کراچی والو! مجھے تم سے پیار ہے – زبیر منصوری




کبھی سوچا ہے …….؟ ان حالات میں کراچی میں جو نسل پروان چڑھ رہی ہے وہ کیسی ہو گی؟
جسے ایم کیو ایم نے اسلحہ، بوری ،بند کالج ،ہڑتالیں اور سیکٹر و یونٹ کا خوف دیا . جسے پی پی نے شدید نفرت تعصب بدترین سرکاری ملازمین اور فنڈز کا غصب دیا . جسے پی ٹی آئی نے جھوٹے وعدے نالائق نمائندے بانجھ سیاسی کلچر اور جن کے خلاف ووٹ لیا انہیں سے اتحاد کا تحفہ دیا . جسے NDMA کے جنرل صاحب نے نالوں کی صفائی کا وہ لولی پاپ دیا جو پہلی بارش میں ہی سامنے آ گیا۔ ان کو کن ٹٹے کانے موٹے چھوٹے ملے ٹوٹی سڑکیں کچرے کے پہاڑ ویران پارک نصیب ہوئے۔ ایسے میں جو نسل پروان چڑھی اس کی نفسیات اور جذبات کیا ہوں گے؟ وہ خود کیا کرے گی؟
مگر میں پھر بھی سلام پیش کرتا ہوں اس نسل کو یہ پان کھا کر کونے میں پچکاری مارتی اور قہقہے لگاتی نکل جاتی ہے . یہ دن بھر بائیک ٹھیک کرتے گاڑیاں دھوتے یا رائیڈر کا کام کرتے ہین اور شام کو کوئٹہ وال کے ہوٹل پر ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنستے اور زندگی کو انجوائے کر لیتے ہیں . ان کی اکثریت کبھی حیدرآباد سے آگے نہیں گئی گلشن معمار کے موڑ پہ ان کی دنیا ختم ہو جاتی ہے مگر یہ بارش کے پانی میں شلوار پھلا کر تیرتے اور کمراٹ و سوات کے دریاؤں میں نہانے کا مزہ لے لیتے ہیں
14 اگست کو بائیک کا سائیلنسر نکالتے اور رات بھر سڑکیں ناپتے ہیں اور اگلے دن پھر گدھا مزدوری میں لگ جاتے ہیں . یہ اب عمران و اسد عمر مراد علی شاہ اور مصطفی کمال کے بھاشن سنتے اور دل میں کہتے ہیں . ” ابے سب پاگل بناتے ہیں اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ہٹاؤ سالوں کو دو پان دینا ڈبل پتی راجہ جانی کے” …..! ان کی ایک کلاس پڑھا کو بنتی ہے اور “پاکستان سے زندہ بھاگ “کو مشن بنائے ہوئے ہے تو ایک پل کے اس پار ڈیفنس شفٹ ہو کر اس سب سے نجات کے خواب دیکھ رہی ہے۔۔
یہ میرے پیارے کراچی والے ! اس سب سے گزرتے ہیں مگر بس چلے جاتے ہیں نہ خود سے امید چھوڑتے ہیں نہ اب کسی اورسے امید لگاتے ہیں . یہ بہنوں کی شادیوں کے جہیز جمع کرتے کرتے خود بال سفید کر لیتے ہیں تو باپ بیمار پڑ جاتا ہے اور ساری جمع پونجی اس کے علاج پر لگا کر پھر جوڑ توڑ میں لگ جاتے ہیں .
اے اہل زمانہ قدر کرو ! اے ظالمو شکر کرو ! یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں نکل کر وزیراعلی ہاؤس کو آگ نہیں لگاتے . گورنر ہاؤس کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجاتے . یہ بہت ہوتا ہے تو کے الیکٹرک کے دفتر کو چار پتھر مار کر لوٹ آتے ہیں کہ پکڑے گئے تو کل چھڑانے والا کون آئے گا۔۔۔
میرے کراچی والو ……… تم جیسے بھی ہو ………… مجھے تم سے پیار ہے۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں