اور جب بلاوا آگیا ! – جویریہ سعید




ٹھنڈے سیاہ آسمان کے نیچے بازار کی آواز دیتی روشنیوں اور رونقوں کے درمیاں سے گاڑی بہت بے نیازی سے گزر گئی . اور اسی بازار کی پچھلی نیم تاریک گلیوں سے ہوتی ، اس معمولی عمارت کے سامنے روک دی گئی . تنگ سیڑھیان چڑھ کر تیسری منزل تک جاتےمیرے راہبر کے قدم لڑکھڑا رہے تھے …. ایک بار پھر اس نے بڑے اشتیاق سے میری جانب دیکھا …. “تم خوش ہو نا ؟ کیسا انعام ہے !! مجھے تو یقین نہیں آتا…”
میں نے ایک بار پھر اپنی خالی خالی نگاہوں سے اس کی پرشوق نظروں کو مایوس لوٹا دیا ……. میں کیا کروں …….. مجھے کچھ نہیں ہوتا …. مجھے یقین نہیں آتا …. ، مجھے کوئی کیوں بلاۓ گا ؟ وہاں تو نصیبے والے جاتے ہیں . تن من دھن کے سارے بوجھ سمیٹے میں ایسے بڑے خواب کیونکر دیکھوں ؟ درد کی گہری سرمئی دھند میرے اندر باہر پھیلی ہوئی ہے۔ خوشی اور امید کی ہر کرن اس دھند میں پہنچ کر راستہ بھول جاتی ہے ۔ مجھ تک نہیں پہنچتی ۔ پلٹنا ممکن نہ تھا اس لیے اپنے بھاری قدموں کو گھسیٹ کر اس چھوٹے سے فلیٹ میں بمشکل داخل کیا …. اور تھکے ہوے وجود کو سفید چاندنی پر گرا ڈالا …. وہاں موجود سب ہی چہرے دمک رہے تھے . خوشی ان کی آنکھوں اور لبوں سے چھلکی پڑتی تھی…
جلدی جلدی نوٹ بک پر نکات لکھے جا رہے تھے ……. کہیں ہم یہ نہ بھول جائیں، کہیں وہ غلطی نہ ہو جائے….
فلاں کتاب، فلاں سامان، فلاں بات.، فلاں دعا، فلاں طریقہ…
پر رونق بازار کے پیچھے اس دھیمی سی روشنی والے تنگ فلیٹ میں نہ جانے کون سے خزانے سمیٹے جا رہے تھے. ہر ایک مصروف تھا، سرشار تھا، اور نازاں بھی.اور میں انہی خالی نظروں سے سب کو دیکھتی رہی..جیسے ان سب کا حصہ نہ ہوں… جیسے ہر سال جانے والوں کی تیاری کو کچھ شوق، کچھ بیزاری سے دیکھا کرتی ہوں…. اور سوچا کرتی ہوں، کہ جب یہ وہاں پہنچیں گے، تو یہ کریں گے اور جب وہاں جائیں گے، تو یہ کر رہے ہوں گے اور میں؟ میں اس وقت اسی طرح معمول کے کاموں میں مصروف پھیکے اور اداس دن کاٹ رہی ہوں گی ….. اس ساری ہماہمی سے میرا کیا تعلق ؟ ذہن میں ریت اڑ رہی تھی ، خشک بنجر ریت۔۔ جس پر کسی جذبے کی کونپل نہیں پھوٹتی ۔ اور ایسے میں مائک سے بلند ہوتی آواز نے مجھے چونکا دیا…
“اب سب مل کر تلبیہ پڑھیں…. بآ واز بلند.!!!”
میری ریڑھ کی ہڈی میں برقی رو دوڑ گئی . یہ کس امتحان میں ڈال رہے ہیں ؟ بچنے کی کوئی صورت ممکن کیوں نہیں. میں نہیں ۔۔ میں یہ نہیں کروں گی۔ میرے زخموں سے بھرے وجود پر یہ الفاظ نہیں جچتے۔ میں کس منہ سے کہوں۔۔۔ نہیں نہیں۔ مگر سب ہی پڑھ رہے تھے اور میرا دل بیٹھ رہا تھا۔ ساتھ والی نے ہاتھ دبایا۔۔ اور چاروناچار مارے شرمندگی کے سب سے نظریں چرا کر.. میں نے بھی دھیمی، مری ہوئی آواز میں پڑھنا چاہا….
“لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک. ان الحمد و النعمت لک و الملک لا شریک لک. لبیک اللھم لبیک!!”
لبیک۔۔۔اللھم لبیک۔۔۔!..
سائیں سائیں سائیں۔۔۔ یہی چند ساعتیں اپنے ساتھ طوفانی جھکڑ لے آئی تھیں۔ ان کے سامنے میرا وجود لرزنے لگا۔ جیسے…. جیسے کسی نے بجھتے راکھ ہوتے کوئلوں کے آگے فل سپیڈ میں پیڈسٹل فین چلا دیا ہو….. راکھ اڑ اڑ کر دور تک بکھرنے لگی، اور بجھتے انگارے سلگ اٹھے…. جیسے…. بہت ہنگامے اور رونق والی تقریب میں ، اسٹیج کے پیچھے جھاڑو دے کر تھک کر بیٹھی مائی کو تقریب کا ہیرو ہاتھ پکڑ کر سٹیج پر کھینچ لائے اور اعلان کر ڈالے….
“یہ ہے آج کی لیڈی آف دی ایوننگ”
جب سب پردے اٹھا لیے جائیں اور ذات بری طرح عیاں ہو جاۓ… تم ہو اور وہ ہو….. اور نیچے دور تک پھیلی بیکراں کائنات ہو…شرمندگی ، بے بسی، بے یقینی اور بے حسی ایک دم بھل بھل بہنے لگی…. گھٹتی ہوئی آواز میں رونے سے دم گھٹنے لگا…. اور سارے بند ٹوٹ گئے…. میں نے کہا نا… کہ میں نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ مسکرا رہا ہے… مجھے محسوس ہو جاتا ہے جب وہ مسکراتا ہے…. اور تب بھی جب وہ بے نیاز رخ موڑے مجھے نظر انداز کرتا رہتا ہے. میں نے بہت دیر تک..گردان اکڑائے نہیں نہیں کرتے، خود کو پیچھے کھینچا تھا….
مگر اس نے مجھے یکدم کھینچ کر اپنے آگے گرا ڈالا … اور وہ بھی ساری کائنات کے سامنے!!!! وہ لمحہ خود سپردگی کا تھا…. میں نے مان لیا..کہ میرا بھی بلاوا آگیا ہے….

اپنا تبصرہ بھیجیں