سیکھنے کا عمل (belief system) – محمد اسعد الدین




ڈیئر پیرنٹس!!! آپ اپنے بچے کو سب سے پہلے کیا سکھانا ، سجمھانا چاہ رہیں ہیں؟ اگر آپ کا خیال ہے کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے، نا سمجھ ہے، ذرا بولنے لگے، ذرا چلنے لگے پھر اسے کچھ سکھائیں گے، بتائیں گے، اگر آپ اس طرح سوچ رہے ہیں تو سمجھ لیجیئے کہ آپ تاریخی غلطی بلکہ بچے کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں
یہ تاریخی غلطی کیوں؟ یہ اس لیے ہے کہ آپ بچے کے ذرا بڑے ہونے کے انتظار میں جو وقت گزار رہے ہیں یہ بچے کی پوری زندگی کا اہم ترین اور سب سے پہلے ہونے والی لرننگ belief system بننے کا ٹائم ہے اور یہ بھی خوب سمجھ لیں کہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اس کی تلافی بھی ممکن نہیں ہے۔ آپ کو پتا ہے کہ belief system کیا ہوتا ہے اور کیسے بنتا ہے ؟ belief system وہ ”لائف ایکسل“ ہے جس کے گرد آخری سانس تک پوری زندگی گھومتی ہے ، معصوم بچے کے دماغ کے کروڑوں ”نیورونز“ بالکل خالی اور اسفنج کی طرح سب سے پہلے کانوں اور آنکھوں کے راستے آنے والی بات کو جذب کرنے کے لیے تیار ہیں۔ belief system بنانے کا کام جتنا حساس اور اہم ہے قدرت نے یہ کام اتنا ہی آسان کردیا۔ عقیدے کو بچے کے دل و دماغ کے ریشے ریشے میں داخل کرنے کے دو مرحلے ہیں
پہلے مرحلے میں جب تک بچہ بولنے ، سمجھنے ، چلنے کے قابل نہیں ہو جاتا . اس وقت تک صرف ”آواز“ کے ٹول کو استعمال کرتے ہوئے کبھی لوری کی شکل میں ، کبھی کسی اور انداز میں کائنات بنانے والے مہربان رب کا نام تکرار سے سنایا جائے ۔ ایک ہی نام بار بار سنانے سے باوجود کچھ سمجھ میں نہ آنے کے وہ نام بچے کے subconscious mind میں زندگی بھر کے لیے فٹ ہو جائے گا ۔
بچے کے belief system بننے کا دوسرامرحلہ بہت دلچسپ اور اہم ہے لیکن اس کے لیے آپ کو اگلے بلاگ کا انتظار کرنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں