ہم نے اس گلشن کی خاطر لاکھوں جتن سرکار کئے – زبیر منصوری




یہ چاہتے تو ……. عید گھر میں بچوں کے ساتھ مزے سے گزار سکتے تھے مگر یہ کل ایک ایک کھال کے لئے گلیوں بازاروں محلوں میں پھرتے آپ کو ملیں گے . یہ چاہتے تو کورونا کے دنوں میں ماسک چڑھا کر گھر میں بیٹھ سکتے تھے مگر یہ مسجدوں مندروں اور کلیساؤں سے خواجہ سراؤں تک پہنچے اور راشن پہنچایا .
یہ چاہتے تو چند بیانات ٹوئیٹر ، فیس بک پر تھوڑے سے مگرمچھ کے آنسو اور میڈیا منیجمنٹ سے لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے تھے . مگر یہ حقیقی خدمت پر یقین رکھتے ہیں ۔ آپ جانتے ہیں ان میں سے وہ بھی ہیں جو ارب پتی ہیں جن کی اپنی زکوۃ اور سالانہ صدقات لاکھوں نہیں کروڑوں میں بنتے ہیں . مگر کھالیں جمع کرتے ہوئے ان کی بہترین گاڑیاں اور قیمتی لباس خون خون ہوتے ہیں اور یہ مسکراتے اور پرجوش ہوتے ہیں . ان کی ایمانداری کی گواہی ان کے دشمن بھی دیتے ہیں اور تو اور ان کی خواتین بھی ایک کھال کے لئے کبھی تو خود نکل کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ ہزاروں مفت کے رضا کار جیب سے خرچ کرتے ہیں . بھوکے بھی رہ لیتے ہیں ان کو پتہ ہے ان کو سرکاری نوکری پلاٹ پرمٹ کچھ بھی نہیں ملنا ہیں، ان کے بیسیوں اسپتال کلینکس اور آغوش ہیں اور یہ سب کچھ انہوں نے قوم و ملک کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ انہیں ووٹ نہیں ملتے مگر الیکشن کے اگلے دن یہ پھر میدان میں ہوتے ہیں
جن کے ہاتھوں ان کے بچے قتل ہوئے یہ انہیں ظلم سے بچانے کے لئے پبلک ایڈ کمیٹیاں بنائے ڈھال بن جاتے ہیں انہیں جن گلیوں سے گالیاں سننے کو ملتی ہیں یہ ان کی بچیوں کو گردن گردن پانی میں ڈوب کر گھر پہنچاتے ہیں ، انہیں سیاسی لڑائی میں منافقت کا طعنہ ملتا اور ان کے لیڈر کی ٹیڑھی ٹوپی کا مذاق اڑایا جاتا ہے . مگر یہ ہر مشکل موقعہ پر اپنا سارا اثاثہ لے کر انہیں طعنے دینے والے حاکموں کے پاس جا پہنچتے ہیں کہ قوم مشکل میں ہے. یہ ہماری کل جمع پونجی ہے . یہ حاضر ہے ، اگر کسی کام آ سکے ۔۔ یہ لوگ جی ہاں یہ لوگ …..! کل آپ کے پاس اللہ کے نام پر ایک کھال مانگنے آئیں گے . سینے پر بیج لگائے کورونا میں بے لوث خدمت کا اعزاز ان میں سے ہر ایک کے چہرے پر آپ کو نظر آئے گا یہ آپ کی دی ہوئی کھال سے کسی بچے کا بیگ خرید کر دیں گے کسی بیمار کی دوا یا پھر کسی بیوہ کا راشن …..
فیصلہ آپ کیجئیے گا کھال دیں گے بھی تو شکریہ نہیں دیں گے بھی تو یہ تو اپنا کام نہیں چھوڑیں گے نہ خدمت نہ کھالیں جمع کرنا۔۔
( ممکن ہو تو الخدمت کے لئے یہ اپیل ہر بھلے آدمی تک پہنچا دیجئیے)

اپنا تبصرہ بھیجیں