تو نہیں مگر اضطراب دوبارہ حملہ آور ہوا۔ پھر بے قرار۔ ایک جگہ بیٹھتی نہ تھیں۔ اس قدر بحث کرتیں اور بولتی رہتیں کہ ہمارا عملہ بھی پریشان ہوجاتا۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بچپن میں کسی بیماری کی وجہ سے ایک پیر میں لنگ بھی تھا۔ علاج کا دوسرا دور خاصا صبر آزما ثابت ہوا، ہمارے لیے بھی اور ان سب کے لیے بھی۔ ایک روز پریشانی کے عالم میں میری تسلیوں کے جواب میں شوہر صاحب بے بسی سے مسکرا کر بولے۔۔۔۔ “مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ میں اس کو ایسے حال میں نہیں دیکھ سکتا۔ ” میں نے عالم رشک میں اس لنگڑاتی، منہ بناتی، بحث کرتی ، پریشان حال عورت کو دیکھا۔ اور دل سے دعا دی۔
کچھ خواتین بہت کنٹرولنگ بھی ہوتی ہیں اور ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق چاہتی ہیں۔ شوہر اگر شریف آدمی ہو تو ان کی فرمائشیں، سسرال والوں کے لیے ناگواری ، ان کے حقوق ادا کرنے پر ناک بھوں چڑھانا۔ شک کرنا۔ گھر کا خیال نہ کرنا اذیت کا باعث بھی ہوتا ہے اور اولاد بھی بھگتتی ہے۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو اپنے میکے والوں کے پیچھے اپنی سگی اولاد کی مادی اور نفسیاتی ضروریات کا احساس نہیں کرتیں۔
پاکستان میں گزشتہ برس کچھ ماہ ایک فیملی پریکٹس کا موقعہ ملا ۔ نچلے اور درمیانے طبقے کی خواتین آتی تھیں۔ اکثر خواتین بچوں کو باہر کا گند بلا کھانے کو پیسے دیتی رہتیں۔ برتن اور کپڑے صاف نہ ہوتے۔ بچوں کا گلا یا پیٹ خراب ہو جائے ڈاکٹر سے بضد ہو جاتیں کہ اینٹی بائیوٹک اور بہت سی ادویات لکھ کر دیں۔ ورزش سے بچنا، دیر سے سو کر اٹھنا، اور بہت سا وقت ٹی وی پر برباد کرنا۔ یہ سب عام مسائل تھے۔
مگر جس بات نے مجھے سب سے زیادہ دکھ میں مبتلا کیا وہ یہ کہ اکثر خواتین اپنی بڑھتی ہوئی عمر کی بچیوں کی جسمانی و جذباتی صورتحال سے لاپروا نظر آئیں۔ یا تو چھوٹی یا ٹین ایج لڑکیوں پر گھر کا سارا کام ڈال کر خود بیمار پڑے رہنا۔ یہ بے چاری گھر کا کام بھی کرے، بہن بھائیوں کو بھی دیکھے،اماں کے طعنے اور چیخ و پکار بھی سنے۔ یا پھر کوئی کام کاج نہ سکھانا کوئی تربیت نہ کرنا۔ میرے پاس جو بھی لڑکی آتی تھی میں اس کے ساتھ محبت اور توجہ سے چار جملے کہتی اور اس کا ردعمل دیکھنے والا ہوتا تھا۔ گویا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی اس سے اس کے بارے میں اس قدر توجہ، سنجیدگی سے بات بھی کرے گا اور سنے گا ۔ مائیں کہتیں …….. غصہ کرتی ہے ، کام کاج نہیں کرتی ، چڑچڑی ہے ، چپ رہتی ہے ، کھاتی پیتی نہیں ہے ، بہن بھائیوں سے لڑتی ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ اور میں سوچتی کہ ان کو ایسی بے بسی کیوں ہے۔ یہ ماں ہیں۔۔کبھی اس سے بات تو کریں۔ اپنی حسرتوں ، اور ناآسودہ خواہشات کا ملبہ اس پر گراتی ہیں۔
حقیقت پسندانہ تجزیہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ یہ عموما چھوٹے شہروں یا گاؤں سے محنت مزدوری کے لیے بڑے شہروں میں آئے مردوں کے کنبے تھے۔ چھوٹے گھروں میں بڑے بڑے کنبے ،معاشی مجبوریاں، سہولیات کی عدم دستیابی، تعلیم ہی نہیں تربیت کی بھی کمی۔۔ ایسے میں یہ خواتین اپنی بچوں کے ساتھ کیسے مفید وقت گزاریں۔ پھر کئی برس بعد وطن لوٹنے پر ایک واضح تبدیلی دیکھی۔ ہر بڑے اسٹور اور عظیم الشان مال کی شاندار دکانوں میں یہی کھولیوں جیسے گھروں سے آنے والی لڑکیاں یونی فارموں میں، چست پینٹ شرٹوں میں میک اپ کے ساتھ سیلز گرلز بنی کھڑی تھیں۔ وہاں آنے والے پیسے والے لوگوں کو دیکھ کر کون کون سی حسرتیں اور تمنائیں نہ جنم لیتی ہوں گی جن کا سیدھے راستے پر چل کر حصول کا قدر ناممکن اور معجزانہ ہے۔
پبلک واش رومز میں ان کی آپس میں گفتگووں سے اندازہ ہوتا کہ یہ بے چاریاں کس قسم کے ماحول میں رہ رہی ہیں۔ معاشی استحصال بھی ہے، جائے ملازمت پر مردوں سے تعلقات بنانا ناگزیر ہے۔ کبھی معصومیت کبھی شوق ، اور کبھی اوپر جانے کی تمنا میں کن کن راستوں پر چلتی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کنبے پال رہی ہوں۔ پتہ نہیں ماؤں نے جذباتی و نفسیاتی وجود سمجھا ہوگا ، جسمانی اور جبلی مجبوریوں کا احساس کیا ہوگا۔ گھریلو مسائل کی بنا پر، میکے والوں کی بہتری کی جنوں خیز خواہش ، مسائل سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت اور استقامت کی کمی ، ناشکری ، بے حسی یا پھر ڈیپریشن ، اینزائٹی یا نفسیاتی بیماری ہونے کے باجود علاج نہ کروانے کی وجہ سے …… ماؤں کی Emotional unavailability خصوصاً نوعمر لڑکیوں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
لڑکے بھی نقصان اٹھاتے ہیں …… مگر لڑکیوں سے میری خاص محبت، تعلق ، ہمدردی اور توجہ کی وجہ یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے ان کے لیے جو محبت بھرا، سنجیدہ اور میچور سہارا ضروری ہے وہ عموما دستیاب نہیں ہوتا۔ اس لیے بچوں کی تربیت پر بات کروں تو ماووں کے ڈیپریشن اور باپوں کے اپنی بیویوں سے حسن سلوک پر اٹک جاتی ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں