لاک ڈاٶن اور بقرہ عید – ناہید کوثر گوجرہ




الحمد لله ہم مسلمان ہیں اور اللہ کے محبوب کے امتی ہیں …… اللہ تعالی کی ہم پر رحمت ہے کہ اس نے ہمیں سالل میں دو ایسے دن دۓہیں جو ہمارے لیے عید کے دن ہیں یعنی خوشی کے دن زندگی کٸ سال گزر گۓ . ان خوشی کے دنوں مناتے ہوۓ ، لیکن کبھی اجتماٸیت پر پابندی نہیں لگی تھی نہ کبھی بازاروں کی رونقیں کم ہوٸی تھیں .
دکھ تکلیف تو زندگی کا حصہ ہیں …… ان سے تو فرار نہیں ایک خاندان تکلیف میں ہوتا تو کٸی اس کی تکلیف بانٹنے والے ہوتے اسے حوصلہ دیتے . اس کی مدد کرتے لیکن جو دچکا کرونا واٸرس سے لوگوں کو لگا . اس کا تو جواب نہیں ……. نہ کوٸی امیر بچا نہ غریب اور نہ متوسط طبقہ غریب نے امیر کی طرف دیکھا . اس میں سے خدا ترس لوگوں نے دل کھول کر غریبوں کی مدد کی اور کچھ سنگ دل لوگوں نے اپنے ملازموں کو کام سے نکال دیا اور یہ کہ کر تنخواہ بھی نہیں دی کہ ہمارے کام بند ہو گٸے ہیں تو کہاں سے ؟ تم لوگوں کو دیں کچھ غریب لوگوں نے اس موقع سے فاٸدہ کر ہر کسی کے سامنے اپنے کام نہ ہونے کا اور گھر میں فاقوں کا رونا رو کر اتنا راشن جمع کر لیا کہ اسے دوکانوں سستہ بیچ کر نقد لے لیے ….. دوسری طرف سفید پوش طبقہ شرم کی وجہ سے کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلا سکا اور نوبت فاقوں تک آگٸی .
ان حالات میں ہی عیدالفطر کی خوشیاں دب کر رہ گٸی . بات صرف روٹی کپڑے تک محدود نہ تھی بلکہ بیماری نے بھی پریشان کر رکھا تھا . جو روزبروز بڑھ رہی تھی اور کرونا کے نام سے ایک دہشت پھیلا رہی تھی . حکومت کا علان تھا ، ہر قسم کے ادارے بند کر دیے جاٸیں لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں ملنا جلنا بند کر دیں . گھر میں رہتے ھوٸے بھی فاصلہ رکھیں . اپنے چہروں کو ماسک سے ڈھانپ لیں . اس وقت جن عورتوں کا پردے کے نام پر سانس بند ہوتا تھا …… انہوں نے بھی منہ پر ماسک پہن لیے! لگتا تھا کہ جو کام اللہ کے بندوں سے نہ ہوسکا وہ اللہ تعالی نے ایک نظر نہ آنے والی مخلوق سے کروا لیا جو ملک پردے کے خلاف تھے اب انہوں نے خود اجازت دے دی . یہ ہیں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ! ان سب حالات نے بھی ہمارے اندر رجوع الی اللہ کا وہ جذبہ پیدا نہں کیا . جیسا پیدا ہونا چاٸیے تھا . ہم نے اس آیت پر پھر غور نہیں کیا کہ کیا لوگوں ابھی وہ وقت نہں آیا کہ لوگوں کے دل اللہ کے خوف سے پگھلیں !
میں سوچتی ہوں کہ ان حالات نے لوگوں کے دل نرم نہ کیے تو کب ہونگے ….! درد دل سے کہنا پڑ رہا ہے کہ نہ جھوٹ چھوٹا نہ دھوکہ فریب نہ لوٹ مار اور نہ ظلم وزیادتیاں کس کس براٸی کا رونا روٸیں …… اے اللہ کے بندو ! پلٹ آٶ اللہ کی طرف حساب کا وقت قریب آلگا ہے . پھر پچھتاۓ کچھ نہیں ہو گا . اب بھی وقت ہے کرونا نے ہمیں کیا کیا نہیں سکھا دیا . کم میں بھی گذارا کرکے دیکھ لیا بازاروں کی شاپنگ کے بغیر بھی زندگی گذرتی رہی ……. یہاں ہم نے دیکھا کہ اللہ نے کرونا کی شکل میں شر سے خیر کو نکالا بہت سے دلوں کو اللہ تعالی نے اپنے کام کے لیے چن لیا غفلت میں پڑے ہوۓ کٸی دل بدل گٸے . ان حالات کے اندر اب بقرہ عید کی آمد آمد ہے ….. الحمد لله اب کرونا کا خطرہ کم ہے. احتیاط کے ساتھ عید کی خوشیاں اپنوں کے سنگ مناٸیے اور غریبوں کو بھی یاد رکھٸیے خلوص نیت کے ساتھ اپنے جانورں کی قربانی کے سا تھ ساتھ اپنے نفس کی قربانی کا بھی اہتمام کیجیۓ .
اللہ تعالی ہم سب کی قربانیوں کو قبول فرماۓ اور ذی الحجہ کے دنوں میں کی گٸی دعاٸیں قبول فرماۓ ……. ہمیں ہر نیکی کی توفیق دے اور ہر براٸی سے بچا کے رکھے . آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں