حضرت ہاجرہ اور توکل – بنت شیروانی




جیسے جیسے بقرا عید قریب آتی جاتی ہے ۔ میں نہ جانے کیوں حضرت ہاجرہ علیہ اسلام سے اپنا تعلق بڑھا ہوا پاتی ہو ں۔ نہ جانے کیوں مجھے ان سے مزید انسیت محسوس ہوتی ہے ۔شاید کہ اسلۓ کہ ان دنوں میں ان کا کردار بحیثیت ایک ماں کا بھی ہے۔اور میں بھی ایک ماں ہوں۔یا مزید یہ کہ ان دنوں میں ایک بیوی کے طرز عمل کے طور پر میرے لۓ رہنمائی ہے اور میں بھی بیوی ہوں۔اس لۓ میں مزید ان سے اپنی نسبت محسوس کرتی ہوں۔
دراصل میں جب سوچتی ہوں کہ جب حضرت ابراھیم علیہ اسلام ایک شیر خوار بچہ کے ساتھ انھیں ایسی جگہ چھوڑ کر گۓ کہ جہاں نہ پانی تھا اور نہ انسان تھے۔اور یہ واقعہ میں نے اپنی زندگی میں نہ جانے کتنی بار پڑھا ہے۔ لیکن اب بحیثیت ایک بیوی اور بحیثیت ایک ماں تو میری عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ وہ کتنی اچھی بیوی تھیں۔۔۔۔۔اُن کا اپنے پیدا کرنے والے پر کتنا توکل تھا۔۔۔۔انھیں اپنے شوہر کی بھی کتنی فرماں برداری کرنا آتی تھی۔ مجھے تو کہیں شوہر چھوڑ کر جائیں مجھے کسی اپنے کے گھر ہی -تو میں کہتی ہوں کہ آپ پیسے تو دے دیں ،بچہ چھوٹا ہے پیمپر اور دودھ کے ڈبہ تو لادیں پہلے-آپ اپنا موبائل چارج رکھۓ گا۔کب تک آئیں گے لینے؟؟؟نہ جانے کتنی بار فون کرتی ہوں۔کہتی ہوں کہ آپ کے بچہ نے تنگ کر دیا ہے-یہ بلاوجہ رو رہا ہے-اور جاتے جاتے بھی پہلے کہتی ہوں کہ جلدی آجاۓ گا لینے۔اچھا میں یہ اور یہ نہیں کھاتی -آپ کو معلوم ہے نا-
آپ پہلے یہ چیزیں بھی لا کر دے دیں۔ اور میری حضرت ہاجرہ نے تو یہ سب نہ کہا۔—- بس “حکم ربی”سمجھ کر اطاعت کر لی۔اس وقت تو نہ موبائل تھے۔نہ ہی واٹس اپ تھا کہ لمحہ لمحہ کی خبر اپنے شوہر کو دیتیں۔اور ہر لمحہ ان کی خیریت سے باخبر رہتیں۔ لیکن میری حضرت ہاجرہ نے بھی تو اپنے پیدا کرنے والے پر بھروسہ کیا ۔اسی پر توکل کیا-اور پھر اس “رب “نے بھی وہ کچھ عطا کیا جس سے میں اور آپ بھی آج سیراب ہوتے ہیں۔اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی وہ حضرت ہاجرہ کے “توکل “کرنے کے صلہ میں ملنے والا پانی جو کہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی ایڑیاں رگڑنے سے نکلا۔اسے پیتے ہیں۔ اور پھر وہ زم زم پیتے وقت ،تو وہ صفا و مروہ پر ہر حاجی کا دوڑنا یہ سب یہی تو بتاتا ہے کہ “میرا رب عمل کو ضائع نہیں کرتا”۔بس توکل کرنے کی ضرورت ہے۔
اور پھر مجھے لگتا ہے کہ اگر میں بھی اپنی حضرت ہاجرہ علیہ اسلام کے طریقہ کے مطابق “توکل”کرنا ہی سیکھ لوں تو میری نسبت مزید ان سے ہوجاۓ گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں