14 اگست یوم احتساب – عالیہ عثمان




پاکستان کا مطلب کیا ……. لا الہ الا اللہ
گلی میں چھوٹے بڑے بچوں کی ٹولی پاکستان کی جھنڈیاں اٹھائے وطن کی محبت سے سرشارہر فکر سے آزاد اپنے آزاد ملک کی شان میں نعرے لگاتے ہوئے گزر رہے تھے اور میں نمناک آنکھوں سے ان کے جذبہ ایمانی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی . آزادی بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس لفظ میں کی معنی پنہاں ہیں اس کی گہرائی…….
اور پذیرائی کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جنہوں نے غلامی کے اندھیروں میں زندگی گزاری ہو. یہی وجہ ہے کہ آج ملک کا بچہ بچہ آزادی کی سالگرہ بھر پور طریقے سے منا رہا ہے . جو ں جوں جشن آزادی کا دن قریب آ رہا ہے ، ملک کے چپے چپےسے قومی نغموں کی گونج مختلف پروگرامز کے انعقاد کی خبریں آ رہی ہیں . پوری دنیا اس وقت ایک ننھے جرثومے کی گرفت میں ہے، لیکن اپنے ملک سے محبت کرنے والی عوام سب آئی پیز بھول کر جشن منا رہی ہے۔ سبز ہلالی پرچم گھر وں ، دکانوں، سرکاری عمارتوں، گلیوں، محلوں پر لہرا رہے ہیں۔ اس جشن آزادی کے پیچھے جو محرکات تھے کیا ہم نے اپنے بچوں کو بتائے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دے کر یہ مملکت خدا داد حاصل کی، 1906 میں مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سےاپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور ہندوؤں کی تنظیم کانگریس کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد شروع کر دی آہستہ آہستہ آزادی کا یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا گیا۔
انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کی اس متحد قوت کو توڑنے کی بہت کوشش کی پولیس اور فوج نے ان کے پرامن جلوسوں پر گولیاں چلائیں ان کے سینوں کو سنگینوں سے چیرا اور ان کو جیل کی سنگین چار دیواری میں قید کیا۔ لیکن آزادی کے متوالے بڑے صبر و تحمل کے ساتھ ساری مشکلات برداشت کرتے رہے، لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب پر زبان اور تہذیب کو زندہ رکھنے کے لئے ہندوؤں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔ چناچہ ١٩٣٠ میں مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں علامہ اقبال نے ایک تجویز پیش کی اس تجویز کو پاکستان کے تصور کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مسلم لیگ کے اس فیصلے کے بعد انگریز اور ہندو اس کوشش میں مصروف ہوگئے کہ مسلمانوں کا یہ تصور خواب بن کر رہ جائے لیکن قائد اعظم کی قیادت میں مسلمان عہد کر چکے تھے کہ وہ پاکستان لے کر رہیں گے۔
آخر ١۴ اگست ١٩۴٧ کا دن برصغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے، اس دن ان علاقوں کے سات کروڑ مسلمانوں کو جن میں ان کی اکثریت تھی ایک آزاد ملک تسلیم کر لیا گیا ۔ غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر یہ سات کروڑ مسلمان اس قابل ہو گئے کہ اس آزاد سرزمین میں اپنے دینی شعار کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔ لیکن جس طرح یہ دن مسلمانوں کے لئے ایک شاندار مستقبل لے کر آیا تھا اسی طرح ان کے لئے آزمائشوں کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوا جس کی تفصیل بڑی درد انگیز ہے۔ پاکستان میں یوم آزادی کی خوشیاں منائی جارہی تھیں اور ہندوستان میں ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا رہا تھا، درختوں سے لٹکتی لاشیں سڑکوں پر سسکتی تڑپتی جانیں ۔ حدنگاہ سروں کا ڈھیرزمین کا چپہ چپہ خون سے لت پت، سرے بازار عصمتیں تار تار ،قید وبند کی صعوبتوں کو خوش آمدید کہتے مجاہدین ، ایسے طوفانوں سے گزرنے کے بعد ملک کی پیشانی پر آزادی کا ستارا چمکا تو ظلم و بے قراریوں اور خوف کے بادل چھٹ چکے تھےانگریز اپنی بساط لپیٹ چکے تھے ۔
اب پاکستان اللہ کے فضل وکرم سے قائم و دائم ہے اور انشاءاللہ رہے گا ،مگر اس کی بقاءو استحکام کے لئے ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی ۔ 14 اگست کا دن یوم مسرت بھی ہے اور یوم احتساب بھی ۔۔۔اگر ہمیں آزادی عزیز ہے تو اس کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر قوتوں کو وقف کرنا ہوگا۔ آزادی کی حفاظت اور استحکام ہم سب کا مشترکہ نصب العین ہونا چاہیے ۔ ١۴ اگست کو جب ہم جشن آزادی مناتے ہیں تو ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس نے اب تک آزادی کے استحکام کے لئے اپنی بساط کے مطابق کتنا کام کیا ہے ۔پاکستان اسلام کا ایک مضبوط قلعہ ہے جس پر تمام عالم کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔ اس کے تحفظ اور بقاء کے لئے جدوجہد کرنا ہر پاکستانی کا دینی فرض ہے۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین۔۔۔
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہےپہچان ہم سب کاپاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں