پِگھلنا اُس پہاڑ کا – ہمایوں مجاہد تارڑ




کبھی unruly قسم کے ایک عدد خود سَر بچے سے آپ کا واسطہ پڑا ہو؟ خیر، برسوں گذرے، تب میں کڑیل جوان تھا۔ ایک سکول میں ایک بچہ دیکھا . وہی جسے پرابلیمیٹک چائلڈ کہا جاتا ہے: باتونی، کام چور، اوپر سے خود سَر اور “بےخوف”۔ ظاہر ہے، بچوں کی اس سے متعلق شکایات الگ تو ٹیچرز الگ سے مشتعل ہوئے جاتے ۔۔۔ المختصر ، اس لڑکے سے نمٹنا ایک کارِ دشوار تھا۔ مَیں خود ڈانٹ ڈپٹ کر، رعب جما کر ہی کام چلایا کرتا۔ اُدھر فی میل ٹیچرز کے بس کی بات ہی نہ تھی۔
البتہ ایک لیڈی ٹیچر نے مجھے حیران کیا۔ ایک روز کوئی مسئلہ الجھ گیا، یعنی سنگین نوعیت کا تھا۔ بات بڑھ گئی تو کوآرڈینیٹر نے کہا اسے مِس سحر (یہاں فرضی نام) کے پاس لے جائیں۔ مجھے بھی اسی کلاس روم میں بلا لیا گیا۔ میں مِس سحر کی شخصیت کے اس پہلو سے ناواقف تھا، یعنی عمدہ کونسلنگ والی صلاحیت و قابلیت ، اگرچہ اتنا دیکھ رکھا تھا کہ اُس کی زبان، اس کی تہذیب جداگانہ تھی۔ مثلاً چلنے کا انداز، مڑ کر دیکھنے، بات کرتے ہوئے لفظوں کو articulate کرنے، کچھ ایکسپلین کرتے یا بات کرتے میں بالکل سافٹ لفظوں کا انتخاب اور سافٹ ڈیلیوری، اپنے مخاطب کو خاموشی سے بہ دھیان سُن کر مناسب سا جواب دینے میں ایک خاص جینیٹک میک اپ اور گرُومنگ والا charisma جھلکتا اور متاثر کرتا۔ باقی سب ٹیچرز tensed نظر آتے تو مِس سحر کے پرسکون دِکھتے چہرے پر تبسّم ۔۔۔ خیر، اس نوع کی پیچیدگی کو وہ ایسی آسانی سے ہینڈل کر لے گی، اس کا مجھے اندازہ نہ تھا۔ پرانی بات ہے، اس لیے ٹھیک سے یاد نہیں مسئلہ تھا کیا، اور مِس سحر نے بچے کے ساتھ precisely کیا سوال و جواب کیے تھے، مگر انجامِ کار بچے کا سہم کر، شرمندہ سا ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کر جانا اب بھی یاد ہے۔
نفسیاتی حربے تھے، جیسے:
پہلے تو حال احوال پوچھ لیا، جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ بچے کا تَنا ہوا جسم فوراً ڈھیلا پڑ گیا۔ پھر اس کی گیم کی تعریف کر دی, جیسے ‘کمال باؤلنگ کرتے ہو۔ کہیں سے سیکھی ہے یا بس نیچرل ٹیلنٹ ہے؟’ ماحول خوشگوار ہو گیا۔ تب اُس مخصوص ایشو پر آ کر اسے خوب بولنے کا موقع دیا، اور مداخلت کیے بنا وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ اگلا مرحلہ acknowledgement دینے اور لفظوں کو rephrase کرنے کا تھا ۔ یعنی بچے کو جس بات پر تکلیف تھی، غصہ تھا، اس کا اعتراف، ‘ہاں، کوئی آپ کے ساتھ ایسا کرے تو دُکھ تو ہوتا ہے نا پھر۔’ (حالانکہ بنیادی غلطی اسی شیطان کی تھی!) اور جو سخت لفظ اس بچے نے بولے ، انہیں شائستہ لفظوں میں دوہرا دیا ۔ تب یہ جملہ ‘ویسے ہم ایک دوسرے سے جھگڑتے اس لیے ہیں کہ ایکدوسرے سے expectations بہت ہوتی ہیں۔’
