حب الوطنی – ڈاکٹر بشریٰ تسنیم




“گھر کا ہر فرد جشن آزادی میں اپنا حصہ ڈالنے کو بے قرار تھا ۔ بچے جھنڈے اور جھنڈیوں کو سجانے میں مصروف تھے …… لڑکیاں بالیاں ، سبز اور سفید رنگ کے لباس اور چوڑیوں کے لئے بے قرار تھیں ۔ عید کی طرح گھر کے بڑے چھوٹوں کی خوشیوں کو پورا کرکے تسکین پا رہے تھے ۔”
تسکین حاصل کرنے کا یہ طریقہ ، اب محض ایک دن کا ہلا گلا کی شکل میں رواج پا رہا ہے ۔ ہر ملک کے شہری کو اپنا وطن اپنی زمین کا عزیز ہونا ، اس کے لئے جزباتی ہونا فطری امر ہے۔ کیا اس فطری امر میں اپنے ملک کی بھلائ کا بھی کوئی امر شامل ہونا چاہئے یا نہیں؟ اگر ایسا ہونا چاہئے تو اس کا کوئی لائحہ عمل بھی ترتیب دینا چاہئے۔ اور یہ بھی غور کرنا چایئے کہ جس طریقے سے جشن آزادی منایا جاتا ہے ……. اس کے منفی اور مثبت پہلو کون کون سے ہیں؟ کیا محض ایک دن کے لئے وطن کی محبت کا ثبوت رسمی سے افعال سےدینا ایک بے فیض سرگرمی نہیں ہے . کیا بحیثیت ایک فرد کے ہم اپنے ملک کی بہتری کے لئے کوئی ٹھوس تبدیلی اپنے اندر نہیں لا سکتے؟ ہر ملک کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی بسنے والے افراد میں کچھ لوگ اس کی ابتری کے لئے کردار ادا کرتے ہیں اور کچھ بہتری کے لئے سوچنا چاہئے کہ ہمارا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے ؟
نفس بہت عیار ہے وہ حکمرانوں کی بد عنوانیوں کو سامنے دیکھتا ہے اور ایمانداری، حب الوطنی کا میڈل ہمارے گلے میں ڈال دیتا ہے۔ کیا ہم نے سوچا کہ حکمرانوں کی ساری زندگی ہمارے اعمال کا پرتو ہوتی ہے۔ جیسی عوام ہوگی ویسے حکمران ان کو عطا کئے جاتے ہیں ۔ عوام اپنی مرضی اور رائے سے ان کو اپنے لئے منتخب کرتے ہیں اور پھر حکمران ان کو وہی لوٹاتے ہیں …… جس کا انہوں نے اپنے ہاتھوں انتظام کیا ہوتا ہے۔ حب الوطنی کا امتحان محض میدان جنگ میں لڑنے سے نہیں ہوتا بلکہ گھر سے باہر جاکر اس زمین کے ہر اس چپے کا خیال رکھنا بھی اپنے وطن سے وفاداری ہے . جہاں بیٹھ کر اس کے خوبصورت باغ اور حسین موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اور جب اٹھے تو کوڑا کرکٹ سے اس کو بدنما کر دیا کیا یہ اس کے ساتھ وفاداری ہے؟ حکمران جیسے بھی برے ہوں عوام کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ زمین کے فطری حسن کو خراب کرکے حکمرانوں سے انتقام لیں ۔
یہ ذمہ داری ہر شہری پہ خود بخود عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے وطن کا اپنے ذاتی گھر کی طرح چپے چپے کا خیال رکھے ۔۔ خدارا قدرتی حسن و وسائل کی قدر کریں ان کی ہر طرح سے حفاظت کریں ۔ جوس کا خالی ڈبہ پھینکنے میں بد احتیاطی اس سرزمین کی ناقدری کا پہلا نکتہ ہے۔۔ اور اس ایک خالی ڈبے سےکوڑے کا پہاڑ بننے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی ۔اسی طرح بد دیانتی ،بے ایمانی ،جھوٹ فریب کی بظاہر ایک بے ضرر سی حرکت بد عنوانیوں کے “پاناما” بنا دیتی ہے ۔ اپنے گھر کی کھڑکی کا شیشہ ہو یا کوئ بڑی بلڈنگ ہماری نظر میں ایک جیسی اہمیت کیوں نہیں رکھتی؟ ہونا یہ چاہیےکہ جب کبھی احتجاج کریں تو سلیقے سے کریں اپنی املاک کو تباہ کرنا ، اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے راستے بند کرنا ، اور دیگر غیر اخلاقی سر گرمیوں کو اپنا حق سمجھنا اپنے وطن سے محبت کا ثبوت نہیں ہے۔ آسمان ہر اس فعل کا عینی گواہ ہوگا زمین خود بولے گی فضائیں تائید کریں گی کہ کس فرد نے کہاں کب اور کیسے اپنے وطن کی بے حرمتی کی یہ سوال نہیں ہے کہ کم کی یا زیادہ کی ۔۔
اللہ تعالی کو ایسی قومیں پسند نہیں ہیں جو اس کی زمیں میں فساد برپا کریں ، وہ فساد کسی بھی شکل میں ہو۔ اللہ ایسی قوموں سے زمین کا اختیار واپس لے لیتا ہے ۔۔نعمتوں کی فراوانی روک دیتا ہے۔ ہمیں اپنے افعال و اعمال کا نیتوں سمیت سورہ الانفال کی آیت 26 کی روشنی میں جائزہ لینا چاہیے۔ “اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو” . شکر گزاری ہی نعمت کے دوام کا واحد ذریعہ ہے اور اسی عمل سے اندیشہ زوال سے بچا جا سکتا ہے . بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے آسمان سے خوردونوش کا دستر خوان اتارا جائے .
اللہ رب العزت نے ان کے نبی کی دعا کو قبول فرمایا مگر یہ بھی باور کروا دیا کہ اگر تمہاری قوم نے اس نعمت کا حق ادانہ کیا تو عذاب کی مستحق بن جائے گی۔ جب دعائیں التجائیں کرکے کوئ نعمت خود طلب کی گئ ہو اور پھر اس کی قدر نہ کی جائے تو اللہ تعالی کا قاعدہ و قانون یہ ہے کہ
” ولئن کفرتم ان عزابی لشدید ”
کیا وطن عزیز ہمیں قربانیوں کے بغیر مل گیا ہے؟ کیا ہم نہیں جانتے کتنی التجائیں اور عزت جان مال آبرو کا بدل ہے یہ وطن ۔ کتنا قیمتی ہے یہ ہمارا گھر ……..! کیا ہی اچھا ہو کہ ہر یوم آزادی پہ ہر گھر میں کچھ اخلاقی بہتری کا رجحان ہو جائے ۔ ظاہری لباس کو جھنڈے کی مطابقت کے ساتھ ساتھ جھنڈے کی معنوی حقیقت کے ساتھ کردار کی مطابقت بھی ہو جایا کرے ، قومی ترانہ اورجھنڈا کسی بھی قوم کے مجموعی کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ اس قوم کے نصب العین ،جزبات، مستقبل کے عزائم کو واضح کرتا ہے۔
یہ قوم جو اپنی قومی زبان سے دوری کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے اپنے قومی ترانے کی تفسیر اور پرچم کی حرمت کیسے جانے گی؟ بے شمار جھنڈیوں کا درودیوار پہ دیکھنے کا اپنا ایک حسن ہے اور ان کو لگانے میں بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس پرچم کے سفید رنگ کی دنیا میں امن پسندی اور سبز رنگ میں اخروی کامیابی کے لئے اسلامی طرز زندگی کا احساس کس کو رہتا ہے اور گھر کے سربراہ اپنے بچوں کوپرچم اور ترانے کے بارے میں کیا تعلیم دے رہے ہیں ۔ اور جس مقصد کے لئے یہ ملک بنا تھا اس کی ترویج کے لئے تعلیمی اداروں ،گھروں اور اداروں میں کیا ہو رہا ہے۔۔ ؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اسم بامسمی بنانے کے لئے ایک تحریک کے طور پہ حب الوطنی کے تقاضوں کو اجاگر کیا جانا چاہئے ۔ اگر ہم اپنے پیارے وطن کو پیار سے رکھنے کا عھد کرنے کو تیار ہیں تو یقینا یہ دن بھی عید سے کم نہیں ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں