دوردجل اور دانشواران سوشل میڈیا ! – عصمت اسامہ




موجودہ دور کو سوشل میڈیا کا دور کہا جاتا ہے کیونکہ ہر چھوٹے بڑے کے پاس سمارٹ فون موجود ہے ، ہر طبقہ اور شعبۂ زندگی اس سے وابستہ( connected) ہے-سوشل میڈیا جہاں ایک سہولت ہے اور روابط میں اضافے اور فوری پیغام رسانی کا ذریعہ ہے ،وہیں اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہیں جن میں سے ایک “افواہوں کا سرعت سے پھیلنا” ہے –
چنانچہ جب ہمیں اپنے واٹس ایپ یا فیس بک پہ کوئی پیغام یا خبر پتہ چلتی ہے تو ہم اسے اپنے فرینڈز اینڈ فیملی کو فارورڈ کردیتے ہیں، جبکہ ہمارے پاس اس خبر کی تصدیق یا تردید کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا – یہ صورت حال معاشرے کے لئے لمحۂ فکریہ ہے – کویئ پیغام آگے پہنچانے سے پہلے ہمیں رک کے سوچنا چاہیے کہ آیا یہ درست ہے یا نہیں ؟ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: “اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ،اگر تمہارے پاس کوئی فاسق ایک خبر کے ساتھ آۓ تو تحقیق کر لیا کرو کہ کہیں تم انجانے میں کسی قوم کو نقصان نہ پہنچا بیٹھو ، پھر تم اپنے کئے کے بعد شرمندہ ہونے والے ہو جاؤ. “(سورہ الحجرات ، آیت 6)
بغیر علم اور درست معلومات کے ، صورت حال یہ ہوجاتی ہے کہ کہیں کوئی بندہ دنیا سے چلا گیا اور اس کی فوٹو کے ساتھ کسی کا بھی نام لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ شخص قاتل ہے اور اس نے ایک معصوم شخص کا قتل کیا ہے اور سوشل میڈیا پہ وہ پوسٹ وائرل کردی جاتی ہے بعض اوقات کسی انفرادی عمل کو کسی خاص طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے ، حالانکہ یہ کام بہت سنجیدگی اور غوروفکر کا متقاضی ہے . یہ کام عدالت اور جج کا ہے کہ وہ معاملہ کی تہہ تک پہنچیں اور کسی مقدمہ کا فیصلہ گواہیوں ، ثبوت اور شواہد کی روشنی میں کریں . اس صورت حال کو ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں :
“اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور اعتدال پر آگئے تو ہم نے انھیں حکم (یعنی نبوت )اور علم و دانش سے نوازا اور ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں اور موسیٰ شہر (مصر) میں داخل ہوۓ ، اسی حال میں کہ شہر کے باشندے غافل (سوۓ ہوۓ) تھے ، تو انھوں نے اس میں دو آدمیوں کو باہم لڑتے ہوۓ پایا ، یہ ایک تو ان کے گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ ( دوسرا ) ان کے دشمنوں میں سے تھا . پس اس شخص نے جو انھی کے گروہ میں سے تھا ، آپ سے اس شخص کے خلاف مدد طلب کی جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا ، پس موسیٰ نے اسے مکا مارا تو اس کا کام تمام کردیا ، فرمانے لگے کہ یہ شیطان کا کام ہے ،
بے شک وہ صریح بہکانے والا دشمن ہے . پھر دعا کی : “پروردگار ! بلاشبہ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ، لہذا مجھے معاف فرما دے چنانچہ اللہ نے اسے معاف کردیا . بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ، رحم کرنے والا ہے- پھر یہ عہد کیا کہ “پروردگار تو نے مجھ پر انعام کیا ہے تو میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا ، پھر وہ دوسرے دن صبح سویرے ڈرتے ڈرتے اور خطرے کو بھانپتے ہوۓ شہر میں داخل ہوۓ تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی ، (آج پھر) ان سے فریاد طلب کر رہا ہے – موسی ‘ نے جواب دیا :ت و تو صریح گمراہ شخص ہے “(سورہ القصص ، آیت 14 تا 18)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ،جسے مظلوم سمجھ کے اس کی طرف سے لڑے ،وہ مظلوم بھی ایک جھگڑالو انسان تھا ،جس کی حمایت میں نادانستہ طور پر ان سے ایک شخص کا قتل ہوگیا حالانکہ وہ اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ ایک مکے سے وہ مرہی جاۓ گا ! بعینہٖ ہمارے سوشل میڈیا کے دانشوروں کو بھی کسی واقعہ کا جب تک مکمل علم نہ ہو ،کسی پوسٹ کو وائرل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے_موجودہ حالات کے تناظر میں ، ہمیں شرپسند عناصر سے بہت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں تو نماز میں بھی صفیں درست رکھنے کی ہدایت ہے ، کوئی فتنہ پرداز ہماری جذباتیت سے فائدہ اٹھا کے انتشار پیدا نہ کردے – اللہ نہ کرے کہ ہم انجانے میں کسی قومی ادارے کی ساکھ خراب کرکے وطن کے نقصان کا ذریعہ بنیں – اللہ ہمیں فرقہ وارانہ کشیدگی سے بھی محفوظ رکھے ، ملکی وحدت و یکہتی کو برقرار رکھے – اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری عدالتوں کو کھرا اور فوری انصاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ معاشرے میں امن وسکون کا دور واپس آسکے – ایک سنہری قول ہمارے لئے مشعل راہ ہے :
“حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی دستور پر چلتا ہو ،عدل و انصاف سے پیش آتا ہو ،حق کا پابند ہو اور رضاۓ الہی کے لئے اپنے نفس کو مقید کئے ہوۓ ہو ” ( حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں