جشن آزادی اور ہم لوگ – عالیہ حمید




جی ٹھیک ہے کہ ہم اپنا جشن آزادی منا رہے ہیں اور بہت خوش ہیں ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہراتے نظر آئیں گے۔ ٹرکوں بسوں گاڑیوں کاروں موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں پر سبز جھنڈیاں لہرائی جائیں گی پرانے جھنڈے دھو کر لگائے جائیں گے . پھٹے ہوئے جھنڈوں کی قسمت بھی جاگے گی اور انہیں بھی اتار کر کسی تاریک گٹھری میں لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا ۔
وہ کہ جن کے چیتھڑے صبح شام کئی سرکاری عمارتوں تو پر بے ترتیب اڑتے پھرتے تھے اور پاکستان کے وقار پر دھبہ محسوس کرتے تھے اور انہیں شرم محسوس ہوتی تھی کہ ان کی طرف کوئی دیکھتا تک نہیں ان کو اتارنے کی زحمت تک نہیں کرتا اور یہ سوچتا ہی نہیں کہ اس سے پاکستان کے وقار میں کمی آ رہی ہے۔ وہ بھی گٹھری میں ابدی نیند سو کر سکون محسوس کریں گے۔ اور ان سرکاری عمارتوں کی قسمت بھی جاگے گی جن پر پورا سال دھول اور گرد پڑھتی رہی ان کو صاف کیا جائے گا چو نے میں ڈھک دیا جائے گا۔میل سے اٹی راہداریاں اور برآمدے دھو ڈالے جائیں گے۔کرسیوں کو جھاڑا پونچھا جائے گا۔نئے پن کا احساس ہوگا۔ ان کتابوں اور ڈائریوں کی قسمت بھی جاگے گی جن پر 14 اگست کے موضوع پر بڑی فصیح و بلیغ تقاریر لکھی ہونگی۔ہاتھوں سے تھپتھپا کر ان کی بھی گرد صاف کی جائے گی ۔ کھول کر تقاریر تلاش کی جائیں گی اور کاغذوں پر لکھ کر مقررین کے ہاتھوں میں تھما دی جائینگی۔
ان لوگوں کی قسمت بھی جاگے گی جو فن خطابت کے میدان میں تیر مارنے کے شوقین ہوتے ہیں اور وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لئے سارا سال انتظار کرتے ہیں۔ان کو بھی گلے پھاڑ پھاڑ کر کر اپنی قیمتی آراءوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔ اور ان شہدا کی قسمت بھی جاگے گی جنہوں نے وطن عزیز کے قیام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔انہیں بھی ماضی کی گہری کھائیوں سے نکال کر حال کی یادوں میں لایا جائے گا ۔خراج تحسین پیش کیا جائے گا دونوں ہاتھوں سے سلام کیا جائے گا درد ناک مرثیے پڑھے جائیں گے اور شام ہونے سے پہلے پہلے انہی گہرائیوں میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔ اور جاگے گی ان مہاجرین کی قسمت بھی جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر وطن عزیز کی خاطر ہجرت کر کے آ گئے ان کے مسائل مشکلات ان کی تگ و دو وطن عزیز میں انہوں نے کیسے اپنے قدم جمائے کیسے گھر بنائے ۔۔لمبے لمبے قصیدے پڑھے جائیں گے اور اور پھر سورج غروب ہونے کے قریب قریب بھلا دیے جائیں گے ۔
اور پھر ہماری ان کمیوں اور کوتاہیوں کی قسمت بھی جاگے گی جو ہم نے وطن عزیز کے حق میں کیں۔ہماری سیاہ کاریوں اور سرد مہریوں کی فہرست بڑی طویل ہو جائے گی۔اس طویل فہرست پر بڑے بڑے سیمینار منعقد ہوں گے لمبی چوڑی تقاریر چھوڑی جائینگی۔پھر سیاہ کاریوں اور کوتاہیوں کی ان لمبی لمبی تقاریر کی باقیات کو فائلوں میں بند کر کے الماریوں میں سجا دیا جائے گا اور جاگے گی میرے پیارے اقبال کی قسمت بھی ۔ہاں یاد آئے گا ہمیں کہ وہ مصور پاکستان ہیں۔وہ شاعر مشرق ہیں ان کی شاعری ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے امت کی بیداری کے لیے اپنے قلم کو تلوار کر لیا ۔۔ ہاں ہمارے تمام مسائل کا حل ان کے شاعری کے اندر چھپا ہے۔ مگر شام کے بعد ہی ہمیں اقبال کا فلسفہ بڑا ثقیل اور بڑا گھمبیر اور سمجھ سے بالاتر محسوس ہونے لگے گا۔۔
اور پھر جاگے گی میرے قائد کی میرے بابا کی قسمت بھی ۔۔کیسے کیسے موتی ہوں گے جو ان کی شان میں بکھیرے جائیں گے۔ایک ایک موتی کئ کئی لاکھ کا ہوگا ۔اور پھر سورج غروب ہونے سے پہلے ان قیمتی موتیوں کو دوبارہ ریشم و اطلس سے مزین خوبصورت جیولری باکسز بند کرکے بڑی بڑی مضبوط الماریوں میں لاک کر دیا جائے گا۔ہاں تو قیمتی چیزوں کی حفاظت زندہ قومیں ایسے ہی کیا کرتی ہیں قیمتی چیزیں استعمال کے لئے تو ہوتی نہیں انہیں تو بڑے مضبوط حصاروں اور پہروں میں رکھا جاتا ہے۔ ہاں قسمت تو سب کی جائے گی لیکن کب جاگے گی میرے پیارے پاکستان کی قسمت ؟؟؟؟؟ یہ کسی کو نہیں پتہ ؟؟؟؟؟ ہے کوئی جس کو پتہ ہو تو بتائے؟؟؟؟ یوم آزادی کے موقع پر یہ تلخ اور طنزیہ باتیں شاید آپ کو بری لگیں لیکن یہی حقیقت ہے جو ستر سال سے ہم دیکھتے آرہے ہیں سنتے آ رہے ہیں۔
اس بار ہم کوئی تقریر نہیں سننا چاہتے ہم کوئی تعریف نہیں سننا چاہتے ہم کوئی تنقید نہیں سننا چاہتے۔ خدارا انگریزوں کو گالی دینا , ہندوؤں کو کوسنا اور ماضی کی تلخیوں کو دہرانا چھوڑ دیں ۔صرف اور صرف اپنے گریبان میں جھانک لیجئے۔۔عمل کا ارادہ کیجئے اور صبح آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی عمل شروع کر دیجیئے۔ سب کو یوم آزادی مبارک ہو۔ اللہ تعالی ہمیں ایک باشعور قوم بنائے جو اپنے حقوق اور اپنے فرائض کو اچھی طرح سمجھتی ہو۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں