عالم عرب اور اسرائیلی تعلقات کے تناظر میں اک فکرانگیز تحریر – عائشہ غازی




اس لَعِبٌ وَلَهْوٌ کو لپیٹے جانے کی جلدی ہے اب …….. فائنل راؤنڈ شروع ہونے والا ہے جس میں صرف دو ٹیمیں کھیلتی ہیں . حق اور باطل! اب دنیا کو دو ٹیموں میں بٹ جانے کی جلدی ہے ۔ اچھائی ایک طرف اور برائی ایک طرف ۔ آخر کار بین بین کچھ نہیں رہے گا ۔ بس ایک ہی سوال کی بنیاد پر تقسیم ہو جائے گی کہ کون اللہ کے ساتھ ہےاور کون اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ۔
وقت ویل اللعرب کے دھانے پر کھڑا ہے اور یہ اتنا قریب ہے کہ اس آگ کی تپش جاگتے ہوئے دلوں کو تکلیف دے رہی ہے ………. جس طرح فلسطین ، سعودیہ ، عراق ، اردن ، شام اور ترکی کے علاقے گریٹر اسرائیل کے نقشے کا حصہ ہیں . اسی طرح متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کر لینا فطرت کے “گریٹر پلان” کا حصہ ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو گلے لگانے کے بعد ایمان فروشوں کی یہ قطار اسرائیل کے آگے زمین بوس ہونے کے لیے یوں ایک کے بعد ایک گرے گی گویا سات دانوں والی تسبیح ٹوٹ گئی ہو …….. خود کو خادمین حرمین شریفین کہلوانے والے بھی خادمین اسرائیل کی سند لینے کو بے تاب اسی قطار میں ہیں ۰ بن نائف کی جگہ بن سلمان کو ولی عہد اسی یقین دہانی پر بنایا گیا تھا ، حالانکہ بن نائف بھی غلامی میں کسی طور کم نہیں تھے . اپنی بادشاہت کے عوض مسجد اقصی کا سودا کرنے والے عرب ایک طرف اسرائیل کو گلے لگا رہے ہیں ، دوسری طرف ہندوستان بلکہ بی جے پی کے ہندوستان کو سر کا تاج بنا رہے ہیں. امریکہ ، اسرائیل ، عرب ، ہندوستان ! یک جان !!!!!!
اور پاکستان ……… جو کچھ پس پردہ ہے ، اس کے لیے عوام کی خاموش اور مسلسل ذہن سازی جاری ہے . عمران خان کا یہ بیان کہ ” اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے میرا ضمیر نہیں مانتا ” بہت معنی خیز ہے …….. سوال یہ ہے کہ اسے اپنے ضمیر سے یہ سوال کرنا ہی کیوں پڑا ؟ قائد نے کہا تھا کہ اسرائیل امت کے قلب میں کھونپا گیا خنجر ہے . اب اس قومی بیانیے پر فیصلہ بھی اگر صرف عمران خان جیسے بے ضمیر شخص کے ضمیر کی آواز پر ہونا ہے تو اس شخص کی تاریخ کی روشنی میں سمجھ لینا چاہئے کہ مستقبل کیا ہے . فرد ہو یا قوم ……. ہر کسی کو دو دھڑوں میں سے کسی ایک کو چننا ہے . فتنے اور حادثے اتنے قریب جیسا فیض تحسین صاحب نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا :
مجھے محسوس ہوتا ہے ،
جہاں پرآنکھ جھپکوں گا ،
وہیں پر حادثہ ہوگا
یہ گھڑیاں فیصلہ کن ہیں ……. توبہ کے دروازے بند ہو جانے کا وقت قریب ہے …….. افراد کے لیے بھی ۔ اقوام کے لیے بھی ۔۔
اَعُوْذُبِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

اپنا تبصرہ بھیجیں