سیکھنے کا عمل (belief system) حصہ دؤم – محمد اسعد الدین




ڈیئر پیرنٹس!!! ماشاء اللہ آپ کا بچہ اب کچھ کچھ چلنے لگا ہے ، بولنے اور سمجھنے لگا ہے ، دیکھیں تو سہی اس کی ادائیں کتنی پیاری اور معصوم ہیں ، چلیئے …….. بچہ ریڈی ہے اور آپ بھی الرٹ ہو جائیں کیوں کہ بچے نے اپنی ماما سے بھی ستر گناہ زیادہ محبت کرنے والے اللہ جی کا نام خوب اچھی طرح سن لیا ہے . جو اس کے دماغ کی پوری وائیرنگ میں مکمل پھیل گیا ہے۔ اب بچے کے belief system بننے کا دوسرا مرحلہ آگیا ہے۔
اس مرحلے میں بچے نے اللہ میاں کا انٹروڈکشن سیکھنا ہے ، پیرنٹس مختلف اوقات میں، مختلف جگہوں اور مختلف مواقعوں پر روٹین کے مشاہدے میں آنے والی چیزوں ، پرندے ، پیڑ ، پھول ، آسمان ، تارے ، بادل (بچے کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مزید چیزوں کا اضافہ کیا جا سکتا ہے) دکھاتے ہوئے اللہ میاں کی محبت ، عظمت ، قدرت ، جلال ، جمال ، رحمت ، شفقت سمیت دیگر صفات سے جوڑتے ہوئے بتائیں ۔ ایک نکتے کی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اس ایج گروپ کے بچوں کے لیے آواز کا اُتار چڑھاؤ بہت اہم ہوتا ہے۔ اللہ کی صفات کے بارے میں بتاتے ہوئے آواز، چہرے کے expression اور ہاتھوں کا استعمال خاص ترتیب سے ہو تو سمجھ لیں بجے کاbelief system بنانے کے لیے آپ کی کمیونیکیشن میں چار، پانچ چاند لگ جائیں گے۔
اللہ میاں کا انٹروڈکشن اتنی مرتبہ کروایا جائے جو بچے کی میموری میں پتھر کی لکیر بن جائے۔ یقین جانیئے آپ کی بتائی ہوئی اللہ کی ذات و صفات آپ کے بیٹے، بیٹی کی زندگی بھر قدم قدم پر راہ نمائی کریں گے اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ الگ ہے . بچے کے belief system کا اگلہ مرحلہ بھی بہت اہم ہے لیکن اس کے لیے آپ کو آنے والے بلاگ کا انتظار کرنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں