قربانی کا مطلوب کیا ہے؟ – شہلا خضر




ذی الحج کا مہینہ ، رہتی دنیا تک تمام عالم اسلام کے لۓ فخر اور احسان مندی کا مہینہ بنا رہے گا ۔ یہ مہینہ ہمارے جّد اعلیٰ سیدّنا ابراہیم ؑ کی لازوال داستان وفا اور بے مثال عبودیت کی انمٹ کہانی ہے ۔ یہ عشق خداوندی کی ایسی روشن مثال ہے ، جس کی بلندیوں پر رسائی کی سکت کسی بندۀ خدا میں نہیں ۔
عراق کے شہر “اوّر” سے تلاش حق میں سرگرداں ، یہ ماہتاب فلسطین اور مصر میں اپنی زوفشانیاں بکھیرتا حجاز کی سرزمین تک جا پہنچا اور پھر “خلیل اللہ ” اور ” یکسو مسلم ” ، اس بندۀ مومن نے عبودیت کی ایسی حیرت انگیز مثال پیش کی کہ جس کا تصور بھی محال ہے ۔اپنے بڑھاپے کی اولاد نوزائدہ شیرخوار بیٹے اور بیوی کو بے آب وگیا وادی میں بیت اللہ شریف کے قریب اللہ کے حکم پر چھوڑ جانا ۔ یہ اللہ کی ایک بہت بڑی آزمائش تھی …… جس میں وہ پورے اترے حکم خداوندی کی تعمیل میں لمحہ بھر نہ ڈگمگاۓ۔ ان کے جانے کے بعد اللہ کی مدد آئی اور نھنھے اسماعیلؑ کی ایڑھیوں کی رگڑ سے معجزاتی پانی کا چشمہ پھوٹ گیا ۔ پانی کی تلاش میں ایک بے قرار ماں کی یاس وامید کے بحر بیکراں کے بیچ گردش کی ….. یہ ادا رب کائنات کے دربار میں مقبول ہوئی اور تاقیامت بنی نوع انسان کے لۓ شعائر حج کا اہم رکن بن گئی ۔ ایک عام فہم اور ناقص الاایمان خاتون کے دل و دماغ میں کتنا کچھ منفی آسکتا ہے .
مگر یہ خاتون حضرت حاجرہ ہیں ….. جو صبر و استقامت کی پیکر ہیں . جنہوں نے اپنے شوہر حضرت ابراہیم ؑ کے دین اسلام کو دل وجان سے قبول کیا اور اپنایا یہاں تک کے تنہا صحراء نشین ہونا گوارا کیا مگر اللہ اور اس کے نبیؑ کی حکم عدولی نہ کی ۔ کتنی امید بھری دعائیں اپنے رب سے مانگی ہوں گی . یقین اور شعور کی پوری سچائیوں کے ساتھ جبھی تو شہہ رگ سے بھی قریب موجود اس پاک ذات نے ان کی وفا اور ایمان کا نذرانہ …… نہ صرف قبول کیا بلکہ دین کا ایک تابندہ چراغ بنا کر امت اسلام کی رہنمائی اور تقلید کا استعارہ بنا دیا ۔ آج کی عورت اپنے دین دار شوہر کے باپردہ رہنے کے حکم کو جبر اور شخصی آزادی کے خلاف سمجھ کر شوہر کو ظالم اور انتہا پسند کہتی نظر آرہی ہے ۔ کیا حضرت حاجرہ جیسی عفت مآب ہستی کی زندگی سے ہم نے یہی سبق سیکھا ہے ۔ بہت زیادہ سوچنے کا مقام ہے ۔ کیا ہم عید پر صرف اچھے پکوان پکانا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں یا بحیثیت مسلم عورت خوش دلی سے اپنے شوہر کی اطاعت کوبھی دین کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔
آزمائشیں یہیں پر نہ ختم ہوئیں ……. جب حضرت اسماعیلؑ لڑکپن کی عمر کو پہنچے تو خواب میں حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ وہ اپنے صاحبزادے اسماعیل ؑ کو زبح کر رہے ہیں ۔یہ ایک حکم الہی تھا جو خواب میں دکھائی دیا ۔انہوں نے بیوی سے پوچھا تو بغیر پس وپیش کے وہ راضی ہو گئی کہ حکم خداوندی انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز تھا ۔ حضرت اسماعیل ؑ کی للاہّیت کا عالم تودیکھیۓ ۔کھیل کود کے دن ہیں اور باپ جیسی شفیق ہستی اتنی بڑی قربانی مانگ رہی ہے ۔ مگر خاندان نبّوت کے اس بہادر مجاہد نے فورا” حامی بھر لی اور کہا کہ”بابا جان یہ اللہ کا حکم ہے تو دیر نہ کیجیۓ آپ مجھے صبر کرنے والا ہی پائیں گے ۔ اس سے پہلے کہ شفقت پدری غالب آۓ آپ تعمیل فرمائیں…… سبحان اللہ کیسا انوکھا ہے . یہ ” خلیل اللہ ” کا کنبہ ۔
اس کنبے کی وفا دیکھ کر تو فرشتے بھی ششدر رہ گۓ ہوں گے ایسانرالا نظارہ تو روۓ زمیں پر کبھی کسی چشم بینا نے نہ دیکھا ہوگا اور نہ ہی آئندہ کبھی دیکھ پائے گا ۔یونہی تو نہی اللہ نے انہیں اپنے دوست کا لقب دیا ۔کتنا کڑا امتحان دیا انہوں نے اورکتنی اعلی کامیابی ملی ۔ عین چھری چلاتے وقت ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ ایک مینڈھا رکھ دیا گیا ۔اللہ پاک کو تو مطلوب ہی تقوی تھا . بیٹوں کو ذبح کرنے کی سنت مطلوب نہ تھی ۔ حضرت اسماعیل ؑ کی صلب اطہر سے نبی پاک حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے ۓ رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ۔ آج ہماری نوجوان نسل عید الضحی کو صرف اپنے جانوروں کی نمائش کرنےکی حد تک مناتی ہیں ان کی فرمانبرداری کا جائزہ لینے کے لیۓ ان سے عشرۀ زی الحج کے دوران صرف انٹرنیٹ بند رکھنے اوراس قیمتی وقت کو زکراللہ کے لیۓ وقف کرنے کا کہہ کر دیکھ لیجیۓ .
خود ہی اندازہ ہو جاۓ گا کہ آج ہماری نوجوان نسل کس حد تک اللہ کی راہ میں قربانی دینے والی ہیں ۔ فلسفۀ قربانی کی روح سمجھے بغیر ایک تہوار سمجھ کر عید الضحی کو منا لینا کافی نہیں . ہمیں ان تمام مراتب عبودیت پر غور کرنا ہے اور ان سے حاصل شدہ اسباق کو ہرض جان بنانا ہے۔ اللہ پاک ہمیں سمجھنے والا اور عمل کرنے والا بناۓ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں