قربانی – ساجدہ اقبال




جس طرح کسی مکان کے لیے ضروری ہے کہ! اسکی ایک ”بنیاد“ ہو ، جس پر اس کی چھت تعمیر کی جائے …… اسی طرح یہ بھی ضروری کہ یہ بنیاد اتنی گہری اور مضبوط ہو کہ دیواروں کا اور .چھت کابار اچھی طرح سنبھال سکے ۔ ورنہ وہ ہوا کے کسی ایک بھی تیز جھونکے یاں بارش کے کسی ایک بھی تند حملے کی تاب نہ لا سکے گا اور چاہیے اس کی ”دیواریں اور چھتیں“ اپنی جگہ کتنی ہی ٹھوس اور پاے دار کیوں نہ ہوں ۔
اسے ایک کھنڈر کی شکل میں تبدیل ہو جانے سے کوئی شے بچا نہ سکے گی ۔ اور واقعی یہ بات حقیقت ہے۔ کہ جس جیز کی بنیاد ہی کمزور ہو وہ کیسے قاٸم رہ سکتی ہے۔ یہی مثال ہمارے ملک پاکستان کی ہے کہ جس کو کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اور دو قومی نظریہ جس کی اساس تھا …… جن کے ساتھ ہم رہتے تھے، اٹھتے بیٹھتے تھے، کھاتے پیتے تھے لیکن ”دل“ ملے ہوے نہ تھے.” ہر شخص“ کے دل میں اپنے پاک ”وطن “ کی آرزو تھی جو اس وقت کی قاٸدانہ صلاحیت رکھنے والوں نے جن میں قائد اعظم رحمت اللہ علیہ , لیاقت علی خان , سردار عبدالرب نشتر اور مولانا برادران کی قربانیاں پوری قوم کے سامنے ہیں ۔” قائد اعظم“ نے ہی مسلمانوں میں ”آذادی“ کی روح پھونکی ۔ جس سے نوجوانوں میں جوش و خروش ابھر کرسامنے آیا یہ وہ دور تھا کہ ! جس میں بچے بچے نے اپنا رول ادا کیا ۔ یہاں تک کہ جس شخص میں جو ”صلاحیت“ تھی اس نے وطن پر نچھاور کر دی ۔ زرا ہم سوچیں تو سہی کہ! ہم سب کو ایک جگہ جمع کرنے والی کیا چیز تھی؟
”کلمہ“ …….. اور اتحاد بھی کلمہ کی بنیاد پر تھا ۔ نہ سندھی , نہ بلوچی , نہ پٹھان کا جھگڑا ۔ صرف ایک ہی لگن کہ! امنگوں بھرا وہ دن کب آے گا کہ!ہماری زمین ۔ہمارہ وطن جس میں ہم اپنے تمام معاملات ”زندگی“ گزارنے کے لیے کسی غیر کے ”ڈکٹیشن“ کے محتاج نہیں ہونگے ۔ اپنے فیصلے قران و سنت کے مطابق کرینگے ۔ آخر وہ امنگوں بھرا دن آھی گیا کہ! جس میں ہمارے محافظوں کا خون ،بلکتے بچے، عورتوں کی عزتیں ، نوجوانوں کی شہادتیں اور بزرگوں کی میتں سب اس سرزمین کو حاصل کرنے میں لگ گیں ۔ آج ہم ان کی وجہ سے اپنی ”سرزمین “میں سانس لے رہیے ہیں۔لیکن ”بدقسمتی“ کھیں یاں کچھ اورکہ! آج اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی ہم وہ قران کا”ضابطہ حیات“نافز کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہیں ہیں! اور اب جبکے ایک آذاد ملک ہیے اس میں صرف ”حکم “کرنے کی دیر ہیے اور ہمارے ”حکمران“ اب نیا ”پاکستان“ بنانا چاھتے ہیں .
اس کی مثال بلکل ایسی ہیے کہ ! کوئی نا فرمان بیٹا بڑے ہوکر اپنے والد سے کہے کہ آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ۔ تو والد کے دل پر کیا گزرتی ہے ۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ھمارے گھر ایک مرتبہ جشن آذادی کے سلسلے کا پروگرام Tv پر نشر ہو رہا تھا کہ جس میں بچے اپنی اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے بارے میں بتا رہے تھے اور پھر ایکدم سے وہی بچوں کے درمیان فلمی گانوں کا مقابلہ چل پڑا اور ان کی اس ”کارکردگی“پر ان کو قیمتی انعامات دیے گۓ ۔ اور جب ”اناونسر“نے کہا کہ خواتین و حضرات یہ ہیں ہمارے ملک کا سرمایہ حیات آج کی جنریشن جس نے کل کو اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہیے اور ملک کا نام روشن کرنا ہے تو ھمارے گھر آے ہوے بزرگ زور زور سے رونے لگے ”استفسار“کرنے پر انھوں نے بڑے دکھ سے کہا …….
بیٹا آپ لوگ کیا جانیں وہ قربانیاں جو اس ملک و قوم کے لیےدی گٸ ناچ ناچ کر یہ ملک نہیں بنا سر کٹے ہیں ۔ مجھے اس وقت ”محسن بھو پالی“ کا شعر یاد آگیا
ملا نہیں ہے وطن ہم کو تحفے میں
جولاکھوں دیب بجھےہیں تویہ چراغ جلا

اپنا تبصرہ بھیجیں