سکوت …….. کچھ دیر خاموشی چھائی رہی ۔ وہ کبھی کھڑکی کی جانب دیکھتی، کبھی نیچے، کبھی بچے کے چہرے کی طرف …….. تب نتائج سے خوفزدہ کرنے کو بارُعب آواز میں دو تین جملے جو براہِ راست بچے کو ہٹ نہیں کر رہے تھے، بلکہ بالواسطہ طور۔ تب ایک ادا سے یہ کہن ا، ‘بھلا میں آپ کی جگہ ہوتی تو کیا کرتی؟’ پھر یہ کہ ایسا کیوں کرتی ؟ یعنی ذرا اخلاقی اور فلسفیاتی ٹَچ ۔ “یہ بتاؤ، بہادر کون ہوتا ہے؟” ۔۔۔ بچے نے کچھ اوٹ پٹانگ بَک دیا۔ “ہوں ں ں ۔۔۔ اصل بہادر وہ ہوتا ہے جس میں شرم ہوتی ہے، احساس ہوتا ہے۔ گاٹ اِٹ ؟ یعنی اگر غلطی ہو جائے تو اعتراف کر جائے۔۔۔ وہ بہادر ہے۔ جو اِنکار کرتا ہے، وہ بزدل۔۔۔اندر سے ڈرا ہوا۔۔۔” (آخری الفاظ تیز آواز میں ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کرتے ہوئے۔ بچے کے سینے پر انگلی مار کر) بچے کو جھٹکا سا لگا ۔
پھر ، والدین کو آگاہ کرنے والی ‘دھمکی’ کا tool غیر محسوس طور ایپلائی کر جانا ۔ (ورنہ ایلیٹ سکولز کے بچے اس بات کی پروا نہیں کرتے ، الٹا اکڑ جاتے ہیں ۔ اُدھر ماں باپ کو جھوٹ موٹ کہانیاں سنا دیا کرتے ہیں ، یا ان بچوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ والدین بس ہماری طرفداری ہی کریں گے) ۔ تب آخری وار کے بطور یہ سوال کہ اگر اس ساری سیچویشن کو رِی پلے کریں تو بتاؤ اب کیا کرو گے؟ گریڈ 8 کا وہ بچہ اَنا و خود سری کا پہاڑ تھا ۔ وہ پہاڑ میں نے اپنی آنکھوں پگھلتے دیکھا ۔ ایک نئی بصیرت insight میسر آئی ۔ اگرچہ سنگین نوعیت کے معاملات میں بچے سکول سے خارج بھی کیے جاتے ہیں ، یا ایک دو روز کے لیے suspend کر دئیے جاتے ہیں ، مگر بیشتر معاملات میں اِن اداروں میں سزا کی بجائے کونسلنگ دینے کا رواج ہے۔
کونسلنگ کیا ہے؟ ایک فن ہے۔ دُنیائے کونسلنگ کے ، یعنی پُربصیرت رہنمائی فراہم کرنے کے اپنے کچھ tools ہیں ۔ اِن آلات کو ماہرانہ طور برتنے کی ٹیکنیکس ہیں ۔ نیز ، مکینک بھی اچھا چاہیے ، یعنی ایک charismatic شخصیت کی دستیابی الگ سے ضروری ہے ۔ بچے کے تعلیمی و تربیتی سفر میں ایسے متوازن الطبع اور سمجھ دار استاد کا میسر آنا نعمتِ عظمیٰ ہے ۔ بچوں کے حق میں دعا فرمائیں ۔ عمران خان کے حق میں بھی کہ وہ کسی طور ایسے اساتذہ مہیا کرنے والی فیکٹری لگا جائے ۔ قوم کی تعمیر اس بِنا ممکن نہیں۔ ⁦

اپنا تبصرہ بھیجیں