کشمیر کی جلتی وادی اور ہم – عایشہ غازی




کچھ حادثات کو ہم برسیوں میں بند کر کے انکے غم سے دستبردار ہو جاتے ہیں . کشمیر بھی ہمارے لیے ایسا ہی غم ہے ……. ایسے لفظ نہیں مل پائے جو دکھ کی نمائندگی کر سکتے . وہ کشمیریوں کو قتل کرتے رہے ، کشمیری جوانوں کی چیخیں انکے عقوبت خانوں میں گونج کر مرتی رہیں .
دنیا تک ان پامال ہو جانے والی عورتوں کی چیخیں نہیں پہنچیں . جن کے مرد شام ڈھلے ہی گھروں سے نکال کر میدان میں باندھ دئیے گئے تھے . صبح جب وہ گھروں کو لوٹے تو انہیں زندہ لوٹ آنے کا غم کھا گیا …… اس سے بہتر تھا گھروں میں بین کرتی زندہ عورتوں کی جگہ لاشیں پڑی ہوتیں ۰ کئی حادثے موت کو زندگی سے بہتر بنا دیتے ہیں . ان کی پیلٹ گن سے چھینی گئی بینائیوں سے لے کر دریا میں بہہ کر آزاد کشمیر آتی ہوئی عقوبت زدہ لاشوں تک ، کوئی ایک غم نہیں جو ان ستر سالوں کے غم کا خلاصہ ہو سکے اور اب جب بسوں میں بھر کر آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں آبادکاری کے لیے لائے جا رہے ہیں، اس دنیا سے باہر کے لوگ کشمیری گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکتے ہوئے خوف کو محسوس نہیں کر سکتے .
اس خوف کے کتنے پہلو ہیں ، ہم نے کبھی محسوس کرنے کی کوشش نہیں کی ……ہم بحیثیت ایک ریاست ان کے لیے کچھ نہیں کر سکے لیکن پہلے کی بات اور تھی . پاکستان سے گئے مجاہدین اور ٹی وی پر چلتے “انگار وادی” جیسے ڈرامے ہمیں تعلق کا حوصلہ دیے رکھتے تھے. پہلے وہ شرمندگی نہیں تھی جو اب ہے . اب جبکہ حکومت پاکستان کے پاس موقع بھی تھا اور دلیل بھی ، وہ درخت لگانے اور خاموشی اختیار کرنے سے بھی اگلی رسوائی تک گئے . مجھے نہیں معلوم غم کی برسی پر گانا ریلیز کرکے یہ خود آئینے میں اپنا چہرہ کیسے دیکھتے ہیں …..جن میں کچھ تھوڑی بہت ہمت اور غیرت ہوتی ہے ، وہ کاغذوں پر لکھے نقشے اپنے فوجی بوٹوں تلے روندتے ہوئے مٹی پر نقشے کھینچتے ہی اور انڈیا جیسا محلے کا بد معاش دور سے کھڑا بھونک بھونک کر اپنی ہڈی واپس مانگتا رہتا ہے .
اور ایک ہم ہیں ، نقشے کھینچ کر تسلیم کرتے ہیں کہ “ہمارے“ اتنے حصے پر دشمن کی فوج بیٹھی ہے. اچھی یا بری ، جیسی بھی تھی ، پہلے ہماری ایک فوج تو تھی ناں ، اب تو بس “فوجی بینڈ“ رہ گیا ہے …… انا للہ و انا الیہ راجعون

اپنا تبصرہ بھیجیں