فینٹسی اور کتابوں کی دنیا – جویریہ سعید




ہم سمجھتے ہیں کہ بعد کے زمانوں میں یہ کہانیاں بہت کام آئیں ۔ پریشانی اور دکھوں کے دنوں میں تصور ہماری محفوظ پناہ گاہ بن جاتا۔ ادب اور شاعری فرحت افزا ثابت ہوتی ۔ قرآن کریم کے کتنے ہی تھیمز کہانیوں سے سمجھ آجاتے ۔ انسانوں کو ایک کرادر سمجھ کر پڑھنے اور ان کے رویوں کے پس منظر میں ان کی شخصیت کو کھوجنے کا شوق پیدا ہوتا۔
شدید کرب کے لمحات میں بھی یہ سوچنے کے قابل رہی کہ یہ بندہ جو مجھے اس قدر تکلیف پہنچا رہا ہے خود اس کی کہانی کیا ہے۔ وہ کیا سوچ رہا ہوگا۔ اس کی جانب سے میں اسے کیسی نظر آتی ہوں گی۔ اس نے جو یہ کہا تو کیا سوچا ہوگا ۔ وغیرہ وغیرہ ….. مجھے کئی مرتبہ گھر میں ، اسپتال میں ، کاونسلنگ کے دوران ساتھیوں کے حیرت آمیز سوال سننے کو ملے۔۔۔
“جویریہ ۔۔ تم اتنے مشکل وقت میں بھی کیسے خود کو سنبھال سکی ۔ کچھ نہیں بولتی ۔ چہرے سے کچھ ظاہر نہیں کرتی۔ ”
میں سمجھتی ہوں اس میں کتابوں کی دنیا سے گہری وابستگی اور اس دنیا کے تصوراتی جہاں سے جڑے ہونے کا بہت ہاتھ ہے۔ کسی کی عجیب اور درد بھری کہانی سن کر بھی مجھے یہ نہیں لگا۔۔ کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ یا یہ کہ کسی کی تکلیف کم تر ہے۔ کسی کے غصے پر میں سوچنے لگتی کہ اس کا پس منظر کیا ہے۔
لوگ عموما فینٹسی کی دنیا میں رہنے اور اس کی کہانیوں کو مضر بتاتے ہیں ۔ مگر حساس انسانوں کے لیے تو ایک بڑی پناہ گاہ ہے۔ ان کے لیے جو ساری عمر پریشان خواب دیکھتے رہے ہوں۔ خواب جو ان کے کسی خوف , ناتمام خواہش، یا کرب کا پرتو ہوں۔ ان کے لیے جو بدلہ نہیں لے سکتے، خود کو برائی کرنے سے باز رکھنا چاہتے ہیں ۔۔ آگے بڑھنے کے لیے خود اپنے ہی اپ سے مضبوط سہارا چاہتے ہیں۔ فینٹسی انہیں تاریکی کی تہوں کے بیچ ہلکورے لیتے کسی معلق باغ کی جھلکیاں دکھاتی ہے۔ ایک دم سے ہی شڑ شڑ کر کے اپ کے اردگرد من چاہی دنیا کی دیواریں کھڑی ہوجاتی ہیں ۔۔۔ ایک راستہ سے بن جاتا ہے جس پر چل کر آپ کسی خواب نگر میں داخل ہوجاتے ہیں۔ درد سے بھرا جسم سن ہوجاتا ہے۔
آپ اسے Dissociation کہہ سکتے ہیں، بن پیے طاری ہونے والی نشہ کی حالت کہہ سکتے ہیں ۔ جب خیال آپ کو یوں محسوس کرواتا ہے کہ جیسے آپ محبت میں مبتلا ہوں۔۔اور اس محبت کے خدو خال کو محسوس کرسکتے ہوں۔ ایک سرشاری سی طاری ہوتی ہے۔اردگرد موجود انسان ایک دم دور پردے پر چلنے والے کردار بن جاتے ہیں اور آپ خود سے کہتے ہیں کہ میں تو صرف تماشائی ہوں۔۔ ایسے کرداروں کی جو خود بھی اپنی کہانیاں رکھتے ہیں۔ اور یوں آپ درد سے بھرے غار کے منہ پر ایک پھولوں والی چادر سی تان دیتے ہیں۔ فینٹسی بے عملی میں مبتلا کاہلوں کا خیالی پلاؤ نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ احمقوں کی جنت ہے۔ اس کو سمجھنا ہے تو میرے دوسرے پسندیدہ کردار گرین گیبلز کی این سے ملیے۔ یہ یتیم و بے سہارا لڑکی ایک کثیر العیال، پھوہڑ اور بدزبان عورت کے یہاں ملازم ہے جو اس سے بھی کام کرواتی ہے اور ہر وقت جھڑکیوں نوازتی ہے۔تعلیم حاصل کرنا این کے لیے ایک عیاشی ہے۔ ایسے میں یہ لڑکی پانی بھر کر لاتے اور دن بھر تھکادینے والی مصروفیات کے بیچ چھپ چھپ کر شاعری پڑھتی ہے اور خود کو خیالوں ہی خیالوں میں لیڈی آف شیلوٹ سمجھتی ہے۔
شاعری اور خیالی دنیا تلخ اور بدصورت ایام میں بھی اس کے جمالیاتی ذوق، محبت ، نرمی اور امید کو زندہ رکھتے ہیں۔اس کے خواب ، معصومیت اور رحم دلی ایک رحم دل بہن بھائی کے دل میں اس کے لیے محبت کی جوت جگادیتے ہیں اور این ان کے ساتھ رہتے اپنے خوابوں کی تعبیر پالیتی ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت کینیڈین کہانی جس کو بہترین انداز میں فلمایا گیا۔ فینٹسی کی دنیا میں جینے والا ایک اور خوبصورت کردار بیٹرکس پوٹر ہے۔ یہ ایک انگلش مصنفہ گذری ہے جس نے جانوروں کی پیاری پیاری کہانیاں لکھیں ۔ بیٹرکس کی تعلیم و تربیت اس کی انا governess نے کی اور اس کی پرورش دوسرے بچوں سے دور تنہائی میں فطرت کے قریب ہوئی۔ وہ خیالوں ہی خیالوں میں خرگوشوں کو تانبے کے بٹنوں والے کوٹ پہنے دیکھتی ہے۔ جانوروں سے باتیں کرتی ہے اور ایک روز ان کی کہانیاں لکھنے لگی۔
بیٹرکس وہی ہے جس نے
Tale of Peter rabbit
Tale of two mice
Tale of Jemima Duck
اور
Tale of Tom kitten
جیسی پیاری پیاری کہانیاں لکھیں۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایلس بڑی ہو کر این شرلی بن گئی اور این شرلی بڑی ہو کر بیٹرکس پوٹر میں تبدیل ہوگئی۔ میرے نزدیک فینٹسی کی دنیا تو فطرت، پھول پودوں ، جانوروں ، کائنات اور انسانوں سے محبت کرنے والوں ، ان سے خیر کی امید رکھنے والوں اور اچھائی پر یقین رکھنے والوں کی پناہ گاہ ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ شاید مجھے تھوڑا بہت اندازہ ہے کہ لکھنے والے اور شاعر کسں طرح ہمہ وقت اپنی ہی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ اپنے ہی خیالات کی دنیا سے مسرت کشید کرتے ہیں اور اسی میں اٹھتے کسی مدوجزر سے مضطرب اور افسردہ ہوجاتے ہیں۔ انہیں اکثر ایسا کرب اور چبھن لاحق رہتی ہے جو دور سے دیکھنے والے کو سمجھ نہیں آتی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں