جذبہ سے قربانی تک – جویریہ ندیم




ذی الحج کے مہینے کا نام سن کر ہی جہاں ایک طرف خانہ کعبہ کی عظمتوں اور حاجیوں کی مشقتوں کا خیال ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے ….. تو دوسری طرف جانوروں کی قربانی کی رونقیں سامنے آ جاتی ہیں . ان دونوں عبادتوں سے متعلق ہمیں بچپن میں قصے سناۓ جاتے ہیں ، جو ہمارے ذہنوں کے کسی خاص خانوں میں نقش ہو جاتے ہیں …
یہ خایالات, سوچیں , نظریات ہر سال اس بابرکت مہینے کے آتے ہی نئی توانائی کے ساتھ تازہ دم ہوجاتے ہیں ….. پھر جو صاحب استطاعت ہو تا ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کے غرض سے جانور لے آ تا ہے اور جس کا ہاتھ تنگ ہوتا ہے، وہ گوشت کی خوشی کا انتظار کرتا ہے . منڈیوں کی طرف خوبصورت سے خوبصورت جانور کے نظرانے کے لئے تفریحی سفر کا آغاز ہو جاتا ہے . بچے خصوصاً لڑکے جانوروں کی خدمت میں ہماتن مصروف نظر آتے ہیں . پھرعید کی نماز کے بعد گھر کا ہر فرد چھوٹا ہو یا بڑا قربانی ہوتے ہی مصروف ہو جاتا ہے . مگر سوال یہ ہے کہ کسی والدین نے ان جانوروں کے حلقوم پر چھری چلتے دیکھ کر کیا یہ عہد کیا کہ ہاں اے رب العزت اگر تو نے مجھ سے میری اولاد کو مانگا تو میں تیرے خلیل کی طرح اس کو قربان کر دوں گا. …؟؟
کسی اولاد نے یہ سوچا کہ ہاں ! اے رب العزت اگر تو نے مجھ سے میری زندگی مانگی تو میں بھی اسماعیل علیہ السلام کی طرح اپنا سر تیرے لئے پیش کر دوں گا …..؟؟؟؟ ہر سال اس تہوار کے آنے کا مقصد صرف اسی بات کا تو اقرار ہے مگر افسوس ہم اسی اقرار, اسی وعدے, اسی عہد کو بھول کر اس تہوار کی تمام رسوم انجام دے جاتے ہیں اور اس کی روح کو فراموش کر جاتے ہیں!!!
لہذا اس قربانی پر اپنے ضمیر کو ٹٹولیں کہ کیا واقعی ہم نے اس موقع کو جذب ایمانی بڑھانے کا سبب بنایا یا محض اس موقع کو تہوار اور تفریح سمجھ کر گزار دیا؟؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں