کشمیر کی آواز – ڈاکٹر فرحت حبیب




5اگست ٢٠١٩کو فاشسٹ مودی حکومت نے ہندوستان کے قانون سے آرٹیکل 370اور 35A ختم کر کے کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کر دی. اور اسے بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے وہاں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے پچھلے ایک سال سے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے.
اس دوران ٢١٤کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے. انکا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے معیشت، تعلیم، کاروبار سب تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے. وہاں اسرائیلی بستیوں کی طرح ہندوؤں کو زمینیں دے کر آبادکاری کی جا رہی ہے. حکومت پاکستان کو نمائشی اقدامات کے بجائے عالمی فورم پر زیادہ موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے. اور عالمی برادری تک اپنی بات پہچانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے. کشمیر کی جنت نظیر وادی جس کی خوبصورتی اور حسین نظارے دنیا کے چند حسین مقامات میں سر فہرست ہیں یہاں کے لوگ بھی اتنے ہی خوبصورت ہیں اس سر زمین کو رب کریم نے پانچ دریاؤں کے قدرتی اور میٹھے پانی کی فراہمی کا ذریعہ بنایا ہے یہ آب حیات بھارت کی ایک ارب آبادی اور پاکستان کی ١٨ کروڑ آبادی کی ذندگی کا ضامن ہے اسی سے دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظام کی بدولت کھیت کھلیان لہلہا رہے ہیں بجلی بنتی ہے ڈیم پانی ذخیرہ کرتے ہیں .
یہ وجہ ہےکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہونے کے باوجود دشمن نے سازش سے کشمیر کو دولخت کر دیا دشمن نے ہماری شہ رگ پر ہاتھ رکھا ہوا ہے سندھ طاس معاہدے اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود دست درازی کرتے ہوئے مکمل قبضے کا فیصلہ کر لیا ہے . ہم سب ان معصوم کشمیر یوں کی ایک طرح سے تکلیف کے ذمہ دار ہیں یہ جنت نظیر وادی معصوم کشمیریوں کے خون سے رنگین ہے اس کے پانی میں ان کے ارمانوں کے خون کی آمیزش ہے ان کی حسرتوں کا خون ہے ان کی نسلوں کے مستقبل کا خون ہے لڑکیوں کی عزتوں کا خون ہے ماؤں کے جگر گوشوں کا خون ہے بیویوں کے سہاگ کا خون ہے معصوم بچوں کا خون ہے . اس لال پانی سے ہم اپنی فصلوں کی آبیاری کرتے ہیں اپنی نسلوں کو پروان چڑھا رہے ہیں اپنی زندگیوں کو بنانے سنوارنے میں منہمک ہیں .
کیا ہم سے ایسے آب حیات کا حساب نہیں لیا جائے گا جس میں شہیدوں کا لہو شامل ہے؟ کیا ہم اور ہماری نسلیں میدان حشر میں اس کائنات کے مالک کی عدالت میں اپنی صفائی میں کوئی جواز پیش کر سکیں گے جسکا آسمان و زمین کا سارا نظام بہترین میزان پر قائم ہے جو لطیف و خبیر بھی ہے؟ کیا کشمیر کی ماؤں بیٹیوں بہنوں کی آہیں اور سسکیاں عرش عظیم پر سنوائی کا درجہ نہ پاتی ہونگی ؟کیا ان کی ناتمام تمناؤں کے خون کا بوجھ اٹھائے ہم اس میزان کے ترازو کو اپنے حق میں جھکا پائیں گے؟ جہاں نہ شفاعت کام آئے گی؟ جہاں ذرہ برابر کسی کا حق مارنے کا حساب بھی لیا جائے گا؟ دراصل ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور ہم اپنے ازلی دشمن شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنی خواہشات کے سمندر میں بہ کر دنیا و آخرت کھو چکے ہیں اسی لئے آج ہم ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ہماری نسلوں کی بربادی کا نوشتۂ تقدیر بھی لکھا جا چکا ہے اور ایک ایسی مغربی تہذیب کی دلدادہ نسل پروان چڑھ چکی ہے جس کا کعبہ و قبلہ عیاشی بھری ذندگی کے سوا کچھ نہیں اس مخلوط نسل کا حساب دینا بھی ہمارے نامہء اعمال میں لکھا جا چکا……
کیسا ہو گا وہ دن اور کیسا ہو گا ہمارے ناکردہ گناہوں کا وہ بوجھ جو اس دن ہم کو اٹھانا پڑے گا اس کا تصور بھی محال ہے اگر ہماری مردہ روح میں جان پڑ جائے تو وہ بھی اس خطرناک صورتحال پر لرز جائے جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا جب پہاڑ کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اس دن ہر شخص دیکھ لے گا کہ وہ کیا نامہ اعمال لے کر آیا ہے. کہیں ہماری مشکلات کشمیریوں کی بددعاؤں کا نتیجہ تو نہیں ہماری پریشانیاں اس بے حسی کا نتیجہ تو نہیں جسکی بدولت انکا درد ہمیں نظر نہیں آتا انکی آہیں عرش کو تو ہلا تی ہیں مگر ہمارے دلوں کو تڑپاتی تک نہیں…..٥فروری کو دنیا بھر میں کشمیر یوں سے یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جائے گا مگر انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں انکی ذندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ ہوتی جا رہی ہے چھ مہینوں سے زائد جاری کرفیو نے بھارت کے ناپاک عزائم کا پردہ فاش کر دیا ہے مگر پوری دنیا میں آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں جب تک پاکستانی کشمیری بھا ئیو.
ں کے لیے اٹھنے کا ارادہ نہیں کریں گے تب تک ان کے مقروض رہیں گے انکے احسانوں کے بوجھ تلے دبے رہیں گے اور انکی بددعائیں ہمارا پیچھا کرتی رہیں گی ہماری مقروض ذندگی کی ڈور ہمارے نامہ اعمال کو بھی داغدار کرتی رہے گی ….. کیونکہ ہم نے اپنی خوشیوں کی بنیاد کشمیریوں کی قبر پر کھڑی کی ہے اسی لئے ان میں آگ لگ گئی ہے ہماری آنے والی مغرب زدہ نسلوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے اور ہم بےبسی کی تصویر بنے انکو اس ملک کی مہنگائی لاقانونیت اور غربت کے ہاتھوں مرتا ہوا دیکھ رہے ہیں . اے رب جلیل! اے مالک دو جہاں!ہم نے امت مسلمہ ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں پر جو ستم توڑا ہے انکو بےآسرا جو چھوڑا ہے ہماری اس پر گرفت نہ فرما….
یا رب! ہم تیرے ناتواں بندے روز محشر حساب نہ دے سکیں گے ہمیں معاف کر دے ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر اپنا رحم و کرم فرما دے ہمارے کشمیری بھائیوں کے ہاتھ اور بازو بن جا کیوںکہ جب تیری مدد شامل حال ہو جاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ظلم نہیں کر سکتی. یا رب ہمارے کشمیری بھائیوں کی خاص عالم غیب سے مدد فرما… آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں