کیا ہے realistic approach ؟ – ثریا ملک




میری بہت پیاری دوست کو کان میں تکلیف ہوئی ، وہ ڈاکٹر کے پاس گئی . کچھ ٹیسٹ ہوئے ، جس دن رپورٹ لینے گئی ، اس دن ڈاکٹر صاحب نے ان سے straight forward کہا کہ “بی بی اپنے کام سمیٹو” میری دوست جو گورمنٹ کالج میں میتھس کی پروفیسر تھی . اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا مطلب ہے …….آپ کی اس بات کا جوابا ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ بس آخری اسٹیج ہے . آپ کا اپنی مصروفیات کو کم کریں کاموں کو سمیٹیں ۔ آپ اندازہ کریں کہ وہ خاتون جو معمولی کان کے درد میں گئی ہو اس پر کیا بیتی ہوگی ۔
اس نے دوسرے اسپتال کا رخ کیا . جہاں علاج شروع ہوا لیکن پہلے ڈاکٹر کے اندازے سے پہلے ہی میری دوست کا انتقال ہوگیا ۔ یہاں بات یہ نہیں ہے کہ مریض کو حقیقت بتائی گئی بات یہ ہے کہ طریقہ گفتگو کیا تھا ؟ وہ اپنی موت سے پہلے ہی چلی گئی ۔ بچھلے مہینے ایک اور عزیز کولیگ کے شوہر کو اچانک بلڈ کینسر ڈائیگنوس ہوا . ابھی ابتدائی ٹیسٹ ہوئے تھے بلکہ کہہ لیں کہ انوسٹیگیشن ابھی جاری تھی ۔ ایک اور مشہور و معروف مہربان ڈاکٹر صاحب نے اتنی زیادہ حقیقت پسندی دکھائی کہ مریض کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ؟ آخر کیا ہے یہ سب ؟ کوئی طبی اخلاقیات نام کی چیز ہے اس ملک میں ؟ مسیحا اور اتنا ظالم اتنا جاہل ؟ کوئی کمیونیکیشن اسکلز نہیں ؟ آپ بلکل جھوٹ نہ بولیں لیکن اس سچ کو بیان کرنے کا بھی تو کوئی طریقہ ہو گا ۔
ہمارے جاننے والوں کے گھر خاتون کو کینسر ہوا شوہر نے بہت محبت سے علاج کرایا . اللہ نے صحت دی ، کچھ عرصے بعد دوبارہ مسئلہ ہوا ، ٹیسٹ ہوئے دونوں میاں بیوی گئے ، ڈاکٹر صاحب پھر حقیقت پسند ملے ایسی حقیقت بیان کی کہ شوہر اسی کمرے میں ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے ، بیگم چند مہینوں کہ بعد اللہ کے پاس چلی گئی . اب بچے ہیں ان کا تعلق گدو شہر سے ہے شوہر انجینئر تھے اور بیگم ڈاکٹر ۔ڈگری اس لیے بتا رہی ہوں کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ بیچارے ان پڑھ تھے ان کے ساتھ تو ظلم کی الگ داستان ہے۔ یقیناً سارے ڈاکٹرز ایسے نہیں ہوں گے لیکن اب تو یہ سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ جن ڈاکٹرز کے یہ کارنامے ہیں ان کا اور ان کے اسپتالوں کا نام میں نے ظاہر نہیں کیا کیوں کہ یہ objective ہی نہیں ہے اس رائٹنگ کا ۔
ہمارے سرکل میں جو ڈاکٹر حضرات تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہیں . خدارا آنے والے دور کے ڈاکٹرز کو ہی کچھ سکھا دیں کیوں کہ موجودہ تو اپنی عادت سے مجبور ہیں ۔ میرے بھی جو بھانجے بھتیجے ڈاکٹر بن رہے ہیں ، بیٹا خدارا ایسے مسیحا نہ بننا جو وقت سے پہلے ہی مار دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں