حاصل سے لاحاصل تک – ماہم کیلانی




انسان فطرتاً طَوقِ غُلامی میں جکڑا ہوا ہے ۔ یعنی اگر اسے غلامی پسند کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ اس کی بنیاد ، شناخت اور اصل کے تانے بانے اسی غلامی میں الجھے ہیں ۔ یہی غلامی اس کے لیے باعثِ سعادت اور یہی حد بندی اس کے واسطے باعثِ افتخار ہے ۔ غلامی کا یہ عنصر انسان کے خمیر میں اس طرح گوندھ دیا گیا ہے کہ جو نہی وہ اس سے فرار حاصل کر نے کی کوشش کرتا ہے تو اس قبیح فعل کے نتیجے میں بےچینی ، بےیقینی ، مایوسی ، خوف ، اضطراب اور بےسکونی اس کے دل میں گھر کر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
یوں محفلیں کانٹوں کی سیج ، خوشیاں غم و اندوہ کا پیکر اور زندگی آزمائش مسلسل کا روپ دھار لیتی ہے۔۔۔۔ کیوں؟ کیونکہ جو غلام اپنے آقا سے غداری اور بےوفائی مول لے وہ درحقیقت بذاتِ خود اپنی ذات، قوانین فطرت اور تخلیق انسانی سے بغاوت کا مرتکب ٹھہرتا ہے ۔ انسان کی بقا اسی غلامی کو تسلیم کرنے اور اپنانے میں مضمر ہے ۔ اس سے بھاگے گا تو بےنشاں ہو جائے گا، مٹ جائے گا ۔ اپنی پہچان و شناخت کھو دے گا ۔ لیکن اگر اپنے آقا کے عنایت و اکرام کے بدلے اپنا قیمتی وقت ، رشتے ، اثاثہ اور صلاحیتیں وقف کر کے ایفائے عہد کے تقاضہ جات کو بر لائے گا تو کسی نہ کسی طرح سہی مگر یقیناً ایک نہ ایک دن حقیقی کامرانی ، مقصد حیات اور مالک کل کو پا لے گا ۔ فرمانبردار ، فرمانبرداری کا انعام پا ہی لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس فرمانبرداری کا انعام رب ہو اس کی عظمت و رفعت کے بارے میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔ کہ جسے رب مل گیا اسے سب مل گیا۔
مگر افسوس کہ انساں بڑا ناداں ہے۔۔۔ کیسے ہی گھاٹے کا سودا کرتا ہے ۔۔۔ ہمیشہ حاصل، لاحاصل کی کشمکش میں گرفتار رہتا ہے۔۔۔۔خواہش سے حاصل تک تکمیلِ سفر کی تھکان اس کی تشنگی کو دوچند کر دیتی ہے۔۔۔۔یوں ایک حاصل مزید کئی خواہشات کے در وا کرتا چلا جاتا ہے گویا یہ لامتناہیت پر مبنی سلسلے کا ایسا جال ہے جس کے دام میں الجھنے والا سلجھاؤ کی تمام تدبیریں ، اختیارات اور واپسی کے تمام راستے کھو بیٹھتا ہے ۔ مختصراً یہ پیاس کی وہ منزل ہے جو دور سے دلکش و دلنشیں سہی مگر قریب سے انتہائی بھیانک اور کریہہ ہے۔۔۔۔۔
حاصل و لاحاصل کے شکنجے میں جکڑا اور خواہشات کی تقلید میں اندھا دھند بھاگتا انسان اپنے آقا کی حدودِ اطاعت سے بہت دور نکل جاتا ہے ۔۔۔۔ اتنا دور کہ حلال و حرام ، جائز ناجائز ، صحیح غلط ، اچھائی برائی ، حق و باطل اور نیکی و بدی کے تمام تصورات اس کی خواہشات کے خود ساختہ سانچوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔ یہی ناآسودہ خواہشات اس کے فکر و فن ، علم و عمل ، اخلاق و کردار اور عادات و اطوار کی تمام باگ ڈور نفس کے ہاتھوں میں کچھ اس طرح تھما دیتی ہیں کہ پھر سماعت وہی سنتی ہے ، آنکھ وہی دیکھتی ہے، ذہن وہی سوچتا ہے اور قلب وہی چاہتا ہے جو اسے اس کا نفس آراستہ کر کے دکھاتا ہے۔۔۔۔ آخرش محبوب اور مذموم کے تمام معیارات رضائے خداوندی کے بجائے رضائے نفس کے تابع ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
بظاہر یہ خواہشات ادنی و حقیر سہی مگر اپنے اندر بڑے پیمانے پر تباہ کن نتائج سمیٹے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس قدر تباہ کن کہ آن کی آن میں آپ کا ایمان ، عمل اور کردار اس تباہی کی زد میں آ کر خاکستر ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔ لہذا اپنی معمولی خواہشات کا بھی محاسبہ اور تزکیہ کرنا مت بھولیں ۔دل کے دروازے پر نگہبان بن کر بیٹھ جائیں ۔ وقتاً فوقتاً اپنے باطن کو ٹٹولتے رہیں ۔۔۔۔ ہر عمل ، ارادہ و نیت کو دین کے قائم کردہ میزان عدل میں تولتے رہیں ۔ نفس کو اپنے تابع رکھیں ۔ روح کے اضطراب سے چھٹکارا پانے کی خاطر عارضی اور مادی وسائل و ذرائع میں پناہ ڈھونڈنے کے بجائے اس بےقراری کو اپنے آقا کی اطاعت کا مرہم عطا کیجیے۔۔۔۔۔
جان لیجیے کہ رحمان کی غلامی ہی آپ کا نجات دہندہ ہے ۔ اس غلامی سے فرار کی کوشش ، بغاوت ، سرکشی اور غداری کی دوسری صورت ہے اور جو رب سے غداری مول لے اس کے لیے دنیا و آخرت میں کہیں کوئی پناہ نہیں!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں