تاریخ دہرائی جاتی ہے – ارم ظہیر




تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا ہے . پرانے زخم جیسے دوبارہ سے تازہ کر دئیے . 24 اکتوبر 1963 کو لاہور میں مولانا مودودی صاحب رحمتہ اللہ کا جلسہ ہو رہا تھا. اور ایوب خان کی سیکولر حکومت تھی. جلسہ عروج پر تھا مولانا صاحب سٹیج پر موجود تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی.
اور ایک جان نثار کارکن مولانا کو بچانے کی کوشش میں ان کی ڈھال بن گئے اور گولی ان کو خالقِ حقیقی سے ملانے کا سبب بنی. اللہ بخش صاحب مرحوم جماعت اسلامی کے پہلے شہید وہ کوئی اور نہیں بلکہ میری ساس کے والد محترم تھے . یعنی میرے شوہر کے نانا جان . محترم اللہ بخش صاحب نے جب جام شہادت نوش کیا تو ان کی یہ بیٹی یعنی میری ساس صرف اٹھارہ سال کی تھیں اور ان سے چھوٹے پانچ بھائی تھے . امی بتاتی ہیں کہ ہم نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے. لگتا تھا کہ دنیا ہی ختم ہو گئی ہے. لیکن اللہ جب کسی سے کچھ لیتا ہے تو صبر کرنے والوں کو انعامات سے بھی نوازتا ہے. امی کی دادی بھی حیات تھیں جب ان کے والد شہید ہوئے . کچھ تھوڑی سی زمین تھی اور باقی اللہ کی رحمت کہ تنگی کے دنوں کو اللہ نے آسانی میں بدل دیا. امی کے بھائی بھی وقت گزرنے کے ساتھ جوان ہو گئے. اور اللہ نے اپنے کرم سے سب کو ہدایت کا رستہ دکھایا اگر باپ کو بچوں سے جدا کیا تو ان کے لیے زندگی گزارنے کے وسیلے بھی تو اللہ نے ہی پیدا کیے.
اللہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا. آج بھی امی اپنے والد کی شہادت کا ذکر کرتی ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں.
کراچی میں جماعت اسلامی پاکستان کی کشمیر کے لیے نکلنے والی ریلی میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا.. دوبارہ پھر ویسی ہی سیکولر حکومت ہے. اور ریلی میں اچانک بلاسٹ سے جہاں بہت سے کارکن زخمی ہوۓ وہاں ہمارے بھائی رفیق تنولی کو اللہ نے شہادت کے رتبہ پر فائز کر دیا. جب میں نے رفیق بھائی کی شہادت کی خبر سنی تو مجھے لگا کہ آج ایک اور اللہ بخش صاحب اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں. ان کی زوجہ اور والدہ کے غم کو دل پر محسوس کر رہے ہیں یوں لگتا ہے کہ صبر کا لفظ بہت چھوٹا ہے اور غم بہت بڑا ہے. اللہ قرآن میں خود فرماتا ہے
” ان اللَّه مع اصبرین” ، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
اللہ تعالیٰ رفیق بھائی کے گھر والوں کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے. اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے. اور ان کے صبر کی بدولت درجات بلند فرمائے. ان شاء اللہ یہ مشکل وقت گزر جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ ہمیں جنت میں اکٹھا کر دے گا. جہاں نہ کوئی غم ہو گا اور نہ کوئی پریشانی. سلامتی ہو گی اور اللہ کی حمدوثنا ہو گی. اللہ سے اچھی امید کے ساتھ زندگی گزاریں. اللہ اپنے ساتھ اچھا گمان رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو..

تاریخ دہرائی جاتی ہے – ارم ظہیر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں