عمر بن خطاب ، رِزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن – ہمایوں مجاہد تارڑ




کسی قبیلے میں کوئی بندہ درخت کی مانند مضبوط اور سایہ دار ہوتا ہے ـــ
ابوبکر صدّیق ایسے ہی تھے، رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ ایک دوسرا خوش مزاج، سخی دل شخص بے آب و گیاہ صحرا میں نخلستان کی طرح ہوتا ہے ـ
عثمانِ غنی ایسے ہی تھے، رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ ایک اور فزیکلی ناتواں دِکھتا شخص باطنی اعتبار سے کوہِ گراں ہوتا ہے، ایک پوری کائناتِ علم وحکمت ہتھیلی پر لیے پھرتا ہے ـ
علی ایسے ہی تھے، رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ ⁦⁩ اب ایک اور شخص اسی قبیلے کا غرور ہوتا ہے ـــ اس کے لب و لہجہ کی دھمک، اس کا جاہ و جلال ۔۔۔ اس کی تَمکنت قبیلے کی بقا کی علامت بن جاتی ہے۔ عمر بن خطاب ایسے ہی تھے! ۔۔۔ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
عادل، جرّی، حق پرست، عاشقِ رسولؐ عُمر۔ وہ میرے رسولؐ کا غرور بنا ، رفیقانِ رسالت مآبؐ کے سہمے ہوئے دلوں کا سرور بنا ۔ عُمر، جو تھرتھراتی زمین پر دُرّہ مار کر اسے پُرسکون ہو جانے کا حکم دے تو زلزلہ زدہ زمین کو قرار آ جائے، جس کے اشارہِ ابرو سے دریا روانی پکڑ لے۔ اللہ پر ایسا اٹوٹ توکّل کہ خالد بن ولید ایسے سپہ سالار کو برطرف کردینے کا جواز یہ پیش کرے کہ ایسی فتوحات اللہ اور اس کے رسولؐ کا وعدہ ہیں۔ کہیں کوئی غلط فہمی نہ پھیل جائے کہ یہ سلسلہِ فتح و نصرت خالد (رض) کا مرہون ہے ۔ ایک طرف ‘دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں’ عُمر تو دوسری طرف دریائے فرات کنارے ایک کتّے کی امکانی موت کے احساس پر لرزاں عُمر!
ایسا منتظم نیلگوں فلک نے پھر نہ دیکھا ۔ سیدی! یہ اداس صدیاں آپ ایسے اللہ سے جڑے ہوئے باہمّت و باصلاحیت، دانا و متوازن الطبع حکمراں کو تلاش کرتی ہیں۔ ایک گنہ گار کا سلام!

اپنا تبصرہ بھیجیں