ان محبتوں کومیں کیا نام دوں – بنت شیروانی




ان محبتوں کو کیا نام دیا جاۓ ، ان قربتوں کو کن الفاظ سے پکارا جاۓ …..! ان رشتوں کو کونسے رشتہ کہا جاۓ کہ جن میں خونی تعلق نہیں لیکن ایک بہن کا درد اپنا درد محسوس ہوتا ہے کہ جس میں ایک کی خوشی اپنی خوشی محسوس ہوتی ہے . کہ جن میں کوئی ایک ساتھی تکلیف میں ہو تو دوسری ساتھی کو بھی وہ تکلیف اپنی ہی لگتی ہے .
اور اگر ایک ساتھی اپنی کسی بات پر خوشی کا اظہار کرے تو دوسری ساتھی خود بخود ایک سرشاری کی کیفیت میں آتی ہے۔ فرحان ہوتی ہے۔ اگر کوئی بیمار ہو تو دوسری بہن کچھ بنا کر بھیج دیتی ہے یا اگر نہ بھی بنا کر بھیج سکے اس کے لۓ دعائیں ضرور کرتی ہے ۔ اگر کوئی ایک اپنی پریشانی کا اظہار کرے تو دوسری اسے کافی حد تک حل کرنے کو کوشش کرتی ہے اور اس کے لۓ فکرمند ہوجاتی ہے۔ اگر ان ساتھیوں کو دوسری کی کوئ خوشیوں کی اطلاع ملتی ہے تو وہ ساتھی حسد یا جلن میں مبتلا نہیں ہوتیں بلکلہ خوش ہوتی ہیں اور مزید خوشیوں کے ملنے کے لۓ بھی دُعا گو ہوتی ہیں . ہاں یہ ایسی خواتین ہوتی ہیں اور آج بھی اسی دُنیا میں موجود ہیں۔ان خواتین کی محبتیں “اُس پیدا کرنے والے کی خاطر ” آپس میں ایک دوسرے سے ہوتی ہیں ۔ اور” اسی“ کے لۓ ہوتی ہیں ۔ اسی لۓ جب انھیں اگر کبھی ایک دوسرے سے تکلیف بھی مل جاۓ تو دلوں میں کینہ نہیں رکھتیں۔درگزر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اور یہ دوستیاں بڑی پیاری بھی ہوتی ہیں۔یہ بڑی مخلص ہوتی ہیں۔ اور یہ میرا پیغام محبت ہے …….. جہاں تک پہنچے کے مصداق محبتیں باٹتی چلی جاتیں ہیں ۔ خوشبوؤں کو پھیلاتی ہیں۔اور یہ خوشبوؤں کو پھیلانے والیاں ، محبتوں کو باٹنے والیاں حدیث کے مفہوم کے مطابق یقینا قیامت کے دن رب کے عرش کے ساۓ میں بھی ہوں گی۔ اے رب کی خاطر محبت کرنے والی خواتین و میری پیاریاں بس تم اپنے اتحاد کو برقرا رکھنا تو یقینا تم سے یہ محبتیں مزید پھیلیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں