میرے آباء کی وراثت – طوبیٰ ناصر




مجھے اس مٹی سے عشق ہے،  سالار اپنے ہاتھ میں رکھی مٹی کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اور وہ یہ نا بھی کہتا تو اس کی آنکھوں سے چمکتا ہوا احساس سب کہہ رہا تھا۔ ابراہیم غور سے سالار کو دیکھ رہا تھا، اس میں کچھ خاص بات تھی جو دیکھنے والے کو اس کی طرف متوجہ کر دیتی تھی۔
سالار ایک محب وطن تھا اور اسی لیے اس نے اپنی ساری زندگی پاکستان کے نام کر دی تھی اور پاکستان پر اپنی جان قربان کرنے کی قسم کھائی تھی۔ وہ ایک بہادر اور نڈر آرمی آفیسر تھا۔ اس کی بہادری سے دشمن بھی اچھے طریقے سے واقف تھا وہ جس میدان میں ہوتا اس میدان میں جذبہ ایمان کا الگ ہی رنگ ہوتا وہ جہاں بھی جاتا تھا پاکستان کی مٹی اپنے ساتھ رکھتا تھا اور پوچھنے پر کہتا مجھے اس مٹی سے اپنے ملک کی خوشبو آتی ہے اور یہ خوشبو میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں اور میں جہاں کہیں بھی شہید ہوں چاہے میری قبر دنیا کے کسی خطے میں ہو میری قبر میں میرے ملک کی مٹی ضرور شامل کرنا تبھی میری روح کو سکون ملے گا۔ اور
ہمیشہ کی طرح ابراہیم نے سالار سے یہ مٹی اس کی قبر میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ابراہیم کو ہمیشہ سالار کی یہ حب الوطنی دیکھ کر اس پر رشک آتا تھا محب وطن تو وہ بھی تھا لیکن سالار کی بات ہی کچھ اور تھی۔ وہ ہمیشہ اس کے اتنی والہانہ وطن سے محبت کی وجہ پوچھتا تھا لیکن سالار ہمیشہ اسے ٹال دیتا تھا لیکن آج اس نے وجہ جاننے کی ضد پکڑ لی تھی اور سالار کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑے کیونکہ کے وہ ابراہیم سے بھی بہت پیار کرتا تھا اور اس کی بات ٹالنا مشکل تھا اب۔۔۔۔ اچھا سنو !میں اس خاندان میں سے ہوں جو ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے میرا خاندان ہندوستان کے رئیسوں میں سے تھا جب تحریک آزادی شروع ہوئی تو میرے خاندان نے بھی اس تحریک میں پورے جوش و جذبے سے حصہ لیا اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ میرے خاندان میں اس وقت میرے دادا، والد،والدہ اور میرے دو بڑے بھائی  ایک بہن تھی اور میں دنیا میں آنے والا تھا۔
جب تحریک آزادی نے زور پکڑا تو ہندو مسلم فسادات بھی بڑھ گئے اور اسے دوران میرے دادا کو بہت بے دردی سے شہید کر کے ان کی لاش ہمارے گھر کے باہر پھینک دی گئی جو اس بات کا اشارہ تھا کہ باقی گھر والے آزادی کے خواب دیکھنے سے باز آ جائیں لیکن تب تک ہندؤں کی اصلیت کھل کر سامنے آچکی تھی اور دو قومی نظریہ ہر مسلمان کی روح کا نظریہ بن چکا تھا۔ میرے والد اور بھائیوں نے تحریک آزادی میں بھرپُور حصہ لیا اور اسی دوران ایک دن دروازہ دستک پر کھولا گیا تو وہاں میرے دونوں بھائیوں کے سر رکھے ہوئے تھے اور ان کے جسموں کا کوئی پتہ نہیں تھا، یہ سانحہ میرے گھر پر قیامت بن کر ٹوٹا تھا، میرے والد صاحب نے میری والدہ اور بہن کو لیا اور پاکستان کا رخ کیا لیکن ابھی ایک قربانی دینا باقی تھی چھپتے چھپاتے جب میرا یہ لٹا پٹا خاندان سفر میں تھا تو ہندؤ اور سکھوں کے ایک گروہ نے ان پر حملہ کر دیا اور میرے والدین کے سامنے سے میری بہن کو لے گئے .
اور اس سے آگے میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان نے میری بہن کے ساتھ کیا کیا ہو گا اور اسے کیسے موت آئی ہو گئ, یہ جھٹکا میری ماں کے لیے اتنا شدید تھا کہ وہ اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ سکیں لیکن میرے والد پھر بھی ڈٹے رہے کہ ابھی لٹانے کو جاں باقی ہے، اور اس وقت ہر مسلمان ایسی ہی قربانیاں دے رہا تھا ہر دوسرے انسان کی کہانی اس سے بھی کئی زیادہ تکلیف دہ تھی لیکن جذبہ ایمانی اتنا دیدنی تھا کہ اس وقت بھی منہ پر ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ، اور پاکستان سے محبت ایسی کی اپنا ہر رشتہ اس پر قربان کر کے بھی کوئی پچھتاوا نہیں کہ ہم نے اپنی زندگیاں قربان کر کے اپنے خون سے اس سرزمین کو سینچا ہے آنے والی نسلوں کے لیے کہ وہ اس سرزمین کو ایمان کا وہ گہوارہ بنا دیں کہ دنیا جان جائے پاکستان کس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور پاکستان کا مطلب کیا تھا۔
اسی لیے میرے والد نے بھی کبھی کسی دکھ کا اظہار نہیں کیا ، پاکستان پہنچنے کے بعد اور یہاں بھی اتنی مشکلات اٹھانے کے باوجود وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے ، ان نے میری والدہ کا بہت خیال رکھا اور جب میں اس دنیا میں آیا تو وہ اپنی اس مٹی سے محبت جو ان کو تھی وہ مجھ میں ڈال دی، میری ماں کو باقی کوئی بات یاد نہیں تھی سوائے ایک لفظ کے اور وہ تھا پاکستان۔ میں نے جس دن سے ہوش سنبھالا انھیں پاکستان ہی کہتے سنا اور میرے والد نے بھی اس مٹی کہ محبت اور خوشبو میرے روح میں اتاری ہے۔ میری والدہ پچھلے سال ہمیں چھوڑ کر اپنے ابدی سفر کو روانہ ہو گئی ہیں ان کو ہم نے پاکستانی پرچم میں دفنایا ہے اور ان کے آخری گھر پر بس ایک الفاط لکھا ہے اور وہ ہے پاکستان اور میری بھی یہی خواہش ہے کہ میری قبر کی مٹی میرے وطن کی ہو اور میرا ایک حوالہ ہو اور وہ بس پاکستان۔
سالار بولتا جا رہا تھا اور ابراہیم اسے دیکھ کر سوچ رہا تھا …….. وہ کیسے لوگ تھے جو اس وطن کے محبت میں اپنا سب کچھ قربان کر کے بھی اتنے پرسکون تھے ؟‌ اور اس ملک کو سالار جیسے ہیرے دے کر گئے ہیں اور ہمارے کندھے پر کتنی بڑی زمہ داری ڈال کر گئے ہیں کہ جو پاکستان کا مطلب ہم نے تم تک پہنچایا ہے . وہی مطلب اور محبت ہم نے اپنی نسلوں کو دے کر جانی ہے اور ان سے بھی یہ عہد لینا ہے کہ وہ بھی دو قومی نظریہ کو یاد رکھیں گئے اور اپنی نسلوں تک پہنچائیں گے اور یہ سلسلہ قیامت کی سحر ہونے تک چلتا رہے گا ان شاءاللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں