مسجد اللہ کا گھرہے – صبا احمد




ہر انسان دنیا میں عبادت گاھوں کا احترام کرتا ہے ۔اس کے اندر مذھبی طریقے سے داخل ھوتا ہے ۔ تمام قوانین اور ضوابظ کے مطابق ان کو توڑنے کی جسارت بھی نہیں کرتا ۔ مگر کچھ اتنے بے ببباک ایکڑ اور ڈراٸیکٹر ہیں کے وہ مذہبی پابندیوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے وہ دنیا میں اتنے کھو جاتے ہیں کے مذھب اور اس کا آٸین اورضابطہ حیات کو بھی پس پشت رکھ دیتے ہیں ۔
یہی پچھلے دنوں لاھور کی مسجد میں صبا قمر اور بلال سعید ایک گانے کی شوٹ میں کیا گیا ۔ مسجد اور مندر میں فرق ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ اور وہ رقصں و موسیقی کی اجازت نہیں دیتا . ہر مسلم گھرانے میں بچوں کو بچپن سے بتایا جاتا ہے ۔ واللہ عالم ایکٹر اور ڈراٸیکٹر مسلم ملک میں جن گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کو اس کی تعلیم نہیں دی جاتی ۔ مگر تعلیمی اداروں میں بھی دی جاتی ہے ۔ شوبز کی دنیا گمراہ ہی ہوتی ہے ۔ دین اور دنیا کے درمیان کی پابندیاں ذاتی مفاد کے سامںنے ہیچ ہیں ۔ مسجد اللہ کاگھر اور رحمت کا مقام ہے ایک برطانوی شہزادی مسجد کا احترام کرتی ہے تو مسلم لڑکی تو بتول ہے ۔ وہ کیسے اپنا ایک نازیبہ قدم اٹھاۓ گی ۔ صبا قمر ایک انڈین مووی کی ہٹ ہونے پر اپنی تمام اسلامی اقتدار بھول بیٹھی ۔ ان کو ایسا رول کرنے سے انکار کردینا چاہئے تھا ڈراٸیکٹر کو ….. صرف خانہ کعبہ کی تعظیم ہم پر فرض نہیں ھے ۔
ہر مسجد کا احترام لازم ہے چاہہ دنیا کے کسی کونے میں ھو . اگر کوٸی انسان آپ کو نہیں دیکھ رہا تو اللہ تو ہر جگہ موجود ہے ۔ وہ تو آپ کو دیکھ رہا ہے ۔ ہر گناہ کرتے ہوۓ وہ ہر جگہ موجود ہے ۔ یہی تو مومن کا ایمان کا حصہ ہے ایمان بالغیب پر ۔ اور مومن کا دل بھی اللہ کا گھر ہے جو مسجدوں میں غیر حق کی بات کرتے ہیں وہ انگاروں سے اپنا دامن بھرتے ہیں ۔ جب وہ شوٹ کررہے تھے تو انتظامیہ کہاں تھی ؟ ایک مرتبہ دستگیر کے علاقے کی مسجد میں بھی اسی طرح زبردستی ایک ٹیم آ گٸی تھی مگر وہاں کی انتظامیہ الرٹ ہوگئی . فورا ذمداران آۓ ان سے بات کی تو انہوں نے مسجد کے احاطے رمضان کی پروگرام کی شوٹ کی جویریہ ندیم اور عمران عباس تھے ۔ لباس ٹھیک تھا مگر پھر بھی مسجد میں لوگوں نے ان کو منع کیا ۔ مگر ناچ گانے کا معاملہ نہ تھا ۔ بعد میں حکومت اور عوام کو علم ہو رہا ہے ۔ یہ تو نہ آپ اپنی و اخلاقی اور نہ ہی فانونی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔
حکومت کو بلکہ سپریم کوٹ کو چیف جسٹس کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے ۔ پورا عملہ گناہ کا مرتکب ہے ۔ ہم ختم النبوت کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ بکے ہوۓ بیورہکیٹ سے اب مزہبی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں ۔ ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے کے مسجد کے تقدس کو پامال نہ ہونے دیں . یہ مسجد وزیر مغل دور کی یادگار شاہکار ہے ۔ بھارت میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے حکم پر وہاں کے مسلمان شھید ہوگئے پھر ہماری عبادت گاہوں کا احترام غیر مسلم بھول جاٸیں گے . ہماری نسل جو مغرب اور ہندو تہزیب کی دلدادہ ہے ۔ وہ اپنی مذہبی اقہار اور دین کو بھول جاٸیں گے موسیقی کے تو پہلے ھی رسیا ہوچکے ہیں .
کرونا جیسے وبا کے دوران بھی موسیقی کے پروگرام جاری رہے . ٤اگست بھی ہے جشن آزادی…..ہم نے وطن اس لئے نہیں حاصل کیا تھا بلکہ اسلام کا قلعہ بنانا ہے ۔پاکستان کے ہر شہری کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے یہ ان کا مذہبی حق ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں