گھر تو آخر اپنا ہے – مدیحہ رحمان




رات کا جانے کون سا پہر تھا جب کتوں کے بے تحاشہ بھونکنے کی آواز نے ڈرا کر کچی پکی نیند سے بیدار کر دیا۔۔۔۔۔پرانے محلے میں آوارہ کتوں کا میلہ لگا رہتا تھا جو بہت ناگوار گزرتا،صد شکر کہ اپنے محلے میں ایسا کچھ نہ تھا سو پندرہ دنوں میں پہلی بار جب آواز کانوں میں پڑی تو نیند میں ہی ڈر کر آنکھ کا کھلنا کچھ ایسا عجیب بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
مندی مندی آنکھوں سے موبائل کی سکرین کو دیکھا کہ کیا وقت ہو رہا ہے تو تیرہ اگست کی تاریخ جگمگاتی نظر آئی۔۔۔۔نیند کسے آنی تھی اب؟؟؟سو بے ساختہ ہی پچھلے برس چودہ آگست کا دن یاد آنے لگا کہ کیسے میں شام ڈھلے تک ، اور پھر مغرب کے بھی بعد تک ایک کام کے سلسلے میں بند بازاروں میں بھاگتی پھر رہی تھی ۔۔۔۔۔ چپکے سے کچھ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر نکلے کہ وقت کیسے مٹھی میں بند ریت کی مانند سرکتا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ تیرہ اگست سے بھی زیادہ دل چودہ کے ہندسے کی طرف ہمکنے لگا۔۔۔۔۔۔ جشنِ آزادی ۔۔۔۔اپنا وطن۔ ۔۔۔۔ا پنا گھر۔۔۔۔۔ الحمد للہ
ہم گھر میں شفٹ ہوئے تو چھوٹے موٹے کام نکلنے لگے،کہیں نل ٹپک رہا ہے،کہیں کچن کی کیبنٹس پہ پلاسٹک چڑھوانا باقی ہے،تو کہیں کچھ اور۔۔۔۔۔عید کے بعد گھر کے یہ کام مکمل کروائے جانے لگے۔۔۔۔۔ بڑی چاہ اور محبت سے ایک ایک چیز پرکھ کر برتی جانے لگی،دیوار سے پینٹ نہ اکھڑے،دروازے پہ رگڑ نہ لگے،رگڑ کر فرش دھوتے میں پسینہ پسینہ ہوئی جاتی کہ نیا فرش ہے ابھی سے صاف ستھرا نہ رکھا تو داغ پڑ جائیں گے۔۔۔۔۔لیکن اس تھکاوٹ اور بہت سی احتیاط پسندی میں اپنے گھر ہونے کا سکون اور رب کا بہت سا شکر ہر وقت دل میں رہا،زبان پہ جاری رہا۔۔۔۔۔گھر کے کاموں اور اس میں موجود کمیوں نے کبھی یہ سوچنے پہ نہیں اکسایا کہ ارے چھوڑو مسلے حل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟؟؟کسی اور کے پیارے سے گھر میں دو گھڑی گزار آتے ہیں۔۔۔۔۔بس ایک احساس غالب رہا کہ اپنا گھر ہے الحمدللہ۔۔۔۔۔
سوچنے لگی کہ پاکستان بھی تو ہم سب کا اپنا گھر ہے۔۔۔۔جس میں موجود بہت سی خرابیاں،کرپشن،جاگیردارانہ نظام اور ایسی بہت سی تکلیف دہ چیزوں اور حالات کا سامنا ہے لیکن ہے تو اپنا ناں۔۔۔۔۔۔کسی کے گھر میں تھوڑی ہیں۔۔۔۔
اپنے گھر کو سنوارنا بھی ہم نے ہی ہے اور گھر میں موجود تمام سہولیات پہ شکر ادا بھی ہم نے ہی کرنا ہے۔ پاکستان میں کیا رکھا ہے؟سوائے نا انصافی کے بس جیسے بھی ہو باہر نکلو،اس سوچ کو ذرا دیر کو ایک طرف رکھ کر ان اوور سیز پاکستانیوں کا سوچیں جو مسلم ممالک میں نہیں رہتے،جن کو بے تحاشہ سہولیات تو میسر ہیں لیکن آذان کی روح پرور آواز سننے کو کان ترس جاتے ہوں گے،جو ہماری طرح بے دھڑک ہو کر ہر چیز کھا پی نہیں سکتے۔۔۔۔کہ حرام حلال کی جانچ کا کام بھی کرنا ہوتا ہے،اسی طرح دیگر بہت سے معاملات ہیں جو اپنے گھر میں جتنی خوشی،آسانی اور سکون سے انسان سر انجام دے سکتا ہے،پرائے گھر میں نہیں۔۔۔۔۔ اپنے گھر سے پیار کیجیے،اسے اپنا سمجھ کر بے لوث محبت کیجیے اور جن سے محبت ہو ان کے بگڑے رویے دیکھ کر ان کو چھوڑا نہیں جاتا،سنوارا جاتا ہے،یہ ملک ہمارا گھر ہے یہ آپکی محبت کو فار گرانٹڈ نہیں لے گا۔۔۔۔۔
یقین مانیں محبت کا جواب بہت محبت سے دے گا اپنے صاف شفاف بہتے دریاوں کی صورت،چاروں موسموں کی دلکشی کی صورت،سونا اگلتی دھرتی کی صورت لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب ہم اس دھرتی ماں کو صاف ستھرا رکھیں۔۔۔۔ جن ممالک سے ہم بے حد متاثر ہوتے ہیں مسائل وہاں بھی ہیں اور بے حد ہیں۔۔۔۔۔لیکن وہ ان سے نبٹنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور میرا کریم رب محنت تو کسی کی ضائع نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔
ہمارے آباؤاجداد نے اس سرزمین پہ جان اس لیے واری تھی کہ ان کی نسلیں آزاد فضا میں سانس لیں اور ہم نے فقط یہ سوچ کر ہرگز اس آزادی کی نعمت کو فارگرانٹڈ نہیں لینا کہ یہاں رکھا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔ ناقدری نعمت چھین لیتی ہے۔۔۔۔۔ بہت سی دعاؤں اور محبت کے ساتھ …… جشنِ آزادی مبارک
پاکستان زندہ باد ……….!

اپنا تبصرہ بھیجیں