زندگی کوشش کا دوسرا نام – جویریہ سعید




آپ سب کا بہت شکریہ کہ اپنے احساسات، درد، تجربات، دانشمندی کی باتیں شئر کیں۔ دل سے دعائیں بھی نکلتی رہیں۔ آپ سب کو سننا تھا۔ کسی کا جائزہ لینا یا صحیح اور غلط کا تعین کرنا مقصود نہ تھا۔ انسان خود کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر دوسروں سے بھی سیکھتا ہے تو فائدہ ہوتا ہے۔ آپ سب نے بھی ایک دوسرے کو سنا ۔ امید ہے فائدہ ہوا ہو گا۔

باقاعدہ ضرر پہنچانے والوں کی بات نہیں کی گئی تھی۔ بات صرف عدم توجہی، عدم دلچسپی یا تھوڑی بہت ناپسندیدگی کی تھی۔ اس فرق کو بہرحال ملحوظ رکھیے۔ جیسا کہ عرض کیا تھا کہ نارمل کی حدود بہت وسیع ہیں۔ اس لیے ان معاملات میں کوئی ایک درست یا غلط جواب نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا معاملہ الگ ہے اور نارمل بھی ہوسکتا ہے۔ کسی کی طرف سے نظر انداز کیا جانا یا دوری تکلیف دہ ہوتی ہے کجا کہ ناپسند کیا جانا۔ جو کہتا ہے کہ اسے فرق ہی نہیں پڑتا۔ اس کی بات دلچسپ لگی۔ گو کہ درد محسوس کرنا فطری ہے مگر دیکھنا چاہیے کہ ہم اسے مینج کیسے کرتے ہیں۔ درد ہماری شخصیت کی تعمیر و تخریب کرسکتا ہے۔ دیکھتے رہیے کہ یہ ہمیں مضبوط بنارہاہے یا کمزور تر کررہا ہے۔ چڑچڑاپن، شکایتیں، آدم بےزاری، بے اعتباری، سب کے بارے میں منفی رائے رکھنا، بد زبانی، طنز و طعن، ناخوش رہنا، لہجے کی کڑواہٹ، احساس کمتری اور مسلسل احساس محرومی کمزوری کی علامات ہیں۔ جو جتنا قریبی ہے، اس کی بے اعتنائی یا عدم توجہی کو جھیلنا اتنا ہی مشکل۔

خصوصا شریک زندگی کے معاملے میں یہ عدم توجہی اور فاصلہ ایک بالکل الگ موضوع ہے۔ کیونکہ یہ تو ساری زندگی کے پل پل کے ساتھ کا معاملہ ہے۔ اس کو الگ رکھتے ہیں۔ رشتہ داروں خصوصا سسرال والوں سے تائید اور ستائش کے چکر میں مرد اور خصوصاً بہت ساری خواتین ہلکان ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی صرف ایک یا دو لوگوں کی بے رخی کی اذیت انہیں بے قرار رکھتی ہے۔ مشکل تو ہے مگر یہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ہر ایک کو راضی نہیں کرسکتے۔ شاید یہی کافی ہو کہ ہم سے کسی کو ضرر نہ پہنچے اور مقدور بھر ذمہ داریاں ادا ہوتی رہیں۔ اس سے بڑھ کر خواہشات رکھنا، اور خود کو تھکانا خود ہمیں بے چین رکھتا ہے۔ جب اندازہ ہوجایے کہ دوسری طرف امکانات نہیں تو دھیان بانٹنے اور اہداف بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس پر کسی نے بہت اچھی باتیں لکھیں۔ ان شاءاللہ شئر کریں گے۔

اس پر ضرور چیک ہو کہ کہیں ہر ایک سے تائید اور ستائش اور توجہ کی طلب تو نہیں ہوتی جارہی۔ مثلا جہاں کوئی پسند آیا، جہاں کہیں کسی کی تعریف ہوئی یا جہاں کسی کو آپس میں ہنستے بولتے دیکھا فورا سے دل مچلنے لگا کہ ہمیں بھی یہ سب ملے، ہم سے بھی دوستی ہو۔ نہ ملے تو رنجیدہ اور خفا ہونے لگے۔ احساس کمتری اور احساس محرومی پیدا ہونے لگا۔ شکوے بڑھنے لگے۔ مان لیجیے یہ ممکن نہیں اور ٹھیک بھی نہیں۔ خود کو سنبھالنا چاہیے۔ (اس مسئلے کو ہلکا نہ جانیے۔ بہت سے شکوہ کناں اور ناخوش لوگ کا احساس محرومی اور غصہ غیر حقیقی توقعات کی وجہ سے ہوتا ہے۔) اس دنیا کا ایک نقص بہرحال یہ ہے کہ ہمیشہ نہیں مگر عام طور پر انسانوں کو ان کی ظاہری خصوصیات کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ درحقیقت آپ کسی دوسرے شخص سے زیادہ اچھے ہوں مگر پسندیدگی اور رفاقت کا اعزاز آپ کو نہ مل سکے۔

خیر بانٹتے رہنا اور اجر کی امید اللہ سے رکھنا ، بڑا اچھا سودا ہے۔ دنیا میں جو ملا وہ تو بس بونس ہے۔ کسی کے ساتھ طبیعت کے مل جانے میں بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔ مختلف مزاج کے حامل افراد بھی بہترین دوست بن جاتے ہیں اور ایک جیسی خصوصیات رکھنے والے بھی ایک دوسرے سے بے زار ہوسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ میں کوئی کمی یا عیب ہو۔ خود کو کم تر نہ جانیے۔ اس کا اندازہ آپ کو ہوگا اگر کوئی آپ کے ساتھ “مبتلا” ہوجایے اور آپ کا دل آمادہ نہ ہو۔ آپ میں سے بہت سارے لوگوں نے بہت اچھے جواب دیے۔ جو جتنا میچور ہوتا جاتا ہے، اس کی طبیعت میں اتنا اطمینان اور وسعت قلبی آتی جاتی ہے۔ اچھا یہ بھی سوچیے کہ چھوڑ تو دیتے ہیں۔۔۔ مگر کیا دل میں بھی اتنی وسعت آجاتی ہے کہ خوش دلی سے قبول کرلیں کہ بھئی اب ہر ایک تو ہم سے متفق نہیں ہوسکتا،

ہر  ایک  کو تو ہم پسند  نہیں  آسکتے
ہر ایک کی رفاقت تو  نہیں مل سکتی۔

راستہ الگ کریں۔ دل میں کچھ دیر کو رنج تو ہو، مگر دوسرے کے لیے کڑواہٹ نہ آئے۔ یہ مشکل ہے نا۔۔۔ مگر اس سے سکینت ملتی ہے۔ زندگی آسان ہوتی ہے۔ شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس کو دراصل غنی اور بے نیازی کہتے ہیں۔ جس کی دعائیں مانگنے کی ہدایت حدیث میں بھی ملتی ہے۔ اور مجھے تو عشق وشق کے بارے میں سارا کچھ پڑھ کر یہی سمجھ آیا کہ عشق مجازی سے حقیقی کا سفر “انگور کھٹے ہیں” قسم کی چیز نہیں۔

بلکہ دل کی سکینت اور قناعت کے ساتھ انسانوں کے لیے وسعت قلبی پیدا کرنے کا عمل ہے۔ یہ سب مشکل ہے۔ مگر زندگی کوشش کا دوسرا نام ہے۔ سب نے الگ الگ بہت سی اچھی باتیں لکھی تھیں۔ آپ اس مسئلے پر فکر مند ہیں تو ان کومنٹس کو ضرور پڑھیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں