لاک ڈاؤن اور فتنے – بنت صبیحہ غوری




لاک ڈاؤن کے مسلط ہوتے ہی اس نئے لفظ سے آشنائی ہوئی ……. لیکن یہ لفظ کوئی نیا نہیں بلکہ قرآن کی رو سے دیکھا جاۓ تو ایمانی کیفیت کو گرما دینے والی بڑی مثالیں ہیں ، جو سے ﷲ‎ سے تعلق مضبوط بناتی ہیں .

لاک ڈاؤن کی کچھ مثالیں قرآن کی رو سے دیکھی جائیں تو حضرت یونس کا مچھلی کے پیٹ میں رہنا، اصحاب کہف جو نیند کی حالت میں تھے، حضرت یوسف کا کوئیں میں ڈالے جانا وغیرہ ۔ اور ان تمام واقعات میں ﷲ کی مدد شامل تھی اور وہی فلاح پاۓ جو مومن تھے اور جن پر ﷲ نے انعام فرمایا ہے۔ اکیسویں صدی کی بات کی جاۓ تو یہ Man made invention نے بخوبی نفسیاتی، معاشی، معاشرتی اخلاقی تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے کیا یہ فتنہ نہیں ؟کیا یہ طاغوتی قوت نہیں بلکل ہے جس نے دنیا کے نظام کو درہم برہم کر دیا تھاجو کے زوال پذیر ہو کر رہے گی۔ یہ اس دنیا کی دوڑ میں یہ بھو ل گۓ کہ اصل امتحان لینے والا تو اوپر بیٹھا ہے جس کی رضا مندی کے بغیر ایک پتّہ بھی نہیں ہل سکتا ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ کیوں ہورا ہے ؟ کیوں ہم زبردستی دھکیلے جارہے ہیں ۔زبردستی میڈیکل رپورٹ کو مثبت کر کےاس گلوبل دنیاکو کووڈ_ 19 میں جھو نکا جارہا ہے۔

ایک وجہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک دجالی فتنہ ہے . ہم فتنوں میں ہی تو ہیں ۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک ہم فتنہ ہی فتنہ۔ ہم خاص طور سے تفریح، شادی بیاہ، مہندی کے فنکشن کے لئے تیار ی کرتے ہیں جو کہ ہمارے دین کا اثاثہ بھی نہیں۔ دولت، بڑی بڑی گاڑیاں ،اونچے عالیشان مکان جو کہ ایک مسلمان کی پہچان بھی نہیں ۔ اس کووڈ_ 19 نے دنیا کوہلا کے رکھ دیا ہے میں بطور خود اس وبا کی انکاری نہیں کرب تو یہ ہے آج دنیا کے بیشتر ممالک میں اس وبا کا نام و نشان نہیں ہے لیکن میرا پیارآ دیس آج بھی اس وبا کی لپیٹ ہے۔
ذرا نظر تو ڈالے خود پر کہاں کوتاہی ہورہی ہے جو ﷲکی مدد نہیں آرہی ہے ہم بھوک معا شرتی مسائل سے دو چار ہوئے چلے جارہے ہے ۔

ﷲ ہرصدی میں ‎ عذاب بھیجا کرتا ہے تاکہ لوگ عبرت لیں اور خود کو درست کریں کیونکہ ہمیں پلٹ کر اپنے رب ہی کی طرف جانا ہے۔
ﷲ ہمیشہ ہمیں ہدایت کے راستے پر رکھے اور ہمارے نامہ اعمال کو درست کرے( آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں