وہی توہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے – صائمہ عابد




موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اکثر دیکھنے میں آرہا ہے کہ بارشیں ہوں یا عید قربان ، ان سے اگلے دنوں میں سخت دھوپ نکل آ تی ہے . یہاں آ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے …… ایسے وقت میں جب کہ متعلقہ ادارے اپنا کام نہیں کر رہے ہیں . مگر دنیا کو بنانے والا حقیقی کاریگر ادارہ اپنی مخلوق سے اتنا بے پرواہ نہیں کہ ایسے مشکل وقت میں وہ اس کو تنہا حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے .
ویسے تو دھوپ کی تمازت اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے . مگر اس طرح بارش کا پانی کیچڑ اور دوسری آ لائشوں کی گندگی سائنسی اصول کے تحت سورج کی الٹرا شعاعوں سے جو زمین پر پڑتی ہیں . ہر چیز کو خشک کرکے جراثیم سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ بنتے ہیں۔ رب تعالیٰ اپنی کائنات کو منظم سے چلارہا ہے اور قدرت اپنی فرمابرداری پر بار بار اکساتی ہے . اور جا بجا اس کی نشانیاں بکھری پڑی ہیں . قدرت کی تخلیق میں رب العالمین نے جو توازن قائم رکھا ہے اور یہ ذمہ داری حضرت انسان پر ہے کہ وہ اس میں کوئی خلل نہ ڈالیں جسطرح قدرت نے ہمیں ایک صاف و شفاف ماحول عطا کیا مگر انسانوں نے جنگلات کی بربادی، زمین کے کٹاؤ، پانی کی آلودگی ، جنگلی حیات کی تباہی اور صنعتی فضلے نے ماحول کو آ لودہ کردیا .
اس پر ستم نامناسب ٹیکنالوجی کی درآمد استعمال سے وہ انسانی بقا کو خطرات لاحق ہوئے اور ہم ماحولیاتی خطرات کے دہانے پر پہنچ گئے . اس قدرتی ماحول کو بچانے کا واحد حل اللہ تعالیٰ نے جو وسائل ہمیں عطا کیے ہیں ، انہیں اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اللہ کی مخلوق پر خرچ ہوں کیونکہ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں