نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری – حمنہ راشد




ہر سال کی طرح اس سال بھی 14 اگست کی تاریخ آئے گی اور گزر جائے گی ۔ ہم لوگ ہر سال کی طرح گھروں کی چھتوں پر جھنڈے لگا کر اور پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجا کر اور چند ملی نغمے گا کر خوش ہو جائیں گے اور ‘ “جشن “آزادی مبارک’ منائیں گے!! ۔۔۔ ہاں! اس سب میں یہ بھی ہوگا کہ ہمارے کچھ بزرگ ہمیں یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان ہمیں کتنی قربانیوں کے بعد ملا .
لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں اس وطن کی آزادی کے لئے وار دیں لیکن ہم ، “یہ باتیں ہم ہر سال سنتے ہیں ۔۔۔” یا “اب شروع ہوگا لیکچر ” بڑبڑاتے ہوے یہ سب باتیں ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکالتے آگے بڑھ جائینگے اور پھر 13 اگست کی رات کو بائیکوں سے سائلنسر نکال کر ، ون ویلنگ کرکے ، کیک کاٹ کر اور ناچ گانا کرکے ‘ “جشن”آزادی مبارک’ منائیں گے۔ ۔۔ اور ہم کیوں نا منائیں اس دن کو ہمارا ملک آزاد جو ہوا تھا اس دن !! ہاں !! کس لئے آزاد ہوئے تھے ہم ؟؟ یہ سب کرنے کے لئے ؟؟ ہمارے آبا و اجداد نے اس لئے تو قربانیاں نہیں دیں تھیں کہ انکی آنے والی نسل ناچ گانے کرکے آزادی کا “جشن” منائیں ! ہمیں تو بچپن سے یہ پڑھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو علحیدہ وطن کی ضرورت اس لئے تھی کہ ہندو مسلمانوں کو انکی مسجدوں میں نماز ادا کرنے نہیں دیتے تھے ،سنتِ ابراہیمیٔ ادا کرنے سے روکتے تھے ، مسلمانوں کے لئے نہ ملازمتیں تھیں نہ حکومت میں حصہ !
اسلئے مسلمانوں کو علحیدہ وطن اور علحیدہ شناخت کی ضرورت تھی لیکن ہم نے علحیدہ شناخت کیا بنانی تھی الٹا انہی کے طریقوں پر چل پڑے جن سے الگ ہو کر ہمارے بزرگوں نے یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ ہم نے اس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے اور اس وطن میں دینِ اسلام کا نفاذ ہمارا مقصد ہے ،جب ہم اپنے مقصد کو صحیح طور سے پورا نہیں کر رہے تو پھر کس بات کا “جشن”؟؟ آج پاکستان نہایت سنگین اور نازک دور سے گزر رہا ہے ۔ مہنگائی ،لوٹ مار ،دہشت گردی ،سیاست کے ڈرامے ،فحاشی و عریانی ،خودکشیاں ،فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات عام ہوگئے ہیں ۔اس سب کے پیچھے ہمارے دشمنوں کی سازشیں کارفرما ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں کیوں کہ ہماری سوچ وہاں تک جاتی ہی نہیں اور نہ جانے دی جاتی ہے ۔۔۔ مغربی تقلید نے ہمارا سب کچھ بدل دیا ہے۔ ہمارا حلیہ، ہماری سوچ و فکر ،ہمارا انداز ،ہماری عادات و اطوار سب بدل گئے ہیں ۔ہم پوری طرح سے انکے رنگ میں رنگ گئے ہیں ،غیر مہذب اطوار اور منتشر افکار ہماری شخصیت کا حصہ بن گئے ہیں ۔۔۔
کیا ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اقبال نے ؟؟ مصورِ پاکستان نے تو ایسی ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا تھا جو ریاستِ مدینہ کا نقشِ ثانی ہو ،جس کی اساس اسلام ہو اور جس کی بنیادیں اسلامی فکر پر استوار ہوں. پھر بانیِ پاکستان کے ذریعے اللّه تعالیٰ نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر اسلامیانِ برصغیر کو مملکتِ پاکستان عطا کیا ۔ لیکن ہم نے پاکستان کو کیا دیا ؟؟؟ اب ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس وطنِ عزیز کی حفاظت ،تعمیر اور استحکام کے لئے ، دشمن کے غلبے سے نکلنے ، انکی سازشوں کو بےنقاب کرنے کے لئے اور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لئے بیدار و پرعزم ہوں اور مل کر حق کے غلبے کے لیے جدوجہد کریں اور حکیم الامت علامہ اقبال کے خوابوں کی سر زمیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمّد علی جناح کی کاوشوں کے ثمر ، “پاکستان” کو اتحاد و یگانگت ،صداقت و شجاعت اور اخوت اجتماعیت کے سنہرے اصولوں پر چلائیں ۔
اس مملکتِ خداد پاکستان میں وسائل کی کمی ہے نہ ہنرمندوں کی ،نہ صلاحیتوں کی اور نہ ہی جذبوں کی ، صرف اور صرف لہو گرمانے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
نکل کرخانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقیر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری
خدا کرے کے میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کے خم نہ ہو سرِ وقارِ وطن
اور اسکے حسن کو تشویشِ ماہ وسال نہ ہو
خداکرےکےمیرےایک بھی ہم وطن کےلئے
حیات جرم نہ ہو ، زندگی وبال نہ ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں