اسلام …..آباد پاکستان – راحیلہ بقائی




10 اگست کی ایک خوبصورت نکھری نکھری صبح ……. اسلام آباد کی بارش سے دھلی خوبصورت سڑکوں سے ہوتے ہوئے …… جب ائیر پورٹ پر احمد کو ریسیو کیا تو پہلی بات اس کی یہی تھی کہ
“امی شکر ہے ہم اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ کیا پورا ملک اسلام آباد جیسا نہیں ہو سکتا ؟ ”
احمد جو کہ ایک ماہ سے حیدرآباد/کراچی کی بارش میں خوفناک مناظر ، لوڈشیڈنگ ، گرمی ، حبس ، کچرے کے ڈھیروں میں پانی اور کیچڑ میں گاڑیوں کے بند ہونے کے مناظر دیکھ کر آ رہا تھا . سخت بددلی اور مایوسی سے کہنے لگا ۔ ایک لمبی آہ لے کر میں اسے ماضی کے حیدرآباد کا بتانے لگی ، جب 80 کی دہائی میں ہم ایک صاف well-managed شہر حیدرآباد میں رہتے اور کراچی روشنیوں کے شہر کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا۔ مگر پھر لسانی تنظیموں نے عصبیت کے نام پر ان خوبصورت شہروں کے امن و امان کو تباہ کر دیا۔ وہ ملک جسے پورا اسلام آباد ہی بننا تھا۔ جس کی رگوں میں کلمہ طیبہ پاکستان کا مطلب کیا – لاالہ الا اللہ کا خون دوڑتا ہے۔
جس ملک کو اللہ نے بہترین سمندر، پہاڑ، موسم، پھل، میوے، گیس، پٹرولیم کے ذخائر دیے ، ایٹمی طاقت بنایا، 65 فیصد آبادی میں نوجوانوں کا تناسب دیا ۔ پھر ہماری آج یہ حالت زار کیوں؟؟ عوام مفلوک الحال کیوں؟ ہم ہر وقت کشکول لیے امداد کے منتظر کیوں؟ ایٹمی پاور ہونے کے باوجود ہم کشمیر کو آزاد کیوں نہیں کرا سکے؟ خائن قیادت اور مفاد پرستوں کے ٹولے نے مل کر پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو تباہ کیا ۔ ملکی خزانہ لوٹا گیا ۔ فرقہ واریت اور تعصب پسندی کو ہوا دی گئی ۔ انصاف سے عاری معاشرہ اور ظالموں کو کھلی چھوٹ ۔ کیا یہی ہے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر ؟ جہاں مندر بنانے کی اجازت ہو ……… جہاں مساجد میں ناچ گانے کی شوٹنگ ہو ۔ ۔
جہاں سڑکوں اور بازاروں میں حیاسوز مناظر ہوں ۔ جہاں انسان اور مویشی کرنٹ لگنے سے مررہے ہوں ۔ جہاں جشن آزادی کے نام پر کروڑوں روپیہ پرچموں ، جھنڈیوں ، جیولری ، caps ، گھڑیوں ، bands ، ٹوپی ، مفلر پر لگا کر جھوٹی خوشیاں ڈھونڈی جائیں ۔ پھر حل کیا ہے؟؟ ایک دیانت دار، اللہ سے ڈرنے والی قیادت ……!
جو میرے پورے ملک کو اسلام آباد بنا دے ! جہاں امن ہو، محبت ہو، انصاف ہو قانون کی بالادستی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں