اچھے لوگوں کے اچھے حکمران ہونا چاہئیں – افشاں نوید




عید سے کچھ پہلے ملاقات ہوئی ……. شام کے سائے ڈھل رہے تھے۔ تنہا کمرے میں قرآن پڑھ رہی تھیں۔ میں نے سلام دعا کے بعد پوچھا
عائشہ باجی ! کیسے لگتے ہیں شام وسحر منور صاحب کے بن ؟ بولیں …….. تکلیف بڑھتی جارہی تھی , دیکھی نہیں جاتی تھی ۔ اچھی جگہ چلے گئے ان شاء اللہ اس کی رحمت کے سائے میں ہونگے۔
یہ توعارضی جدائی ہے۔ دعا کرو اس کی جنتوں میں اکٹھے ہوں۔ ہمیشگی تو وہاں ہے۔ یہاں تو مسافرت کا گھر ۔ اس وقت تو آنے جانے والے تنہا نہیں ہونے دے رہے ۔ شریک حیات کی جدائی معنی تو رکھتی ہے ۔ جو آزمائش دیتا ہے وہ صبر بھی عطا کرتا ہے ۔ میں نے کہا کچھ ان کے آخری ایام کے بارے میں بتائیں ۔ بولیں ……… “خاموش طبع تھے۔ بتاتے تو کچھ تھے نہیں اس لیے خود محسوس کرنا ہوتا تھا ۔ بیماری کی شدت میں بھی نہ کوئی مطالبہ , نہ آہ و بکا , نہ پریشانی کا اظہار ۔ کچھ ایسا نہیں کیا کہ ہم گھبرا جائیں ۔ بس ان کے اعصاب جواب دیتے جارہے تھے یاد داشت تو تقریبا دو برس سے متاثر تھی۔ کہہ کر بھول جاتے , رکھ کر بھول جاتے۔ مجھے ذاتی خرچ کے لیے پیسے دیتے تھے۔ پچھلے دوبرس کے پیسے میں نے الگ ہی رکھے ہیں خرچ نہیں کیے۔ گمان گزرتا تھا کہ یادداشت کمزور پڑ رہی ہے ایسا نہ ہو کسی کی امانت کے پیسے رکھے ہوں بھول کر اس میں سے دے دئے ہوں۔ میں نے بیٹی سے ذکر کیا کہ پچھلے دو برس کے ابو کے کوئی پیسے میں نے احتیاطاً خرچ نہیں کیے۔
بیٹی بولی, ہاں ابو ملاقات پر گاہے گاہے مجھے بھی جو پیسے دیتے تھے اتفاق سے میں نے بھی خرچ نہیں کیے۔الگ ہی رکھے ہیں۔مجھے بھی گمان گزرتا تھا کہ ابو کی یاداشت کبھی کبھی بہت متاثر لگتی ہے۔ شک کی چیزوں سے بچنا ہی چاھیے۔” میں نے سنا اور سوچا۔یہ اس معاشرے کی ایک ہلکی سی جھلک ہے جہاں ۔۔۔۔ کرہشن بھی پکڑی جاتی ہے تو اربوں کی ہوتی ہے لاکھوں کی نہیں ۔ جہاں پلازے , پٹرول پمپ بنائے جاتے ہیں , شوگر ملیں لگائی جاتی ہیں قومی دولت پہ قبضہ کرکے ۔ یہ ایک مثال نہیں۔ہمارے اطراف ایسے ہزاروں لوگ ہونگے جو تقویٰ کے اسی اعلیٰ درجہ پر فائز ہونگے . زندگی یونہی پھونک پھونک کر احتیاط کے ساتھ گزارتے ہونگے ۔ بہت ذمہ داری کا عنوان ہے مسلمان ہونا۔ جی خوش ہوتا ہے ان صحبتوں میں بیٹھ کر۔ سماج میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں الحمدللہ مگر شومئی قسمت کہ
قوموں کی برادری میں ہم اپنے حکمرانوں سے پہنچانے جاتے ہیں۔ جس ملک کے ایسے محتاط باشندے ہوں وہ دنیا کے ملکوں میں کرپشن کی دوڑ میں وننگ اسٹینڈ کے اریب قریب ہی نظر آتا ہو۔ چودہ اگست کا جشن سرگوشی میں کہہ رہا ہے کہ اچھے لوگوں کے اچھے حکمران ہونا چاھئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں