ملکی نظام عدل – افشاں نوید




بولی ،”باجی نادیہ اشرف کی یہ ویڈیو اور تحریریں جو میں نے شئیر کی ہیں …….. میری رائے اس سے الگ ہے۔ ہمارے اساتذہ تو ہمیں بیٹا کہہ کر بات کرتے تھے۔ ہم بھی انھیں بمنزلہ باپ ہی سمجھتے تھے۔ میرے پی ایچ ڈی میں تو اساتذہ نے بہت مدد کی۔” میں نے کہا “بیٹا استاد کے اچھے ہونے میں کوئی خبریت نہیں ہے۔ استاد کے اپنے مقام سے گرنے میں خبریت ہے۔”
یہ استاد جو طالبات کو ہراساں کررہے ہیں , ناجائز مطالبات منوا رہے ہیں ، ان کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ قصور تو اس نظام تعلیم کا ہے جس کو آزادی کے فوری بعد بدلا جانا چاہیے تھا مگر ہم آج تک اس کے شجر خبیثہ سے جھولیاں بھر رہے ہیں ۔ یہ استاد خود اسی نظام تعلیم کے پروردہ ہیں جہاں نہ اخلاقیات کی تعلیم ہے نہ روحانیت کا گزر ۔ بلکہ گھروں کی رہی سہی تربیت بھی تعلیمی اداروں بھینٹ چڑھ جاتی ہے . خود سے کوئی استاد دینی افتاد طبع رکھتا ہو تو اور بات ہے یونیورسٹیز کے کریکولم میں اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو عملاً اس چاردیواری میں نظر آتی ۔ اساتذہ کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ادارے کے اخلاقی ماحولیات سے۔ طلباوطالبات اپنی شکایات لے کر کہاں جائیں؟ کیا ان اساتذہ کا بھی کہیں احتساب ہونا چاہیے؟ کیا کوئی کمیٹی ہے جو جائزہ لیتی ہو کہ اتنے سال سے کسی کو ڈگری تفویض نہیں ہوئی تو سہولت کاری مہیا کی جائے ان بچوں کو جو ذہنی اضطراب کا شکار ہیں ڈگری میں تاخیر ہونے کے سبب۔۔
ان سب عنوانات پر تجزیے پیش کیے جا رہے ہیں . مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اگر کوئی ناخواندہ دیہاڑی کا مزدور , کوئی خاکروب , کوئی ٹھیلا لگانے والا خود کشی کرتا ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ بے چارے کو شعور ہی نہیں تھا . جہالت نے یہ فیصلہ کرادیا ۔ سوال یہ ہے کہ 20 برس تعلیم حاصل کرنے والا فرد , جس کی ذہنی سطح اتنی بلند ہو کہ اسے اسکالر شپ پر فرانس بھیجا گیا ہو ۔ ان ذہین بچوں کو کسی استاد نے کبھی نہیں بتایا کہ خود کشی حرام ہے ۔ کبھی دوران تعلیم حلال , حرام کے موضوعات زیر بحث نہیں آتے ۔ خودکشی کرنے والا اتنی ذہنی صلاحیت کا مالک فرد اس نے اپنی جان اس بےدردی سے ختم کرکے معاشرے کا کتنا نقصان کیا ۔ معاشرہ ایک ذہین فرد سے تو محروم ہوا مگر ایک منفی پیغام بھی منتقل ہوا کہ یہ بھی طریقہ ہے ٹینشن سے نجات کا ۔ اسلام کی نظر میں بیت اللہ کتنا مکرم ہے مگر انسانی جان کی حرمت اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
ہم آگے بڑھ جائیں گے …….. اس موضوع پر بات کرکے۔ اگلے ہفتہ کے اور موضوعات ہونگے۔ مگر یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے معاشرے کے لیے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اگر اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی بچوں کو نہیں دے رہے بلکہ کامیابی کا وہی تصور دے رہے ہیں جو تصور مغرب رکھتا ہے تو مغرب میں خود کشی کرنا ایسا معیوب بھی نہیں گردانا جاتا ۔ خود کشی کا تو کہیں سے کوئی جواز ہی نہیں ایک مسلمان کے پاس۔ یہ ناپسندیدہ نہیں بلکہ حرام ہے۔ ایک مسلمان مریض شدید اذیت ناک بیماری میں سالہاسال بھی رہے وہ کبھی موت کا انجکشن لگوانا پسند نہیں کرے گا۔اس لیے کہ مسلمان کا ایمان ہے کہ ہر تکلیف کا اجر ہے۔ تکالیف جسمانی ہی نہیں ذھنی بھی ہوتی ہیں۔ قصور وار نادیہ ہےپورا سماج ہے یا وہ ڈاکٹر صاحب جن کے بارے میں نادیہ نے کہا کہ “ڈاکٹر صاحب مجھ سے پتہ نہیں کیا چاہتے ہیں؟؟”
کیا اس نظام عدل سے ہم کسی انصاف کی توقع رکھ سکتے ہیں ۔ نادیہ کو پتہ تھا یہاں کوئی زنجیر عدل نہیں اگلی نادیاؤں کو اس انجام سے بچانے کے لیے ہم شہنشاھوں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ اس گلشن کی کلیاں یوں بے دردی سے مسلنے کے لیے تو نہ تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں