ڈیئر پیرنٹس!آئینہ اپنے ذہن میں فٹ کرلیں – محمد اسعد الدین




ڈیئر پیرنٹس !!ٹھنڈی ٹھنڈی ،میٹھی میٹھی باتیں تو بہت ہوگئیں کیا خیال ہے ، اصل کام کی بات بھی کرلیں ؟؟ یہ ایک آئینہ ہے اسے دیوار پہ نہیں ۔۔۔۔دماغ میں فٹ کرلیں ،یہ کچھ سوال ہیں ،آئینے کے سامنے کھڑے ہوجائیںاور اپنے آپ سے سوالات کریں ، آئینہ خود آپ کو سارے جوابات دے گا ۔یہ جوابات بے شک آپ کسی سے شئیر نہ کریں ،اب آئیے سوالات کی طرف ۔۔۔۔۔
جواچھے شوہر اور بیوی نہیں بن سکتے ، کیا وہ اچھے پیرنٹس بن سکتے ہیں ؟
جو پیرنٹس اور گھر کے بڑے گھریلو ماحول کو ٹھیک نہیں کرسکے انہیں بچے سے اچھی تربیت کی توقع کرنی چاہیے ؟
وہ پیرنٹس جن کے پاس اپنی زندگی کے ٹارگٹس تھرڈ کلاس ہوں ، وہ اپنے بچوں کو لائف کے ” اے کلاس گولز “ کے بارے میں بتا سکتے ہیں ؟؟
وہ پیرنٹس جو خود ” ڈبل اسٹینڈرڈ “ اور” دو چہرے “رکھتے ہوں ( بچے کے سامنے کچھ ، بچے کے پیچھے کچھ،گھرمیں کچھ اور گھر کے باہر کچھ اور ہوں ) اپنے بچے کو منافقت سے بچا سکتے ہیں ؟
ہم نے ساتویںسے لے کر فرسٹ ائیر تک 2500 بچوں کا ڈیٹا جمع کیا ، حقیقت میں یہ ڈیٹا نہیں 2500 چلتی پھرتی تصویریں ہیں ، ان بچوں پر ریسرچ کے دوران دو اور دو چار کی طرح صاف پتہ چل گیا کہ ۔۔۔۔پڑھے لکھے پیرنٹس اصل میں کتنے پڑھے لکھے ہیں ۔اپنے آپ کو بہت ڈیسنٹ ظاہر کرنے والے مما ، پپا حقیقت میں کتنے ڈیسنٹ ہیں ، گلی ، محلے میں دیندار دکھائی دینے والے گھروں میں کتنے دیندار ہیں ، اوروں کو ٹھیک کرنے کی خواہش رکھنے والے پیرنٹس گھر میں بچوں سے کتنے ٹھیک ہیں ۔
عادات ، رویوں ، مزاج کے مسائل کاشکار 2500 بچے وہی ہیں جن کے پیرنٹس کا آپس میں مسئلہ ہے یا گھر ، گھر نہیں بلکہ ایک بھنڈارخانہ ہے ۔۔۔ اسی حوالے سے ریسرچ کی مزید کچھ اور فائنڈنگس ہیں ، وہ اگلے بلاگ میں ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں