بچوں کے رویے- محمد اسعد الدین




ڈیئر پیرنٹس!!آپ اپنے بچوں کے بارے میں بہت فکر مند رہتے ہیں؟ دل وجان سے خواہش رکھتے ہیں کہ میرے بیٹے ، بیٹی کی تربیت اور رویہ ایسا ہو کہ خاندان کے سارے رشتہ دار، محلے ، پڑوس والے جو بھی ان کو دیکھے یا بات چیت کرے تو تعریف کرے لیکن ۔۔۔۔ ساتھ ہی ایک عجیب سی تشویش بھی رہتی ہے کہ بچے کہیں کوئی غلط عادتیں ، حرکتیں نہ سیکھ لیں ، بے ہودہ زبان نہ استعمال نہ کرنے لگیں یعنی بچوں کو اچھا بنانے کے لیے بہت کوششیں کرتے ہیں . لیکن اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟؟
پھر یہ ہوتا ہے کہ پیرنٹس بچوں کے رویے ، حرکتیں دیکھ کر کبھی غصہ،کبھی مایوس اور کبھی دل ہی دل میں گھبرانے لگتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ، کبھی آپ نے غور کیا ؟؟ کمرشل پیرینٹنگ کے ایکسپرٹس اس “کیوں” کے بارے میں بہت سارے reasons اور حل کے کئی نسخے ، ترکیبیں اور فارمولے بتاتے ہیں . لیکن دوباتیں ہیں جوپیرنٹس کے بار بار یاد کرنے اور خوب اچھی طرح سمجھنے کی ہیں۔
پہلی بات : بچے کی تربیت سادہ ، مگر بہت محنت طلب فل ٹائم کام ہے ، تربیت کسی خاص وقت تک محدود نہیں ، خاص جگہ کی پابند نہیں ، بلکہ یہ ایک regular اورcontinuously کرنے کا کام ہے۔
دوسری بات : پیرنٹنگ ”آؤٹ سورس“ کرنے والی چیز ہی نہیں ہے . کیونکہ دنیا میں آپ کے بچے کو آپ سے زیادہ پیار ، اس کا خیال کوئی کرہی نہیں سکتا ، آپ سے زیادہ کوئی فکرمند نہیں ہوسکتا ، اس لیے اگرتربیت کے کام کو سوچ سمجھ کر یا سادگی میں کسی اور کے حوالے کریں گے ، کسی اور سے توقع کریں گے تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں