ذی الحج اور جنت کی کنجی – رضیہ بیگم




شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات!

نہ دولت سے نہ شہرت سے نہ گھر آباد کرنےسے
تسلی  دل  کو  ہوتی  ہے  خدا  کو   یاد  کرنے  سے

ذی الحج کے حوالے سے ماشاءاللہ عبادت کے بہت سے طریقے ہیں . ذکر و اذکار روزے اور فرض نماز کے ساتھ ساتھ دیگر نمازیں …. نماز اعمال کو بڑھانے رب سے ملاقات اورقرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے . کیونکہ قیامت کے دن سب سے پہلا سوال بھی نماز کے بارے ہی میں ہو گا اور دراصل یہی جنت کی کنجی بھی ہے.

سب سے پہلے ہم نماز فجر کے بعد سورج نکلنے کےدس بارہ منٹ بعد اشراق کی نماز پڑھ سکتے ہیں . پھر اسکے دو گھنٹے بعد چاشت کا وقت شروع ہوجاتا ہو جاتا ہے جس میں دو رکعت نماز توبہ اپنے گناہوں سے توبہ کے لیے اور دو رکعت نماز حاجت پڑھی جائے کیونکہ ہماری کتنی ہی حاجتیں اور خواہشات ہوتی ہیں . جو اگر ہم اس طریقہ سے مانگیں تو ان شاء اللہ قبولیت آسان ہو جاتی ہے اور پھر ان حاجات کے پورا ہونے پر اور بیش بہا نعمتوں کے شکرکے لیے نماز شکرانہ …… مغرب کے بعد نماز اوابین اور پھر رات کی سب سے قیمتی اور لاڈلی نماز تہجد …!

گویا دن میں کئی فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ اگریہ نفلی سجدے بھی کر لے جائیں تو انشاللہ رب کی رضا یقینی ہو گی . اسکے علاوہ ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال نکالنا اور اسکی خوشنودی کے لیے لوگوں پر خرچ کرنا ایک مالی عبادت ہے اورکلام پاک میں اس کے لیے ینفقون کا لفظ آیا ہے.

دین  اسکی  ہے  فقط  ایک ذریعہ انسان
دست انسان سے انساں کو خدا دیتا ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام کے مطابق زندگی گزارنے والوں میں شامل کردے . آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں