سہیلیاں – بنت شیروانی




کئی سالوں بعد اسکول کی سہیلیاں انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے سے ملاقات کر رہی تھیں اور صوفیہ بھی اس میں شامل تھی . خوشی کا وہ سماں تھا جیسے شادی شدہ بہنیں کافی عرصہ بعد اپنی امی کے گھر جمع ہوئی ہوں . ہر دوست ہی فرحان تھی ……… ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کے لۓ بے چین تھیں اور بہت کچھ چند ہی لمحوں میں بتا دینا چاہتی تھیں .
کوئی صرف نام بتا کر دوسرے کی یادداشت کا امتحان لے رہی تھی . تو کسی دوسری کو اسکول کی ان گنت باتیں یاد ہونے پر شاباشی مل رہی تھی اور اس کی یادداشت کو سلام کیا جارہا تھا تو ان گنت ایوارڈ سے بھی نوازا جارہا تھا ……. کوئی شادی کی تصویریں دیکھنے کی ضد کر رہی تھی تو دوسری بچوں کو دیکھنے کے لۓ بضد تھی . کوئی بہت ہی میسج کر رہی تھی تو کوئی ایک چٹکلہ چھوڑ کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی . کسی کو دوسری کی ٹائپنگ اسپیڈ پر حیرانی تھی تو کوئی چار میسج لکھنے پر ہی اپنی تھکن کا بتا رہی تھی . اور اب صوتی پیغام پر آگئی تھی ……..! کوئی اپنی استانیوں کو یاد کر رہی تھی تو کوئی صرف بچپن کی شرارتوں کو محفوظ کرنا چاہتی تھی ، کسی کو اپنی استانیوں کی سختیاں یاد آرہی تھیں اور وہ یہ کہنے پر مجبور تھی کہ آج میرے لیکچرر بننے میں میری اسکول کی استانیوں کا ہاتھ ہے . تو کوئی ان باتوں پر بات کرنے سے گریزاں صرف بچپن کے ہنسی مذاق کو یاد کرنا چاہتی تھی …….
بہت سوں کی شادی ہوگئی تھی ، تو کوئی اس شادی کے لڈو کھانے سے محروم تھی . کسی نے دنیا کے کی ممالک کی سیر کر لی تھی اور اس کے باوجود وہ یہ کہنے پر مجبور تھی کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی کا کوئی مقابل نہیں …… کوئی عمرہ کر آئی تھی تو کسی نے حج کا فریضہ بھی انجام دے دیا تھا . کوئی ایم بی بی ایس کر کے ڈاکٹر بن گئی تھی تو کسی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا لفظ لگایا تھا.
انھی میں ………. کچھ بہت افسردہ بھی تھیں تو کچھ خوش بھی ، کسی کو مانٹیسری کا کورس کر کے اسکول کے بچوں کے ساتھ نرمی کرنے پر خوشی تھی لیکن اپنے بچوں پر چیخنے کا دکھ تھا . تو کسی کے بچے ہی نہ تھے اور اسے اس نعمت کا نہ ملنا اندر ہی اندر گھلاۓ جارہا تھا . کسی کے صرف بیٹے تھے تو وہ بیٹیوں کی پیدائیش کے لۓ منتظر تھی تو کسی کی صرف ایک ہی اولاد تھی تو وہ مزید بیٹی یا بیٹے کا دنیا میں آنے کا انتظار کر رہی تھی تو وہیں کوئی بیٹا پیدا کرنا چاہتی تھی . کسی کی شادی زیادہ عمر میں ہوئی تھی اور اب اسکے اولاد نہیں تھی تو تمھاری شادی کب ہوگی ؟ کا جواب دیتے دیتے یہ سوال کہ اب بچے کیوں پیدا نہیں ہورہے ؟؟؟؟ کی وجہ لوگوں کو بتاتے بتاتے تھک گئی تھی .
کسی نے گاڑی چلانی سیکھی تھی اور وہ یہ بات بہت خوشی سے بتا رہی تھی ……. تو کسی نے بیکنگ ، کوکنگ ، آرٹ اور کرافٹ تو سلائی کے ڈپلومہ کر لۓ تھے اور وہ دھڑا دھڑ ان سندوں کی تصویریں گروپ پر لگا کر شاباشی وصول کر رہی تھی . تو کوئی ہومیوپیتھک ڈاکٹر بن گئی تھی اور بچوں والی دوستیں اب اس سے بچوں کے ٹانسلز کی دوائیں منگوانے کے لۓ اس کے گھر کا پتہ معلوم کر رہی تھیں . ایک سہیلی کو بارہویں جماعت کے آگے پڑھائی جاری نہ رکھنے کا دکھ تھا اور وہ کہ رہی تھی کہ میں صرف “میسج” پڑھتی ہوں تو دوسری نے اس کا ساتھ دیا تھا میں بھی تمھاری جیسی ہوں اور انھیں تسلی ہوئی تھی کہ چلو
“یک شد نہ تو دو شد”!!!!
اردو میڈیم کے اسکول سے پڑھنے پر سب ہی شکر ادا کر رہی تھیں کہ انگریزی تو تقریبا سب ہی کو آگئی تھی کہ اردو میں جو ہمارا اسلامی ورثہ ہے وہ انگریزی میں کہاں …….. ؟؟؟ تو کوئی یہ کہ رہی تھی کہ میرے سسر میری اتنی اردو زبان سے واقفیت پر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ میں مطالعہ پاکستان ، گھریلو معاشیات ، خلیہ ، طبیعات کے الفاظ استعمال کرتی ہوں تو وہ کہتے ہیں ، “یہ ہے میری اصلی بہو” ، تو ایک ساتھی نے کہا میں نے جب اپنی ساس سے پوچھا آپ کو اسہال تو نہیں ہو رہے ؟ تو وہ اپنی بیماری کو بھول کر میرے ماتھہ پر بوسہ دینے لگیں اور جب کہا کہ آپ کا نظام تنفس خراب محسوس ہوتا ہے تو انھوں نے اپنے بٹوے میں سے پانچ سو کا نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ دیا . یہ سُن کر تو ایک اور سہیلی نے اسے حیاتیات ، قائدانہ صلاحیت ، کیمیا ، ریاضی ، معاشرتی علوم ، آلات جراحی ، انگشتہ جیسے الفاظ بھی بتاۓ کہ یہ سب بھی اپنی ساس کے سامنے کہو گی تو وہ یقینا اپنے ہاتھ سے سونے کی چوڑی اتار کر تمھارے ہاتھ میں پہنادیں گی .
یہ سُن کر سب نے ہنسنے والی ایموجی بھیجی ………. اس اسکول کی ساتھیوں سے ملنے میں ایک بڑی اچھی بات محسوس ہوئ یتھی کہ کوئی اپنی ساس ، نندوں ، بھاوجوں کی بُرائی نہیں کر رہی تھی بلکہ ان کی خوبیوں کو بیان کر رہی تھیں .کوئی جنرل کی بیوی بن گئی تھی تو کسے کے میاں مینیجر کی پوسٹ پر فائز تھے تو کسی کے شوہر کپڑوں کا کاروبار کر رہے تھے ، تو کسی کے جنرل اسٹور پر بیٹھتے تھے ……. لیکن ان سب میں کوئی اسٹیٹس کا فرق ظاہر نہ ہورہا تھا بلکہ سب ایک دوسرے سے اچھی طرح بات چیت کر رہی تھیں یہاں تک کہ فرسٹ آنے والی اور خراب پڑھنے والی سب ایک پیار محبت سے باتیں کر رہی تھیں . کوئی مشترکہ خاندانی نظام سے نالاں تھی تو کوئی اکیلے رہنے کے نقصانات بیان کر رہی تھی.
کسی کی امی اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں تو کسی کے ابو ……..! اور ایک دوست ایسی تھی کہ جس کی بہن اس سے ایک سال بڑی تھی اور اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا اور اس خبر نے اب ہی کو افسردہ کر دیا تھا . تقریباً تین دن سے یہ ملاقاتیں جاری تھیں ۰اچھا وقت،تو مشکل وقت ، اچھی یادیں تو تلخ بھی ……… وقت گزرے جارہا تھا اور اس وقت صوفیہ کو یہ آیت یاد آرہی تھی کہ
“ہم نے موت اور زندگی کو اسلۓ ایجاد کیا کہ تمھیں آزما کر دیکھیں کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے”
کیونکہ آزمائش تو ہر کسی کی ہو رہی تھی ، بس حالات و واقعات ذرا مختلف تھے .

اپنا تبصرہ بھیجیں