زاویہِ نگاہ – ہمایوں مجاہد تارڑ




نیچے تصویر میں دئیے image quote والے پیغام کو سادہ لفظوں میں یوں لکھا جائے گا : “حالات کا شکوہ نہ کریں، بلکہ خود مضبوط رہیں۔”
یہ عمومی سا اظہار ہے۔ کوئی جملہ زیادہ پُر اثر ہوتا ہے۔ اپنے صَوتی حُسن اور پیغام کی سپرٹ کی بنا پر وہ ایک ‘ قولِ زرّیں’ کا سٹیٹس پا جاتا ہے۔ بظاہر یہ فن کاری لفظوں کی جداگانہ ترتیب کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے، یعنی بس لفظوں کو شَفل کر دیا تو عام بات خاص بات بن گئی۔ مگر اصلاً وہ خاص پن perspective ہوتا ہے۔ پرسپیکٹو کیا ہے؟
اس کے لیے اردو میں ‘نقطہِ نظر’ اور ‘زاویہِ نگاہ’ ایسے الفاظ ہیں تو انگریزی میں سٹینڈ پوائنٹ، پوزیشن، اور ویُو پوائنٹ ایسے مزید الفاظ . ایک سڑک پر بڑا سا افغانی ٹرک کھڑا ہے۔ آپ اُسے اس کی بائیں جانب سڑک کنارے کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ ایک دوسرا شخص ساتھ والے پلازہ کی تیسری منزل پر بیٹھا اُسےکھڑکی سے دیکھ رہا ہے۔ ایک تیسرا فرد اُسے سامنے سے دیکھتا ہے تو چوتھا فرد اپنی کار میں سوار اُسے اوورٹیک کر رہا ہے۔ اِن میں سے ہر فرد کو وہ ٹرک کچھ کچھ مختلف دکھائی دے گا۔ نیز، اپنا اپنا مَن بھی تو ہے۔ کوئی اس کی رفتار کو غور سے دیکھے گا تو کوئی اس کے سنگھار کو۔ تیسرے فرد کی دلچسپی اس پر لکھی تحریر کے متن میں ہو سکتی ہے، جبکہ چوتھے فرد کی نظریں اس کے ٹائروں کی تعداد اور کوالٹی پر گڑی ہوں گی۔
المختصر، آپ کس مقام پر کھڑے ہو کر کوئی منظر دیکھتے ہیں، اس منظر کا کون سا پہلو آپ کی دلچسپی کا باعث بنتا ہے، آپ کا پرسپیکٹو یا زاویہِ نگاہ ہے۔ کوئی پُر اثر جملہ strike کرے تو جان لیں کہ کہنے والے نے وہی عام سا منظر، اپنی چشمِ تصوّر سے، کسی خاص پوزیشن یا مقام پر کھڑے ہو کر دیکھ لیا ہے۔ اس میں لفظوں کی برت اسی مناسبت سے ہو گی۔ کہنے والے کی تخیّلاتی قوّت نے وہ منظر جیسا دیکھا، ویسے ہی label کر ڈالا، اسے کیپشن دیا۔
‘اپنی اصلاح کرو۔’ یہ عمومی معیار کا اظہار ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں، کہنے والے نے اسے کیسے خاص بنا دیا:
Edit your life frequently and ruthlessly. It’s your masterpiece after all.
پرسپیکٹو / زاویہِ نگاہ:
کہنے والے نے زندگی کو تحریر/عبارت کے بطور دیکھا ہے جسے ایڈٹ کیا جاتا ہے۔ بار بار کی قطع و برید کے بعد اُس تحریر کو لفظ ‘شاہکار’ / ماسٹر پِیس کے ساتھ لیبل کرتے ہوئے جذبات کو انگیخت کیا گیا ہے۔ ‘سچ’ کے موضوع پر آپ خود کوئی جملہ سوچیں۔ اب یہ پڑھیں:
جُھوٹا آدمی کلامِ الٰہی بھی بیان کرے تو اثر نہ ہو گا۔صداقت بیان کرنے کے لیے صادق کی زبان چاہئیے۔ سچ وہ ہے جو سچے کی زبان سے نکلے۔جتنا بڑا صادق، اتنی بڑی صداقت! (واصف علی واصف)
پرسپیکٹو/زاویہِ نگاہ:
سچی/اچھی بات کے اثر کو اچھے آدمی کے وجود ساتھ مشروط کر کے دیکھا جا رہا ہے۔ دو متضاد اشیا کو اکٹھا کر کے دکھانے والا فِگر آف سپیچ antithesis استعمال ہوا ہے۔
‘قول و فعل میں مطابقت پیدا کرو’ یا ‘نماز پڑھو، نماز قائم کرو’ عمومی اظہار ہے۔ اب یہ پڑھیں:
مسجد کے اندر کی زندگی، مسجد کے باہر کی زندگی کے برابر ہو جائے تو نماز قائم ہو گئی۔ (واصف علی واصف)
پرسپیکٹو/زاویہِ نگاہ:
عبادت اور عملی کردار کو یکساں معیار پر دیکھنا۔ اس مقصد کے لیے نماز پڑھنے کے عمل کو ‘مسجد کے اندر کی زندگی’ کے ساتھ لیبل کر دیا۔ روزمرّہ لین دین والے تعامل اور کردار کو ‘مسجد کے باہر کی زندگی’ کے ساتھ لیبل کیا۔ بیان میں شعروشاعری والے ہم وزن الفاظ یعنی rhyming words کے ساتھ میوزک پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں بھی antithesis کا استعمال ہے، یعنی زور پیدا کرنے کومتضاد اشیا/خصوصیات کوایک مقام پر یکجا کرکے دکھانا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں