یومِ آزادی پاکستان – لبنیٰ اسد




اگر ہم یوں کہیں کہ ہمارے عظیم لوگوں نے عظیم قربانیاں دے کر اس پیارے ملک پاکستان کو حاصل کیا ہے تو یہ بلکل بجا ہے ۔ یہ تو وہ ملک ہے جو اسلام اور کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا اور یہ ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے ۔ایک نعمت اس طرح سے کہ ہمارے ملک میں طرح طرح کے وسائل ہیں جن سے ہم مستفید ہوتے ہیں اور دوسری بڑی نعمت یہ کہ ہم آزادی کے ساتھ اس ملک میں رہتے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ نعمتوں کی قدر اور شکر ادا کر نے والوں کو ﷲ تعالٰی پسند فرماتا ہے لیکن سوال یہ ہیکہ ہم اس نعمت کا کتنا حق ادا کر رہے ہیں؟ کیا اس طرح کے اس دن کا آغاز ہی ہم فائرنگ اور طرح طرح کے باجے بجا کر کرتے ہیں اور تو اور موسیقی سے بھر پور گانوں کی صدائیں ہر گلی محلے میں گونج رہی ہوتی ہیں جن پر باقاعدہ رقص ہو رہےہوتے ہیں۔ کیا اس عظیم الشان نعمت کا شکر اس طرح کرنا چاہیے جس کی بنیاد کلمہ لاَ اِلٰہَ اِلّا ﷲ ہے تو کیا یہ رب العالمین کی اس عظیم نعمت کی ناشکری نہیں ہوگی اور اس سال ۱۴ اگست جن حالات میں آئی ہے اور ابھی ہم جبکہ اس وبا سے مکمل طور پر نکلے بھی نہیں ﷲﷲ! کرکے تو یہ لاک ڈاؤن ختم ہو نے کو آیا ہے اس وقت تو اپنے رب کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے بلکہ ہمیں اس عظیم موقع پر ﷲ کی اس نعمت کو یاد کرتے ہوۓ ﷲ کا بے انتہا شکر ادا کرنا چاہیے .
اور آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ یہ غیر مسلموں کی تمام خرافات جو ہم نے اپنا رکھی ہیں انہیں چھوڑ کر اپنے اس وطنِ عزیز میں اسلامی نظام کےنفاذکے لیے جدوجہد کو تیز تر کریں اور قرآن وسنت پر ہر حال میں عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں تاکہ اس ملک کو حاصل کرنے کا جو بنیادی مقصد تھا وہ پورا ہوسکے اور ہماری اس سرزمین پر اسلام کا بول بالا ہو۔ انشاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں